دوحہ میں ہونے والی بین الافغان کانفرنس منسوخ، امریکی مندوب کی مایوسی
- جمعہ 19 / اپریل / 2019
- 4770
افغان صدر کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 20 اور 21 اپریل کو قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والی بین الافغانی کانفرنس منسوخ کردی گئی ہے۔ بیان کے مطابق یہ کانفرنس قطر حکومت نے منسوخ کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر حکومت کی جانب سے کانفرنس کے شرکا کی افغان حکومتی فہرست سے مختلف فہرست بھیجی گئی تھی، جو افغان حکومت کو قابل قبول نہیں تھی۔ دوسری جانب افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ یہ کانفرنس منسوخ نہیں، ملتوی ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
جمعرات کو افغان حکومت کے ایک وفد نے خصوصی طیارے کے ذریعے کابل سے قطر کے دارالحکومت دوحہ جانا تھا لیکن وفد میں شامل ارکان کو ہوائی اڈے پہنچنے کے بعد سفر ملتوی ہونے کا پیغام ملا۔ افغان حکومت نے اس کانفرنس کے لئے 250 رکنی وفد کا اعلان کیا تھا۔
17 اپریل کو جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں افغان طالبان نے افغان حکومت کے تجویز کردہ وفد پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کوئی شادی کی تقریب نہیں جس میں اتنا بڑا وفد شرکت کررہا ہے۔ ’افغان حکومت ایسے اقدامات سے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ کیونکہ وہ مذاکرات میں پیش رفت سے ڈرتی ہے‘۔ افغان طالبان کے مطابق وہ افغان حکومت کی فہرست میں شامل صرف اُن اشخاص سے ملیں گے، جن کے نام اجلاس کے منتظمین کی لسٹ میں شامل ہیں۔
افغان طالبان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں کوئی بھی شخص افعان حکومت کی نمائندگی نہیں کرے گا اور حکومتی ارکان بھی ذاتی حیثیت سے کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ اُدھر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے بھی بدھ کو کابل میں افغان حکومت کی جانب سے بنائے گئے وفد کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے اُن کو افغان حکومت اور افغان عوام کا نمائندہ وفد قرار دیا تھا۔
اس سے قبل رواں سال فروری میں انٹرا افغان کانفرنس روس کے شہر ماسکو میں ہوئی تھی، جس میں افغان سیاستدانوں نے شرکت کی تھی، لیکن اُس کانفرنس میں افغان حکومت کا کوئی وفد شامل نہیں تھا۔
امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے پانچ دور ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک امریکہ ان مذاکرات میں افغان طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے آمادہ نہیں کرسکا ہے۔
افغان طالبان کی طرف سے غیر ملکی افواج کے خلاف نئے حملوں کے اعلان کے بعد پاکستان نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ جنگ میں شدت آنے سے ’امن عمل کے ناکام ہونے کا خطرہ ہے‘۔
جمعرات کو اسلام آباد میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغان تنازع کے تمام فریق امن کو موقع دے کر مذاکرات جاری رکھیں کیوں کہ ان کے بقول افغانستان میں امن و استحکام بات چیت ہی سے آ سکتا ہے۔