وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے بارے میں قیاس آرائیاں
- جمعہ 19 / اپریل / 2019
- 6560
وفاقی وزیرِ خزانہ اسد عمر کے استعفے اور وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کے بعد پنجاب حکومت میں بھی تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں انتظامی مسائل کے علاوہ بیوروکریسی کا عدم تعاون، پولیس حکام کی بار بار تبدیلی، ترقیاتی کاموں کی بندش اور صوبائی حکومت کے معاملات میں وزیرِ اعظم کی براہ راست مداخلت کے باعث 10 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے میں مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔
پنجاب میں تحریکِ انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے نو ماہ ہونے کو ہیں۔ لیکن سیاسی مبصرین کے نزدیک حکومت اس عرصے کے دوران کوئی ایسی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکی جس سے عوام کو یہ تاثر ملے کہ موجودہ حکومت سابق حکومت سے بہتر ہے۔ سابق نگراں وزیرِ اعلی پنجاب اور سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کے بقول پنجاب میں تبدیلی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن ان کے بقول تاحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ تبدیلی کس نوعیت کی ہوگی۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے جب عثمان بزدار کو وزیرِ اعلی پنجاب نامزد کیا تھا تو یہ کہا تھا کہ وہ 'وسیم اکرم پلس' ثابت ہوں گے۔ لیکن سیاسی مخالفین کہتے ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ کی نو ماہ کی کارکردگی ان دعوؤں کی نفی کرتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک احمد خان کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت وزیرِ اعظم ہاؤس سے چلائی جا رہی ہے اور صوبے میں وزیر اعظم کے دو نمائندے وائسرائے کی طرح پنجاب کے معاملات چلا رہے ہیں۔
اس دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، گورنر پنجاب چوہدری سرور اور پنجاب حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین پر پنجاب کے انتظامی معاملات میں مداخلت کے الزامات بھی زبان زدِ عام ہیں۔
بدعنوانی کے الزامات کے باوجود پنجاب میں شہباز شریف کے 10 سالہ دورِ اقتدار میں انفراسٹرکچر کی ترقی کو عام طور پر سراہا جاتا ہے اور ان کی شہرت غیر معمولی طور پر فعال وزیرِ اعلیٰ کی تھی۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتے رہے ہیں کہ کیا تحریکِ انصاف کی حکومت وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار کی قیادت میں شہباز شریف کے دورِ حکومت کا مقابلہ کرسکے گی؟
ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق پنجاب اسمبلی میں تحریکِ انصاف کے پاس کوئی ایسا رکن موجود نہیں جس کا پنجاب کی سطح پر کوئی سیاسی قد کاٹھ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے لیے پنجاب جیسے صوبے پر اپنی گرفت قائم رکھنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔