میرا کام پاکستان کو جتوانا ہے، جو کام نہیں کرے گا اسے تبدیل کردوں گا: عمران خان
- جمعہ 19 / اپریل / 2019
- 5920
وزیراعظم عمران خان نے متنبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی کابینہ میں تبدیلیاں کرسکتے ہیں۔ کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں پرت تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو وزیر ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا اسے تبدیل کردوں گا۔ میں نے ٹیم کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کیا ہے۔ اس وزیر کو لاؤں گا جو ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
اورکزئی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے مختلف معاملات پر بات کی اور کابینہ میں تبدیلیوں کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک اچھا کپتان مسلسل اپنی ٹیم کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اچھے کپتان نے میچ جیتنا ہوتا ہے اور اس کے لیے ٹیم پر نظر رکھنی پڑتی ہے جبکہ کئی مرتبہ بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنا ہوتا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا مقصد ہے کہ میں اپنی قوم کو جتاؤں اور اٹھاؤں۔ میں اللہ کو جوابدہ ہوں۔ اللہ مجھ سے چاہتا ہے کہ میں ملک کے کمزور لوگوں کو اٹھاؤں یہ میرا مقصد ہے۔ اس کےلیے ابھی اپنی ٹیم میں تھوڑی تبدیلی کی ہے اور میں آگے بھی کروں گا۔ تمام وزرا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو میرے ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا، اسے تبدیل کرکے وہ وزیر لاؤں گا جو ملک کے لیے فائدہ مند ہو۔ ہم اللہ کو جوابدہ ہیں۔ ملک یا صوبے کا سربراہ بننا بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں کمزور طبقہ دو وقت کی روٹی نہیں کھا پارہا۔ بچے تعلیم نہیں حاصل کر پارہے۔ ہسپتالوں میں علاج نہیں ہورہا۔ ادویات کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو اللہ ہم سے جواب مانگے گا۔ لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی ٹیم پر نظر رکھیں اور جو کارکردگی نہیں دے رہا اس کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کریں یا نیا کھلاڑی لے کر آئیں۔
قبائلی علاقوں کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہوئی تو میں نے کہا تھا کہ امریکہ کے کہنے پر پاکستانی فوج کو یہاں نہ بھیجا جائے کیونکہ قبائلی علاقے کے عوام ہی ہماری فوج تھی لیکن بدقسمتی سے اس وقت کے حکمران کو ان علاقوں اور یہاں کی روایات اور تاریخ کا پتہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس میں پاک فوج کا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ اس حکمران کا تھا جس نے امریکہ کے کہنے پر فوج کو قبائلی علاقے میں بھیجا۔ اس میں ہمارے جوان بھی شہید ہوئے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مین اس درد کو جانتا ہوں۔ میں قبائلی علاقوں میں پھر رہا ہوں کیونکہ ان کے درد کا احساس ہے۔ پاکستان کا کوئی وزیر اعظم اتنا ان علاقوں میں نہیں گھوما جتنا میں گھوم رہا ہوں۔
قبائلی عوام کے عوام کو یقین دلاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، گھر و کاروبار تباہ ہوئے اس پر ہم آپ کی مدد کریں گے اور یہاں کے عوام کی قربانیوں کو نہیں بھولیں گے۔
انہوں نے کہا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ایک نئی تنظیم ہے جو پشتونوں اور قبائلی علاقوں کی تکلیف کی بات کرتی ہے۔ وہ ٹھیک بات کرتی ہے کہ لوگوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ اور نقل مکانی کرنی پڑی اور جنگ میں بے قصور لوگ مارے جاتے ہیں لیکن جس طرح کا وہ لہجہ اختیار کررہے ہیں وہ ہمارے ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت تکلیف سے گزرنے والے لوگوں کو اپنی فوج کے خلاف کرنا، اس طرح کے نعرے لگانا، لوگوں کے دکھ و درد پر نمک چھڑک کر بھڑکانا اور کوئی حل پیش نہ کرنا ، اس سے پاکستان اور قبائلی علاقے کو کیا فائدہ ہوگا؟ برے وقت میں سب سے زیادہ میں نے آواز اٹھائی لیکن آج یہ سوچنا ہے کہ ہم نے آگے کیسے بڑھنا ہے۔ یہاں کے حالات کیسے بہتر کرنے ہیں، بچوں کو تعلیم دینی ہے، اصل چیلنجز یہ ہے۔
اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے سیاحت کے فروغ کا فیصلہ کیا ہے اور ان علاقوں میں سیاحت کے لیے سہولت پیدا کرنی ہے کیونکہ اس سے لوگوں کے لیے کاروبار اور نوکریاں بڑھتی ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سیاحت پر توجہ نہیں دی گئی لیکن ہماری حکومت اس پر توجہ دے گی تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو۔ میری حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ میں نے نوجوانوں کو نوکریاں دینی ہیں۔ انہیں سود کے بغیر قرضے دیے جائیں گے، اس کے علاوہ ہم نے انہیں ہنر سکھانا ہے۔
جلسے سے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک کی طاقت ہے کہ یہاں کے 60 فیصد لوگ 30 سال سے کم ہیں۔ اگر ہم انہیں ہنر سکھا دیں تو یہی اس ملک کو اٹھا کر کہیں سے کہیں لے جائیں گے، لڑکیوں کو اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی سکھادیں تو گھر بیٹھے کام کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ قبائلی علاقوں کو اوپر اٹھائیں، نوجوانوں کو تعلیم دیں، باہر سے سرمایہ کاری لائیں تاکہ یہاں سے نوجوانوں کو کراچی، اسلام آباد، پشاور نہ جانا پڑے۔ اور انہیں یہیں روزگار ملے۔
پاکستان کے سیاسی حالات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 10 برس میں جن لوگوں نے ہمارے ملک میں حکومت کی انہوں نے جس سطح کی چوری کی اس سے ملک کا قرض 6 ہزار سے 30 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا۔ 60 برس میں پاکستان کا قرض 6 ہزار ارب تھا جبکہ 10 برس میں اسے 30 ہزار ارب تک پہنچا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے ملک کو وہ نقصان پہنچا کہ ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے۔ اس ملک پر چڑھے قرض پر صرف ایک دن کا 6 ارب روپے سے زیادہ صرف سود دیا جارہا ہے۔ ملک مقروض ہے۔ اس طرح ان علاقوں پر پیسہ خرچ نہیں کرسکتا جیسا کرنا چاہیے تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے اوپر قرض اس لیے چڑھے کہ پرویز مشرف نے آصف زرداری کو بھی این آر او دیا اور سارے کیسز معاف کردیے۔ لیکن 2008 میں جب یہ واپس آئے تو ملک پر قرض چڑھنے اور ان کی دولت بڑھنا شروع ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ 3 مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہنے والے شخص کے بیٹے کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے شہری نہیں اور یہاں جوابدہ نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کہتے رہے کہ مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو نام بدل دینا لیکن اب ان کے اور ان کے اہل خانہ کی بھی کرپشن سامنے آگئی ہے۔ یہ تینوں خاندان امیر ہوگئے اور ملک مقروض ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ جب سے حکومت آئی ہے یہ سب کہہ رہے کہ ہماری حکومت ناکام ہوگئی۔ آصف زرداری اور ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت ہٹا دوں گا جبکہ دوسری طرف فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ میں حکومت گرادوں گا۔ سوال یہ ہے کہ 8 ماہ میں ہم نے ایسا کیا جرم کیا کہ ہماری حکومت گرادیں گے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ سب ایسا اس لیے چاہتے ہیں کہ کیونکہ روزانہ ان کی کرپشن کی داستان سامنے آرہی ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ عمران خان دو سال بھی رہ گیا تو یہ سب جیلوں میں چلے جائیں گے۔ جمہوریت خطرے میں نہیں آئی بلکہ آپ کا چوری کیا گیا پیسہ خطرے میں آگیا ہے۔