نا انصافی جاری رہے گی تو لہجہ بھی یہی رہے گا: پشتین
- ہفتہ 20 / اپریل / 2019
- 8810
پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے کہا ہے کہ ’جب تک پشتونوں کے ساتھ نا انصافی اور غلط کارروائی ہوتی رہے گی، ہم احتجاج کرتے رہیں گے‘۔ اُنہوں نے یہ بات جمعے کے روز وائس آف امریکہ کی ’ڈیوا سروس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے جمعے کو قبائلی ضلعے اورکزئی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پشتون تحفظ تحریک کے مطالبات درست ہیں لیکن اس کا لہجہ مسائل کھڑے کر رہا ہے۔ پی ٹی ایم کے لب و لہجے اور فوج پر بے جا تنقید سے پاکستان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
جب منظور پشتین سے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ جب تک زیادتی اور بے انصافی ختم نہین ہوتی ہمارا لہجہ اور طریقہٴ کار یہی رہے گا‘۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نے پی ٹی ایم کے معاملے پر لب کشائی کی ہے جسے ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ بارہا ریاست مخالف قرار دے چکی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان کئی بار کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی ایم ریاست مخالف بیانیے اور پروپیگنڈے کو ہوا دے رہی ہے اور اس کے خلاف ریاست اپنی طاقت استعمال کرسکتی ہے۔
منظور پشتین کا کہنا تھا کہ’ کون سا لہجہ صحیح ہے اور کون سا درست نہیں ہے؟ ہم نے کافی عرصے سے بیان بازی دیکھی ہے۔ لیکن ہمارے مسائل کو کسی نے حل نہیں کیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہماری سرزمین پر نہ ہمارے گھر محفوظ ہیں نہ ہماری عزتیں اور نہ ہی ہمارے بزرگ۔ اس بارے میں کسی نے نہیں کہا کہ یہ طریقہٴ کار غلط ہے؟‘
انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی کی پالیسیاں اور غلطیاں اب بھی جاری ہیں۔ پی ٹی ایم کے رہنما نے کہا کہ ’اگر ہم سچ بولتے ہیں تو پاکستان ناراض ہوتا ہے اور اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو خدا ناراض ہوگا‘۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ مہمند ضلعے میں اب بھی بھتہ وصول ہوتا ہے اور لوگ ہلاک کیے جاتے ہیں۔