اورماڑہ حملہ میں ملوث دہشتگردوں کے ٹھکانے ایران میں ہیں: وزیر خارجہ

  • ہفتہ 20 / اپریل / 2019
  • 6880

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے  کہا ہے کہ اوماڑہ حملہ میں ملوث بلوچ دہشت گرد تنظیموں کے الائنس بی آر اے کے تربیتی کیمپ ایران میں ہیں۔ اس سلسلے میں پڑوسی ملک کو قابل عمل معلومات فراہم کردی ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ علی الصبح بزی ٹاپ کے پاس پیش آیا، جہاں بسوں کو روکا اور لوگوں کی نشاندہی کے بعد 14 پاکستانیوں کو شہید کیا گیا۔ ان میں  پاکستان نیوی کے 10،  پاک فضائیہ کے 3 اور پاکستان کوسٹ گارڈ کا ایک جوان شامل تھا۔ اس واقعے پر ہمیں دکھ و تکلیف ہے کیونکہ جس بے دردی سے ہمارے سپاہیوں کو شہید کیا گیا، اس پر پوری قوم کو غم و غصہ ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ واقعہ کیوں ہوا اور کس نے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس حملہ کی ذمہ داری بلوچ الائنس بی آر اے قبول کی ہے جس میں مختلف بلوچ دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ یہ واقعہ بلوچ دہشت گرد تنظیموں کی کارروائی ہے اور اس نئے الائنس بی آر اے کے تربیتی اور لاجسٹکل کیمپ ایران کی سرحد کے اندر ہیں۔ر تحقیق و تصدیق کے بعد قابل عمل معلومات ایرانی حکام کے حوالے کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کیمپوں کے مقامات کی نشاندہی کردی ہے اور بتا دیا ہے کہ ان عناصر کے کیمپ کہاں کہاں ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ایران، پاکستان کے ساتھ ہمسائے اور برادرانہ تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے گا۔

گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ساتھ ہم افغان بھائیوں سے بھی کارروائی کی امید کر رہے ہیں کیونکہ بی آر اے کے تانے بانے افغانستان میں بھی جاتے ہیں اور ان کی قیادت وہاں موجود رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس واقعے کے مخصوص فارنزک ثبوت موجود ہیں جو ان مجرموں تک پہنچنے کے لیے استعمال کی جاسکتے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہم مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے پاکستان کی مکمل مدد کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ  ایران کے موقع پر اس بارے میں بھی گفتگو ہوگی۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاک ایران سرحد پر بھی باڑ لگانے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ بتدریج 950 کلومیٹر کی سرحد پرباڑ لگائی جائے گی۔ سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور ایسے عناصر موجود ہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نہیں چاہتے۔

پاکستان کے تینوں پڑوسی ممالک سے تعلقات کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمارا افغانستان سے مستقبل جڑا ہوا ہے۔ ایران سے بھی ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات بہتر ہوں تاہم کچھ پابندیاں آڑے آجاتی ہیں۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ بھی تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود ہمسائے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں اور ہم اس کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس دوران پاکستان نے بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں دہشت گردی کے نتیجے میں 14 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل پر ایران سے احتجاج کیا ہے۔  وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں احتجاجی مراسلہ اسلام آباد میں قائم ایرانی سفارتخانے کو بھیجا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے بھی ایران سے کئی مرتبہ مطالبہ کیا جاچکا ہے۔