آئی ایم ایف کے آخری پروگرام سے پہلے

  • تحریر
  • ہفتہ 20 / اپریل / 2019
  • 4610


عجیب اتفاق ہے کہ کئی ماہ سے جاری بے یقینی سے جان چھڑانے کے لئے وزیرِ خزانہ اسد عمر واشنگٹن سے آئی ایم ایف سے نئے قرض پروگرام کی تفصیلات طے کرکے اسلام آباد پہنچے تو اگلے روز ان کی وزارت ہی چھوٹ گئی۔ افواہیں تو چند ہفتوں سے گردش میں تھیں لیکن ٹائمنگ کے اعتبار اس خبر نے مالیاتی مارکیٹوں سمیت سب کو حیران کر دیا۔
آئی ایم ایف پروگرام پر حتمی مذاکرات اس ماہ کے آخر میں ابھی ہونا ہیں جس کے بعد یہ پروگرام آئی ایم ایف کے بورڈ کی آشیرباد سے دستیاب ہونا تھا۔ وزیر خزانہ کی تبدیلی کے ساتھ ہی وزیر خزانہ نے اپنی ٹیم میں وسیع پیمانے پر ردوبدل کر دیا۔ وزارتِ خزانہ کو منتخب وزیر خزانہ کی بجائے اب پی پی پی دور کے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ بطور مشیر چلائیں گے۔ کل کی باتیں اللہ ہی جانے لیکن پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کے اس چودھویں اور بقول سابق وزیر خزانہ اسد عمر آخری پروگرام کے لئے یہ شگون اچھا نہیں۔
شگون تو یہ بھی عجیب سا تھا کہ اس پروگرام کی منظوری کے بعد ہیڈ لائنز میں سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی یہ یقین دہانی تھی کہ آئی ایم ایف پروگرام کا عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اسی ہیڈ لائن کے بازو میں اوگرا کے چیئرمین کا بیان بھی تھا کہ جولائی سے گیس کی قیمتوں میں 80% اضافہ ہوسکتا ہے۔ ہمارے دوست عبدل کا خیال ہے کہ دونوں بیانات میں کوئی تضاد نہیں۔ اس لئے کہ حکومت کی نظر میں سب شہری خاص ہیں کوئی بھی عام نہیں۔ اور یہ کہ 80% اضافے کا بوجھ خاص ہی اٹھا سکتے ہیں ، بلکہ ستم ظریف نے ہمیں مبارک باد بھی ڈالی کہ اب ملک میں کوئی بھی عام آدمی نہیں ۔ اب اگر کوئی عام آدمی پر بوجھ کی شکایت کرتا پایا جائے تو اس کا تعلق لازماً اپوزیشن سے ہوگا۔
عام سے خاص آدمی کی بات چل نکلی ہے تو ایک اور خاص بات کا ذکر بھی اس سلسلے میں بے محل نہ ہوگا۔ دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں صنعتی پیداوار ( Manufacturing ) کا حصہ قومی پیداوار میں سال بہ سال بڑھ رہا ہوتا ہے۔ صنعتی پیداوار میں اضافہ اپنے ساتھ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری کے پھلاؤ کا باعث بنتا ہے۔ ان ہی چھوٹے اور درمیانے سائز کے صنعتی اداروں میں سے کچھ بڑے اداروں کی صف میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ روزگار پیدا کرنے کا سب سے بڑا وسیلہ صنعتی سیکٹر ہی ہوتا ہے۔ اسی سیکٹر سے برآمدات کو مضبوط بنیاد فراہم ہوتی ہے۔ پاکستان کی برآمدات گزشتہ ایک دہائی سے تقریباٌ ایک ہی لیول کے لگ بھگ منجمد ہیں اس کے برعکس جنوبی ایشیا میں بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ کیوں؟
اس کیوں کے یوں تو بہت سے جوابات ہیں لیکن اس وقت ایک بڑے فیکٹر کی طرف نشاندہی مقصود ہے ، اور وہ ہے قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں صنعتی پیداوار کے تناسب میں کمی۔پاکستان میں گزشتہ تین دہائیوں سے صنعتی پیداوار کا تناسب مجموعی قومی

پیداوار میں بڑھنے کی بجائے کم ہو رہا ہے۔ ہم نے اس خوفناک رجحان کا ذکر چند سال قبل معاشی ماہرین کی ایک کانفرنس میں سنا۔ حیرت تو ہوئی لیکن یہ سوچ کر زیادہ کھوجنے کی کوشش نہ کی کہ یہ ریسرچ پیپر کی زینت ہے تو کچھ نہ کچھ سچائی تو ہو گی۔
ابھی حال ہی میں پاکستان بزنس کونسل نے ایک تفصیلی ریسرچ رپورٹ میں اسی نکتے کو موضوع بنایا ہے۔ چند سال قبل سنا ہوا رجحان اب پختہ ثابت ہوکر سامنے تھا۔ 2000 میں صنعتی پیداوری شعبے ( Manufacturing sector ) کا قومی پیداوار میں تناسب فقط دس فی صد تھا جو 2008 میں بڑھتے بڑھتے پندرہ فی صد سے کچھ کم ہوا لیکن اس کے بعد سال بہ سال کم ہوتے ہوتے یہ تناسب 2018 میں بارہ فی صد رہ گیا۔ جبکہ اسی دوران ایشیا کے بیشتر ممالک میں صنعتی پیداوار کا تناسب بڑھا جبکہ پاکستان میں اس سے الٹ ہو رہا ہے۔
پاکستان میں برآمدات کا جی ڈی پی میں تناسب 2003 میں پندرہ فی صد تھا جو گزشتہ سال فقط ساڑھے آٹھ فی صد رہ گیا۔ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اس تناسب کا تقابل کیا جائے تو دل کو ہول آتا ہے کہ ہم کہاں ہیں اور وہ ممالک کہاں کھڑے ہیں۔ بنگلہ دیش کی برآمدات ملک کی جی ڈی پی کا چودہ فی صد ہیں، بھارت میں بارہ فی صد، سری لنکا میں بائیس فی صد اور ویت نام میں یہ تناسب 88% ہے۔
ہمارے ہاں برآمدات کے جی ڈی پی میں گرتے ہوئے تناسب کے ساتھ ایک اور اہم مسئلہ فروتر یعنی Low value added اشیا کی ایکسپورٹ پر انحصار ہے۔ گذشتہ سال ٹیکسٹائل کا کل برآمدات میں حصہ ساٹھ فی صد سے کچھ کم تھا جبکہ چاول و دیگر فوڈ پراڈکٹس کا حصہ 20 % کے لگ بھگ تھا۔ یوں ملک کی 80% برآمدات کم ویلیو ایڈڈ اشیا پر مشتمل ہیں۔
سیاست دانوں کے ساتھ احتساب کی دوڑ میں ملک میں صنعتی سیکٹر کے نصف درجن سے زائد نامی گرامی صنعتکار نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ کچھ پر الزام ہے کہا کہ ایک آدھ پروجیکٹ میں ان کے قدموں کے نشان منی لانڈرنگ کی ڈگر پر پائے گئے۔ ایک اور بہت بڑے گروپ کے سربراہ اس سوال پر جواب دہ ہیں کہ پی آئی اے میں ڈائریکٹر ہونے کے دوران پی آئی اے کے سی ای او پر انکوائری میں ان پر بھی شکوک کے سائے ہیں۔ ملکی صنعتکار خوف کا شکار ہیں۔ وزیر اعظم بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں جنت نظیر کاروباری حالات کی بنا پر مدعو کر رہے ہیں لیکن ملک کے اپنے صنعتکار تذبذب اور خوف کا شکار ہیں۔
رہی سہی کسر منی لاندرنگ جیسے پیچیدہ اور ہائی ٹیک معاملے کو بھی خیر سے سی ٹی ڈی کے حوالے کرنے کا فیصلے سے پوری ہو جائے گی۔ پولیس کی صلاحیت عام جرائم کی تفتیش میں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، چہ جائیکہ اب منی لانڈرنگ میں بھی اس کی صلاحیتوں کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور ہیجان اپنے زوروں پر ہے۔ ایف بی آر کے محصولات وصولی ٹارگٹ کی نسبت بہت کم ہے جس کے لئے ٹیکس حکام نے اپنے آزموودہ تیر بہدف نسخہ پر عمل شروع کر دیا ہے ، یعنی پہلے سے ٹیکس نیٹ میں ٹیکس گزاروں سے مزید پوچھ گچھ کہ چن کِتھاں گزاری ہئی رات وے!

ملکی ٹیکس محصولات میں صنعتی شعبے کا حصہ 58% ہے جو اس کے جی ڈی پی میں تناسب سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ٹیکسوں کے بوجھ نے صنعتی شعبے کو پہلے ہی زیر بار کر رکھا ہے ، اب نئے ریونیو ٹارگٹس کے سامنے یہ بوجھ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف ملک میں درآمدات نے رونق لگا رکھی ہے، بازار میں جوتوں، کھلونوں، ملبوسات، اشیائے خوردونوش سمیت ہر شے دستیاب ہے۔ ایسے میں صنعتی پیداوار میں یعنی Premature de-industrialization نے ملک کے اقتصادی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا ہے لیکن اس صورتحال کے ادراک اور اس کے حل کی جانب کوئی قدم اٹھتا دکھائی نہیں دیتا۔
ان مسائل کے ہوتے ہوئے اب نئی معاشی انتظامی ٹیم کے ساتھ بے یقینی کے ایک نئے دائرے کا سفر پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ بقول شخصے عوام کی جو چیخیں نکلنا ہیں، ان میں نئے مشیر کس حد تک کمی لا سکتے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کی جاری تند و تیز بارش سے ان کی جان چھڑوا سکتے ہیں، یہ سب جاننے کیلئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ دیکھئے جس پروگرام کو آخری بنانے کے لئے کئی ماہ کی لیت و لعل ہوئی اب وہ پروگرام اپنے دامن میں مزید کیا کیا حیرانیاں لائے گا!