سری لنکا میں گرجا گھروں پر دہشت گرد حملے، 200 سے زائد افراد ہلاک

  • اتوار 21 / اپریل / 2019
  • 7540

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں مختلف مقامات پر 8 بم دھماکوں کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکے ایسٹر کی تقریبات کے موقع پر 3 مسیحی عبادت گاہوں اور 4 ہوٹلز میں ہوئے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ دارالحکومت کے ایک چرچ اور متعدد ہوٹلز میں دھماکے ہوئے جبکہ کولمبو کے مضافات میں قائم 2 مسیحی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کولمبو میں ہسپتال کے ڈائریکٹر نے تصدیق کی کہ واقعے میں درجنوں افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے۔

ملک میں مختصر وقت کے لیے کرفیو فانذ کردیا گیا ہے۔ جبکہ عارضی طور پر سوشل میڈیا پر بھی پابندی عائد ہے۔ سری لنکا کے صدر نے میتھری پالا سری سینا نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انہیں حملوں سے دھچکہ لگا ہے۔ انہوں نے عوام سے صبر کرنے کو بھی کہا۔ دھماکوں کے بعد سری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرم سنگھے نے سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔

ملک کے وزیر خزانہ مانگالا وارا ویرا نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ حملے میں کئی معصوم لوگ مارے گئے، جس کا مقصد بظاہر قتل، تباہی اور انتشار پھیلانا تھا۔ ابتدائی طور پر دھماکوں کی نوعیت کے حوالے سے معلوم نہیں ہوسکا تاہم حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر غیر ملکی خبر رساں اداروں کو بتایا ہے کہ 2 مسیحی عبادت گاہوں میں ہونے والے بم دھماکے خود کش ہوسکتے ہیں۔ فوری طور پر کسی بھی گروپ نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

کولمبو کے متاثرہ چرچ 'سینٹ انتھونی شرائن' اور ہوٹلوں میں بیشتر غیر ملکی سیاحوں کی بہت بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔ اس کے علاوہ دھماکوں میں جن دیگر مسیحی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچا ان میں شمالی علاقے 'نیگومبو' اور مشرقی علاقے 'باتیچالوا' کے چرچ شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سری لنکن وزیراعظم رانیل وکرم سنگھے سے رابطہ کرکے دہشت گردی کے واقعات پر اظہار مذمت کی ہے۔ ترجمان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے بھی کسی بھی قسم کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراوائی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں 4 پاکستانی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والے پاکستانیوں میں 3 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے اور انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر روانہ کردیا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق سری لنکا کے پولیس چیف نے 10 روز قبل خبردار کیا تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں قائم مسیحی عبادت گاہوں کو خود کش بمبار نشانہ بنا سکتے ہیں۔ پولیس چیف پنجوتھ جواساندارا نے 11 اپریل کو حکام کو ایک انٹیلی جنس شیئر کی تھی، جس میں حملوں کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔

انٹیلی جنس معلومات میں کہا گیا تھا کہ 'غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی سے رپورٹ دی ہے کہ نیشنل توحید جماعت  کولمبو میں معروف مسیحی عبادت گاہوں اور انڈین ہائی کمشنر پر حملے کا منصوبہ بنا رہی ہے'۔