ایف آئی اے نے ایک بار پھر اصغر خان کیس ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بند کرنے کی درخواست کردی
- سوموار 22 / اپریل / 2019
- 5440
ایف آئی اے نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے ایک مرتبہ پھر اصغر خان کیس کو بند کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناکافی ثبوت کی بنیاد پر کیس کو کسی بھی عدالت میں چلانا ممکن نہیں رہا۔
اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے والے جواب میں دوسری مرتبہ اس کیس کو بند کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ بے نامی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات سمیت تمام اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور ایف آئی اے کی انکوائری کمیٹی نے سے بھی انٹرویوز کیے جبکہ مرکزی گواہ برگیڈیئر (ر) حامد سعید اور ایڈووکیٹ یوسف میمن سے پوچھ گچھ کی گئی۔
تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ لیکن کیس کو آگے بڑھانے اور مزید ٹرائل کے لیے خاطر خواہ ثبوت نہیں مل سکے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ ناکافی ثبوت کی بنیاد پر کیس کو کسی بھی عدالت میں چلانا ممکن نہیں رہا۔
وزرات دفاع نے بھی اصغر خان کیس میں اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کروادی ہے۔ جس میں بتایا گیا کہ معاملے پر وزرات دفاع کی جانب سے کورٹ آف انکوائری بنائی گئی، جس نے تمام شواہد اور سویلین افراد کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق کورٹ آف انکوائری نے 6 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں جبکہ مزید گواہوں کو تلاش کرنے کی بھی کوشش کی جاری ہے۔
وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام کاوشیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے ایف آئی اے کی جانب سے سپریم کورٹ سے اصغر خان کیس کو بند کرنے کی دوبارہ استدعا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کیس سازشیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس لئے اصغر خان کیس کے کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا۔ مقدمے کی رو سے اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990 کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا گیا، جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی شامل تھے۔
مقدمے میں کہا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینے کے لیے آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ نے مبینہ طور پر مہران بینک کے یونس حبیب کے ذریعے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے اس طرح عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف کی رو گردانی کی گئی۔
16 سال بعد عدالت نے 2012 میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریٹائر جرنیلوں اسلم بیگ، اسد درانی اور مہران بینک کے سربراہ یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے کہا تھا کہ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا۔ 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی جبکہ اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔ ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا نہیں۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایوان صدر میں کوئی سیل ہے تو فوری بند کیا جائے۔
عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کیس میں کافی ثبوث جمع کیے گئے، لہٰذا ایف آئی اے فنڈز وصول کرنے والوں کے خلاف ٹرائل کے لیے مقدمات کی تیاری کرے۔