وزیر اعظم عمران خان کی ایرانی صدر سے ملاقات، علاقائی امور پر تبادلہ خیال
- سوموار 22 / اپریل / 2019
- 5660
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایران کے صدر حسن روحانی سے پیر کو تہران میں صدراتی محل میں ملاقات کی ہے اور دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ امور اور علاقائی معاملات پر بات چیت کی ہے۔
پیر کو تہران کے سعدآباد پیلس آمد پر ایرانی صدر حسن روحانی نے وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاکستان کی سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملاقات کی اور مختلف شعبوں میں پاک ایران تعلقات کو بہتر کرنے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیر اعظم ایران کے راہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے۔
وزیر اعطم عمران خان کے وفد میں پاکستان کی انسانی حقوق کی وزیر شریں مزاری، بحری امور کے وزیر علی زیدی، وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارتی امور رزاق داؤد اور وزیر اعظم کے خصوصی معاون زلفی بخاری شامل ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان ایران کے دو روزہ دورے پر اتوار کو مشہد پہنچے تھے۔ ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق مشہد میں اپنے مختصر قیام کے دوران اُنہوں نے امام موسیٰ رضا کے مزار پر حاضری دی۔ بعد میں تہران روانہ ہو گئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان ایسے وقت میں ایران کا دورہ کر رہے ہیں جب دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے۔
حال ہی میں گوادر کے قریب اورماڑہ میں ہونے والے حملے میں پاکستان نیوی کے اہل کاروں سمیت 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے الزام لگایا تھا کہ حملہ آور ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ اس سے قبل بھی پاکستان اور ایران سرحد کے قریب ہونے والوں حملوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ہیں۔
بین الاقوامی امور کی ماہر ماریہ سلطان کا کہنا کہ اسلام آباد اور ایران اپنے باہمی تجارتی تعلقات کو بہتر کر کے باہمی اعتماد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ماریہ سلطان کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد عالمی پابندیاں کے باوجود دونوں ممالک علاقائی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ان کے بقول ایران پر عائد تجارتی پابندیوں کی وجہ سے پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی تعطل کا شکار ہے۔