سری لنکا: دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 290 ہوگئی، 13 افراد گرفتار

  • سوموار 22 / اپریل / 2019
  • 5790

سری لنکا میں ایسٹر کے روز ہونے والے متعدد بم دھماکوں کے الزام میں اب تک 13 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد اب 290 افراد تک پہنچ گئی ہے۔ دھماکوں میں مسیحی عبادت گاہوں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سری لنکن حکام نے بم دھماکوں کے فوری بعد لگایا جانے والا مختصر کرفیو پیر کی صبح اٹھالیا تاہم اب تک کسی بھی گروہ یا تنظیم نے ان منظم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ دھماکوں کے بعد مذہب کی بنیاد پر فسادات کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ پولیس کے مطابق اتوار کی رات کو شمال مغربی علاقے میں ایک مسجد پر پیٹرول بم حملہ کیا گیا جبکہ مسلمانوں کی 2 دکانوں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔

سری لنکن وزیراعظم رانیل وکراما سنگھے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت کو پہلے ہی ایک غیر معروف مسلمان گروہ کی جانب سے مسیحی عبادت گاہوں پر متوقع حملے کی اطلاع مل گئی تھی لیکن ان کے وزرا نے انہیں اس بارے میں آگاہ نہیں کیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ کولمبو میں 2 مقامات سے اب تک 13 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ گرفتار ملزمان کا تعلق ایک ہی گروہ سے ہے۔

پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ 8 میں سے کم از کم 2 دھماکے خودکش تھے جبکہ ایک مکان پر چھاپہ مار کر دھماکہ خیز مواد ناکارہ بنانے کی کوشش میں بھی 3 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آئی  ہیں کہ ان حملوں میں 7خود کش حملہ آور ملوث تھے۔

حکام نے بتایا ہے کہ دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں 32 غیر ملکی شامل ہیں۔ ان میں 5 بھارتی، 3 برطانوی، 2 ترکی اور ایک پرتگال کا شہری جبکہ 2 افراد کے پاس برطانیہ اور امریکہ دونوں ممالک کا پاسپورٹ تھا۔

ہلاک ہونے والوں میں ڈنمارک میں فیشن کا کنگ کہلانے والے ملک کے سب سے امیر شخص آندرش ہولک کے تین کم سن بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ہولک اپنے خاندان کے ساتھ ایسٹر کی چھٹیوں میں سیاحت کے لئے سری لنکا گئے ہوئے تھے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ بچے کہاں بم دھماکوں کا نشانہ بنے۔

سری لنکن دفتر خارجہ کے حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ 9 غیر ملکی افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم 25 لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔  پولیس ترجمان روان گناسیکرا نے بتایا کہ پولیس  تحقیقات کررہی ہے کہ کیا تمام دھماکوں کی نوعیت خود کش تھی یا نہیں۔

قبل ازیں سری لنکن حکومت کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ دھماکوں میں غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے حوالے سے بھی تفتیش کی جائے گی۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک بم دھماکوں کی تفتیش میں کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتی۔