سفر در سفر ۔۔۔ تیس برس بعد لاہور واپسی

اور  5 اپریل کی درمیانی شب میں لگ بھگ  30 برس بعد دوحہ کے راستے لاہور روانہ ہوا  ۔ لاہور شہر تخت ہے اور جہاں بُلھے شاہ کے کشف کے مُطابق عرش مُنّور پر دی گئیں اَذانیں بھی سُنائی دیتی ہیں :

عرش مُنّور بانگاں مِلیاں ، سُنیاں تخت لہور

لیکن میں ایک ماہ کے ویزے پر لاہور جا رہا تھا ۔ اپنی ہی سر زمین پر ایک پردیسی ، ایک غیر مُلکی اور ایک اجنبی سیاح کی طرح اُترےنے کو تھا ۔ ہر چند کہ میں خُدا کی زمین پر بھی ایک اجنبی ہوں  جو " قُل سیرو فی الارض" کے حُکم کے مطابق سیر پر نکلا ہوا ہوں جس کا اظہار میں نے اپنی شعری کشف میں کئی دہائیاں پہلے کیا تھا کہ :

زمین ، میرے لیے سیر گاہ ہے مسعود

میں شمس زاد ہوں ، نیلے گگن میں رہتا ہوں

اور کبھی یہ گُمان بھی گزرا کہ شاید اس ارضی جیل میں ، مجھے اپنی خطاؤں کی سزا سہنے کے لیے بھیجا گیا ہوں ۔ چنانچہ غیب سے ایک مضمون یہ بھی اُترا کہ :

یہ زمیں ایک جیل ہے مسعود

میں سزا کاٹنے ہوں ، آیا ہوا

اور اپنی اِس سزا کے دوران میں ایک جیل سے دوری جیل میں منتقل کیا جاتا رہتا ہوں لیکن چونکہ لاہور سے ایک خونی ، قلبی ، روحانی ، علمی ، ادبی اور دوستی کا دیرینہ رشتہ ہے ، اس لیے ناسٹلجیا کا دورہ وقتاً فو قتاً پڑتا رہتا ہے ۔

ناسٹلجیا کو اُردو میں کیا کہیں گے ؟ غالباً یادِ وطن ، لیکن مجھے اس کا پنجابی ترجمہ " سِک متراں دی "  موزوں لگتا ہے ۔ اور یوں بھی برقی میڈیا کے اس عہد میں اُردو تلفظ ، اظہار اور بیان ، دیسی انگریزی کی جھڑکیاں سہ سہ کر اور تھپیڑے کھا کھا کر اس قدر نحیف و نزار ہو گیا ہے کہ اب اُردو مکالمے میں نہ تو مولانا صلاح الدین احمد کا سا دم خم ہے اور نہ ہی ظہیر کاشمیری کی گھن گرج  ۔ اب تو  مروجہ اردو انگریزی کی کُند قینچی کے گھاؤ سہ کر جگہ جگہ سے پھٹی جینز بن گئی ہے جس میں سے اُمراؤ جان ادا جھانکتی رہتی ہے ۔

بایں ہمہ ، لاہور کو لاہور کہا گیا ، اور یہ شہر وہ روایتی لاہور نہ ہوتے ہوئے بھی لاہور ہی ہے اور لاہور ہی رہے گا ۔ یعنی لہور ۔ لاہور کے اس لاہوری تلفظ کے بارے میں منیر نیازی کا بیان تھا کہ اہلِ لاہور  اپنے شہر کا نام اس طرح لیتے ہیں ، کہ سُن کر لگتا ہے کہ کسی ہیجڑے کی کمر میں کرنٹ لگنے سے بل پڑ رہے ہیں ۔لہور ۔ اُن کا اصل جُملہ یوں تھا :

لہوریے ، لہور دا ناں انج بولدے نیں جیویں کھُسرے دے لک نوں کرنٹ نال ول پیندے نیں ۔

میں اسی جادو نگری میں جس کا نام لاہور ہے ، رات گئے علامہ اقبال ائر پورٹ پر اُترا تو چاروں طرف پولیس اور سیکیورٹی کے اسلحہ برداروں کی ریل پیل تھی ۔  یہ وہ ائر پورٹ نہیں تھا ، جہاں سے میں چالیس برس قبل لاہور کو خیر باد کہ کر اپنے سفر لا سفر پر نکلا تھا ۔یہ ایک دوسرا مقام تھا ۔ مجھے  یاد آیا کہ پرانا ہوائی مستقر لاہور کینٹ میں عارف جان روڈ پر میرے درویش منش بزرگ دوست ڈاکٹر نذیر احمد کی کھلے دالان والی حویلی میں بیٹھ کر پنجابی صوفی شاعروں کے کلام کی تدوین میں اُن کی پنجابی فہمی سے لُطف اندوز ہوا کرتا تھا ۔ایک ہی لمحے میں ذہن زقند بھر کر ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو گیا ۔ لگتا تھامیں سانپوں کی طرح رینگتے خیالوں کے تماشے میں کھو گیا ہوں ۔

ہوائی مستقر پر اپنا بیگ وصول کرنے کے انتظار میں کھڑا تھا تو مجھے یوں لگا جیسے پولیس اور سیکیورٹی کے لوگ مجھ پر نظریں جمائے ہیں اور مجھے غیر ضروری احترام دے رہے ہیں اور میں بغیر کسی پرسش و تمرین کے اپنا بُغچہ لے کر ہوائی اڈے سے باہر نکل آیا جہاں میرے اعزہ میرے سواگت کو موجود تھے ۔ یہاں پہلا مرحلہ سب سے عید ملنے کا تھا کیونکہ میں تیس برس بعد لاہور آیا تھا اس لیے تیس عیدوں کا مجموعی معانقہ بہت طویل رہا ۔ رات کے پونے تین بجے کا عمل تھا لیکن نہ تو گاؤں کے کُتوں کے بھونکنے کا شور تھا اور نہ ہی طاقچوں پر دیے جل رہے تھے ۔ اس کی جگہ ٹریفک کا خوفناک شور تھا اور گاڑیوں کا دھواں جو فضا کو آلودہ اور ہوا کو زہریلا کر رہا تھا ۔ اسی شورو غل میں میٹھے بولوں کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے کا سفر طے کر کے ہمارا قافلہ گوالمنڈی میں اُترا ۔ کسی نے فضا میں سے جھانک کر جملہ کسا:

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

گوالمنڈی پہنچتے ہی میں لاہور میں تھا اور لاہور مجھ میں ۔ تب ذہن کے کسی گوشے سے صدا سنائی دی :

آرزو دل کی یہی ہے کہ صبا کے مانند

شہرِ اقبال تری گلیوں میں آوارہ پھروں

ارے نہیں ، یہ تو ناصر کاظمی ہیں اور اپنے مخصوص لہجے میں کہہ رہے ہیں :

شہرِ لاہور ، تری رونقیں دائم آباد

تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو

اور پھر لاہور اس قدر کھل کے چھم چھم برسا کہ ہر طرف جل تھل ہو گیا اور میں شرابور ۔ اور پھر جو جو گزری وہ بھی گوش گزار کرتا ہوں لیکن ذرا سستا لوں  کیونکہ یہ سفر ایک لا سفر تھا ۔ ایک ہی دائرے میں گھومتا میں وہیں کھڑا تھا جہاں سے چالیس برس قبل چلا تھا ۔ کولہو کے بیل کی طرح پچاس ہزار کوس کا سفر بھی کوئی سفر نہ تھا ۔