معیشت نہیں نظام ناکام ہوا ہے


وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے 9ماہ مکمل ہونے سے پہلے ہی کابینہ تبدیل کر دی ہے۔ دیکھا جائے ان وزرا نے اپنے سابق محکموں میں کیا سنوارا ہے۔ اب کیا تبدیلی لائیں گے۔ اس میں سب سے اہم وزیر خزانہ اسد عمر کا استعفیٰ ہے۔
اسد  عمرکی  اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی کی وجوہات میں سسٹم کی خرابیاں شامل ہیں جس میں غیر روایتی معیشت (کالا دھن) ریاست کے سکڑتے ہوئے مالیاتی وسائل، پاکستان میں 95%دولت اور اثاثے رکھنے والے امیر طبقات کی 2%کم ٹیکس ادائیگی زرعی آمدنی پر ٹیکس کا نفاذ نہ ہونا،بے مقصد ریاستی اداروں کے اخراجات جہاں پر لاکھوں افراد بھرتی کیے گئے ہیں، ٹیکس چوری، یوٹیلٹی بل بچانے کیلئے بجلی،گیس اور پانی کی چوری لائنس لاسز غیر ضروری ریاستی اخراجات، ٹیکسوں کا ظالمانہ نظام جس میں چھوٹی آمدنیوں والے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی ناجائز منافع خوری اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قیمت اور قومی تحویل میں چلنے والے اداروں کا نقصان سرکلر ڈیٹ نے معاشی مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔
 کرپشن کے خلاف متحرک ریاستی اداروں نے صنعت کاروں، تاجروں اور حکومتی اہلکاروں میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری اور صنعت کاری کا عمل رک چکا ہے۔ جبکہ صنعت کاری کا عمل کئی سالوں سے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تحت آزادانہ درآمدات کی وجہ سے مقامی مصنوعات کا مہنگا اور بہتر معیار کا نہ ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں کھپت ختم ہو چکی ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت بنیادی سہولیات صحت، تعلیم اور ترقیاتی  اخراجات کے قابل نہیں رہی۔ سابق حکومت نے لاکھوں کی تعداد میں ٹیکس گزاروں کو رعایت دے دی تھی جس سے وہ ٹیکس نیٹ سے خارج ہو گئے تھے مگر اس کے متبادل کے بارے میں کچھ نہیں سوچا گیا تھا۔ ملکی وسائل ٹیکس ریکوری میں اضافہ اور صنعت کاری کے فروغ سے ہی معاشی انجن کو کک سٹارٹ کیا جا سکتا ہے جسے سرمایہ کاری اور روز گار کے راستے نکالے جا سکتے ہیں اور غربت میں بتدریج کمی ہو سکتی ہے۔
وزیر خزانہ کے مستعفی ہونے سے بحرانی کیفیات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ داروں کو تاریخی مراعات دینے کے باوجود عمران کی آنکھ کا تارا ماہر معاشیات وزیر خزانہ اسد عمر استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے۔  اس بحران کی شدت پیدا کرنے میں پچھلی دہائی میں رہنے والی حکومتوں کی پالیسیوں کا گہرا تعلق ہے جس کے دوران زرداری اور نواز شریف حکومت نے ملکی اور غیر ملکی مالیاتی اداروں سے بے پناہ قرضے حاصل کیے، جنہیں انتظامی اور نام نہاد ترقیاتی اخراجات میں کھپا دیا گیا تھا جس میں کرپشن اور کک بیکس یقینا شامل تھیں۔
 ان حقائق کے بارے میں تحریک انصاف کی قیادت کو بخوبی علم تھا مگر وہ معیشت کے سدھار کے بارے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں بنا سکی تھی اور عوام کو محض کرپشن کو نظام کی خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیتے رہے، تحریک انصاف کی قیادت اپوزیشن میں حکومت کو مفید مشورے دیتی رہی ایسا کر دیا جائے تو تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا اگر ملکی قیادت نیک نیت، کرپشن سے پاک ہو تو اسی نظام میں اصلاحات کی جا سکتی ہیں جن کے نتیجے میں یورپ اور امریکہ جیسی معیشتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اصلاح پسندی کے ان نعروں کی وجہ سے ملک کے پڑھے لکھے طبقات اور بالخصوص مڈل کلاس کے نوجوانوں نے تحریک انصاف کی حمایت کی۔ یہ لوگ پہلے کسی جمہوری عمل میں حصہ نہیں لیتے تھے اور ملک کی مقبول عام پارٹیوں کو ووٹ دینے والوں کو جاہل اور گنوار قرار دیتے تھے۔ وہ باطنی طور پر آمریت پسند اور آمرانہ سوچ کے حامی رہے ہیں یہی وجہ ہے ان کی لیڈر شپ کو جنرل ایوب خان اور پرویز مشرف کی پالیسیاں اچھی لگتی ہیں۔
 تحریک انصاف نے دلکش نعروں کے ذریعے لوگوں کی حمایت حاصل کی تھی جس میں پچاس لاکھ لوگوں کو گھر اور ایک کروڑ نوکروں کا وعدہ، عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے سے انکار مگر آج دوست ممالک سے اقتصادی پیکج حاصل کرنے کے باوجود ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر میں صرف مانگی ہوئی رقوم موجود ہیں۔ جبکہ ملکی وسائل سے حاصل کردہ زر مبادلہ کے ذخائر منفی ہیں۔ حکومت نے اخراجات کم کرنے کی بجائے جدید تکنیک سے اس کو برقرار رکھا اسی طرح نجکاری پالیسی کو نیا نظام قرار دے کر ویلتھ فنڈ بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔اس منصوبہ کے تحت 200سے زائد اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا۔ لاکھوں ملازمین کو بر طرف کرنے کی فہرستیں تیار کی گئیں لیکن نیچے سے دباؤ کی وجہ سے ان معاملات کو فی الحال موخر کر دیا گیا ہے۔
؎حکومت نے آغاز میں عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے  سے انکار کیا پھر ان سے قرضے مانگنے کی پاداش اور  ناکامی سے اسد عمر کو استعفیٰ دینا پڑا۔ جس میں اہم مالیاتی اداروں کا مطالبہ تھا کہ انہیں چین سے لیے گئے قرضوں کی شرائط کے بارے میں بتایا جائے مگر ایسا کرنا اسد عمر کیلئے ہر گز ممکن نہیں تھا۔
 اس صورتحال میں اپوزیشن فخر محسوس کر رہی ہے تحریک انصاف کو قرضے حاصل کرنے میں ناکامی ہو رہی ہے مگر حاصل کرنا بھی کوئی کامیابی نہیں ہے۔کیونکہ اس سے کوئی ملک اپنی معاشی بنیادوں کو مضبوط نہیں کر سکتا۔ موجودہ صورتحال میں امریکہ اور چین کی تجارتی اور معاشی جنگ میں پاکستان کی معیشت فٹ بال کی طرح لڑھکتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ یہ عمل ابھی بھی جاری ہے۔ یاد رہے نواز شریف نے چین سے بڑے  قرضے حاصل کیے تھے جبکہ تحریک انصاف ابھی تک ایسا کوئی پیکج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔یہ کہنا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے سے معیشت بہتر حاصل میں آ جائے گی یہ ہمارے عالمی مالیاتی اداروں کی وکالت کرنے والے ماہر معاشیات کی کھوکھلی سوچ اور ان کے ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ اگر غیر ملکی قرضوں سے معاملات حل ہو سکتے تھے تو آج پاکستان میں کوئی معاشی مسئلہ نہ ہوتا۔
 دنیا میں سب سے زیادہ بار آئی ایم ایف سے قرضہ جاتی پیکج پاکستان نے حاصل کیا ہے جس نے 21دفعہ اس کا طوق گلے میں ڈالا ہے۔ اس دوران تمام معاشی پالیسیاں انہی اداروں نے ترتیب دی ہیں لیکن اس کے باوجود ملک میں غربت، بے روز گاری، تجارتی خساروں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسد عمر کی ناکامی کے ساتھ سابق حکومتوں کی سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاح پسند تجدید کا فلسفہ ہے جس میں اگر کرپشن، لوٹ مار اور بد انتظامی کو ختم کر دیا جائے تو بہترین نظام ہے۔ عمران اور اسد عمر کو وہی کام کرنے پڑے ہیں جو سابق حکمران کرتے رہے ہیں مگر اس کے باوجود کرنسی کی قیمت میں گراوٹ آئی اشیاء ضروریات کی چیزوں میں اضافہ ہوا۔
 بعض اطلاعات کے مطابق حکومت ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ کو کم کرنے اور ان اداروں کے اخراجات میں کمی کیلئے فیسوں میں اضافہ کرنے والی ہے حکومت نے روز گار کی فراہمی کے کھوکھلے منصوبے پیش کیے، اسد عمر کے استعفےٰ سے ثابت ہو گیا ہے کہ اس ملک کی پالیسیاں کون بناتا ہے اور اصل مالکان کون ہیں۔ پاکستان میں تبدیلی لانے والی سیاسی جماعت اپنی حکومت کے پہلے سال میں اعتراف کر لیا ہے کہ اس کی ٹیم کامیاب نہیں رہی ہے۔ نئی ٹیم کی ہیت ترکیبی ایسی ہے جوکہ بنیادی تبدیلیوں کیلئے اصلاحات کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔  کیونکہ یہ ٹیم تحریک انصاف کے بنیادی فلسفہ کے مطابق نہیں ہے۔  ہم اس بات پر بحث نہیں کرتے کہ سیاسی فلسفہ اور ویژن کیا ہے۔
پاکستان کی دوسری سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کو کرپٹ قرار دے کر بر سر اقتدار آنے والی جماعت کی ناکامی سے سیاسی خلا کون پر کرے گا۔اس ناکامی کا سب سے زیادہ صدمہ نوجوان نسل کو ہوگا جس نے مڈل کلاس کی طرف سے پہلی دفعہ سیاسی عمل میں حصہ لیا تھا پاکستان میں حقیقی سیاسی تبدیلی اور معاشی تبدیلیوں کیلئے منصوبہ سازی کی ضرورت ہے جس کو کوئی ویثنری قیادت کی پایہ تکمیل تک پہنچا سکتی ہے۔ کوئی جماعت جس میں نظریات  تبدیل کرنے والے شامل ہوں، وہ کیونکر قوم کو خوشحالی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ بحران کا سامنا قوم اور ملک کو ہے صرف معاشی اور سیاسی نہیں بلکہ ذہنی اور فکری بحران ہے۔ کونسا ہاتھ اور دماغ ان بحرانی کیفیات سے نکال سکتا ہے۔
 اس بات سے قطع نظر کے صدارتی یا پارلیمانی نظام ہو ہمیں ڈھنگ کی قیادت چاہئے۔  بد قسمتی سے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہمیں کوئی قد آور صاحب بصریت اور عملیت پسند قیادت میسر نہیں آئی ہے۔ آج پاکستان میں نا اہلیت کے ساتھ بصیرت والی قیادت کا بحران موجود ہے۔