نواز شریف نے علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی درخواست دائر کردی

  • جمعہ 26 / اپریل / 2019
  • 4500

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ انہیں العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں مستقل ضمانت دی جائے اور علاج کی غرض سے بیرونِ ملک جانے پر عائد پابندی ختم کی جائے۔

وزارت داخلہ نے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف کا نام ای سی ایل میں  ڈال رکھا ہے اور مریم نواز نے بھی اس پابندی  کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہوئی ہے۔

گزشتہ ماہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے طبی بنیادوں پر سابق وزیر اعظم  نواز شریف کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں چھ ہفتوں کے لیے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ چھ ہفتوں کے دوران نواز شریف ملک میں رہ کر کسی بھی ڈاکٹر سے علاج کروا سکتے ہیں تاہم وہ اس عرصے کے دوران بیرونِ ملک نہیں جا سکیں گے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ چھ ہفتوں کے بعد ان کو جیل جانا ہوگا اور دوبارہ ضمانت کے لیے نئے سرے سے متعقلہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنا ہوگی۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر سابق وزیر اعظم کی درخواست مسترد کردی تھی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی نظرثانی کی درخواست میں سابق وزیر اعظم کو لاحق بیماریوں سے متعلق  بتایا گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کے وکیل کے مطابق ان کے موکل دل اور گردوں کے عارضے میں مبتلا ہیں اور ان کا علاج انہی ڈاکٹروں سے ممکن ہے جنہوں نے پہلے نواز شریف کا لندن میں علاج کیا تھا۔ نظرِ ثانی کی اس درخواست کے ساتھ سابق وزیر اعظم کی میڈیکل رپورٹس بھی لف کی گئی ہیں جن میں بیماری کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

میاں نواز شریف کی چھ ہفتوں کی ضمانت کی مدت مئی  کے دوسرے ہفتے میں ختم ہو رہی ہے اور عدالتی حکم کے مطابق ان کو دوبارہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل جانا پڑے گا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف تین ریفرنس دائر ہوئے ہیں جن میں سے احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم کو دو مقدمات میں قید کی سزا سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ احتساب عدالت کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس میں دی گئی سزا کو معطل کر کے میاں نواز شریف کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔