سی پیک کے اگلے مرحلے میں ماحولیات کی بہتری اور غربت کے خاتمہ کے لئے کام ہوگا: عمران خان
- جمعہ 26 / اپریل / 2019
- 5710
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری اقتصادی راہداری منصوبے میں اب ماحولیاتی تبدیلوں اور غربت کے خاتمے کی جانب توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم انشا اللہ پاکستان کی معاشی صورتحال کا نقشہ اور اپنے عوام کی زندگیاں بدلنے والے ہیں۔
بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے نئے دور میں غربت کے خاتمے، زرعی تعاون اور صنعتی ترقی پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہم مزید گہرے تعلقات کے ذریعے تعلیم، ایجادات اور ٹیکنالوجی کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز بھی قائم کیے جارہے ہیں جہاں پاکستانی، چینی اور غیر ملکی کاروباری افراد کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ سی پیک کے اگلے دور میں پاک چین آزادانہ تجارت کا ایک وسیع معاہدہ کیا جائے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا میں جیو پولیٹکل غیر یقینی صورتحال اور تجارت میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور رکاوٹوں کے دورمیں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ تعاون، اشتراکیت، روابط اور مشترکہ خوشحالی کا ماڈل پیش کرتا ہے۔ بی آر آئی منصوبہ گلوبلائزیشن کی جانب سفر کرتی اقوام کے لیے ایک نئی جہت کا آغاز ہے۔ اس موقع پر کئی سربراہان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے مایوسی کے بجائے اُمید اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون کا انتخاب کررہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب تک 122 ممالک اور 49 بین الاقوامی تنظیموں نے بی آر آئی منصوبے پر دستخط کردیے ہیں یہ ایک تاریخی اور یادگار پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں توانائی کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے اہم ترین بنیادی ڈھانچے میں خلا کو پر کیا جارہا ہے۔ گوادرپہلے ماہی گیروں کا ایک گاؤں تھا لیکن اب تیزی سے ایک اقتصادی ہب بنتا جارہا ہے اور گوادر ایئر پورٹ ملک کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہوگا۔
انہوں نے چین کی جانب سے پاکستان کی غیر مشروط حمایت پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ ہماری گہری دوستی، اشتراک اور برادرانہ تعلقات ہر قسم کے چیلنجز کے دوران اسی طرح مضبوط، محفوظ اور اٹوٹ رہیں گے۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تعاون کے 5 نکات بھی پیش کیے جس میں درخت لگانے کے منصوبوں کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی روک تھام، بی آر آئی سیاحتی راہداری کا قیام، بدعنوانی کے خلاف تعاون کے لیے شعبے کا قیام، غربت مٹاؤ فنڈ کی تشکیل اور تجارتی آزادی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔
چینی صدر زی جنگ پنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران دنیا بھر سے آئے رہنماؤں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ عالمی تجارت کے لیے نیا پلیٹ فارم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں سب مل کر مستقبل کو روشن بنا سکتے ہیں اور دنیا کو رہنے کے لیے بہتر جگہ بنانے میں مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔