سری لنکا میں مزید حملوں کا خطرہ، مسلمانوں کو مساجد میں نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا
- جمعہ 26 / اپریل / 2019
- 5420
سری لنکا میں ایسٹر کے اتوار کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد مزید حملوں کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام نے مسلمانوں کو جمعہ کی نماز گھر پر ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس دوران گرجا گھروں میں بھی عبادت کا سلسلہ معطل ہے۔
برطانیہ نے ایسٹر سنڈے کے بم دھماکوں کے بعد سری لنکا سفر کرنے والے برطانوی شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ صرف کسی ضروری کام کے علاوہ سری لنکا نہ جائیں۔ برطانیہ کے دفتر خارجہ نے سری لنکامیں مزید حملوں کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ایسٹر کے اتوار پرحملوں میں ہلاک ہونے والے افراد میں آٹھ برطانوی شہری شامل تھے۔
دریں اثنا سری لنکا کے وزیرِ صحت کے مطابق گزشتہ اتوار کو ہونے والے حملوں میں 359 نہیں بلکہ تقریباً 253 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ وزارت صحت نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی غلط گنتی اور متاثرین کی لاشوں کو شناخت کرنے میں پیش آنے والی دشواریوں کی وجہ سے غلط تعداد رپورٹ ہوئی تھی۔ سری لنکا کے نائب وزیرِ دفاع کے مطابق مردہ خانوں نے غلط اعداد و شمار فراہم کیے۔
وزارت صحت کے مطابق تمام پوسٹ مارٹم جمعرات کو مکمل ہوئے، جس کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ کئی ہلاک ہونے والے اشخاص کو ایک سے زیادہ بار گنا گیا ہے۔
ان حملوں میں انٹیلی جنس ناکامی کے بعد سری لنکا کی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سری لنکا کے پولیس ہیڈ کواٹر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایسٹر سنڈے کے حملوں میں مطلوب مشتبہ افراد کے نام اور ان کی تصاویر جاری کر دی گئی ہیں۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کو ان کے بارے میں کوئی بھی اطلاع ہو تو وہ فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے۔
سری لنکا کے سیکرٹری دفاع ہماسری فرنانڈو نے انٹیلی جنس ناکامیوں کے رد عمل میں جمعرات کو اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ پولیس نے اس دہشت گردی میں م لوث ہونے کے شبہ میں اب تک 70 سے زائد افراد حراست میں لیا ہے۔ سری لنکا کے حکام جنھیں امریکہ اور انڈیا کی جانب سے ان حملوں کے خطرے کے بارے میں وقت سے پہلے خبردار کر دیا گیا تھا۔ ان حملوں کو روکنے میں سکیورٹی اداروں کی غفلت کا اعتراف کر چکے ہیں۔
سری لنکا کی حکومت نے کہا ہے کہ ان حملوں میں 'جماعت جوات' نامی گروہ ملوث ہے۔ خیال رہے کہ دولت اسلامیہ تنظیم نے منگل کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں اس نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ملک میں ہنگامی حالت نافذ ہے اور پولیس کے ساتھ فوج بھی مختلف حساس علاقوں میں تعینات ہے۔ فوج کو عام تلاشی لینے اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کے بھی اختیارات حاصل ہیں۔
حملوں میں ملوث آٹھ خود کش حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ سری لنکا کے حکام نے مزید حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر شہریوں کو مساجد اور گرجا گھر نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔ انٹیلی جنس حکام نے جوابی حملوں کے خدشے کے پیش نظر مسلمانوں کو نمازِ جمعہ کے اجتماعات سے روک دیا ہے۔ حکام نے اپیل کی ہے کہ مسلمان گھروں میں ہی نماز ادا کریں۔
حکام نے متنبہ کیا ہے کہ اتوار کو ہونے والے خود کش حملوں کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں کار بم حملے کی اطلاعات بھی ہیں۔ ان اطلاعات کے بعد متعدد مسلمان گھرانوں نے محفوظ مقامات پر نقل مکانی بھی کی ہے۔
دوسری جانب سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ سری لنکن نوجوانوں کے 2013 سے اسلامی شدت پسند تنظیم داعش کے ساتھ روابط کے شواہد ملے ہیں۔ جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سری لنکن صدر کا کہنا تھا کہ پولیس حکام ایسے 140 مشتبہ افراد کا کھوج لگانے میں مصروف ہیں۔
صدر نے انٹیلی جنس ناکامی پر وزیرِ اعظم رنیل وکرما سنگھے کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انٹیلی جنس نظام بہتر بنانے کے بجائے خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب فوجی افسران کے ٹرائل پر توجہ مرکوز رکھی۔