پولیو ٹیمز پر حملوں کے بعد ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم معطل
- ہفتہ 27 / اپریل / 2019
- 5820
سیکیورٹی کو لاحق سنگین خطرات اور انسدادِ پولیو مہم کی ٹیمز پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پولیو مہم ’غیر معینہ مدت‘ تک کے لیے معطل کردی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت نے بہتر معیار کو یقینی بنانے کے لیے مہم کے بعد لیے جانے والے جائزے کو بھی معطل کردیا۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو اسلام آباد کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں ملک بھر میں 2 لاکھ 70 ہزار پولیو رضاکاروں کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام صوبوں کے لیے انتباہ جاری کردیا گیا ہے اور انہیں انسدادِ پولیو مہم روک دینے کی ہدایت کی گئی۔
ملک بھر کے تمام اضلاع میں انسدادِ پولیو کی حالیہ مہم کا آغاز 22 اپریل کو کیا گیا تھا جس کا آخری دن جمعہ تھا۔ ای او سی کی جانب سے جاری انتباہ کے مطابق ’پشاور میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیو مہم میں حصہ لینے والے کارکنان کے لیے غیر یقینی اور خوفزدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور ہمیں اس پروگرام کو مزید نقصان سے بچانے کی ضرورت ہے‘۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی تکنیکی ٹیم اور عالمی انسدادِ پولیو مہم کے شراکت داروں نے متفقہ طور پر فوری طورسے اپریل میں جاری قومی مہم کے اختتامی روز کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ’اب مزید کسی بھی علاقے میں کوئی ویکسینیشن یا اس قسم کی سرگرمی نہیں کی جائے گی‘۔
اس ضمن میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ ملک میں پولیو ٹیمز پر ہونے والے حملوں کے باعث انسدادِ پولیو مہم کو سخت دھچکا لگا ہے جس کے باعث وفاقی حکومت ایل کیو اے ایس کی تمام سرگرمیاں بھی روکنے پر مجبور ہوگئی۔
عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ پشاور واقعے میں مشتعل ہجوم کی جانب سے مرکز صحت کو نذرِ آتش کرنے اور چمن میں ایک خاتون رضاکار کے قتل کے علاوہ سندھ، پنجاب، بلوچستان میں بھی عملے پر حملے ہوئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 22 اپریل کو شروع ہونے والی 4 روزہ مہم کے دوران صرف پنجاب میں 7 لاکھ بچے پولیو کے قطروں سے محروم رہے یا ان کے اہلِ خانہ نے ویکسینیشن کروانے سے انکار کردیا۔ اس طرح بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کردینے والی یہ بیماری لگنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
خیال رہے جی پی ای آئی کے تحت تکنیکی گروہ آئندہ چند ہفتوں میں ملک کا دورہ کرنے والا ہے اور اس تناظر میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا ویکسین سے محروم رہنا پاکستان کے لیے ہزیمت کا سبب بن سکتا ہے۔