اعلی شہری خصوصیات اور فن و ثقافت کا مرکز ویانا

ویانا، آسٹریا کا دارالحکومت ہے اور ملک کےمشرق میں دریائے ڈوناؤکے کنارے واقع ہے۔ اس کا تاریخی ورثہ ،  دنیائے فن و ثقافت کے ذہین ترین انسانوں کے یہاں مقیم ہونے کا مرہون منت ہے۔ یہاں عظیم موسیقار بیتھ ہوفن، موتسارٹ اور عظیم فلسفی سگمنڈ فرائڈ  جیسے دنیا کے مایہ ناز ہستیوں نے قیام کیا۔ یہ شہر اپنے قدیم شاہی محلات جیسے شون برنن محل، ہابسبرگر کی موسم گرما کی قیام گاہ کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔

ویانا میں فنکاروں کے لیے مختص اور فن پاروں کی نمائش کے لیے میوزیم کوارٹیر یعنی عجائب گھروں کا اجتماع ہے جس میں تاریخی  عمارتیں ہیں۔  ایگون شیلے اور گستاف کلمٹ کے فن پارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ  دیدہ زیب قیمتی        

ویانا  ہمیشہ ہی شاہی محلات اور بادشاہوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں فن تعمیر کے اعلی نمونے جابجا دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں کی ایک سڑک رنگ اسٹریٹ اپنے بنیاد رکھے جانے کے وقت سے ہی عالشان عمارتوں کا مرکز رہی ہے ۔ باروک فن تعمیر سے لے کر  جدید کے طرزتعمیر پر مبنی عمارتیں یہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔
سن 1804 میں  ویانا، سلطنت کے بادشاہوں اور امراوں کا رہائشی مرکز بن گیا اور اس کی اہمیت سیاسی اور معاشی  کے علاوہ  علمی اور فن وادب کے مرکز کی حیثیت سے پورے یورپ میں  تسلیم  ہونے لگی۔ انیسویں صدی تک یہ یورپ کا سیاسی، تہذیبی مرکز بن چکا تھا۔ سن 1910  ویانا ہابسبورگ سلطنت کا درالحکومت  تھا ۔ اس وقت  یہ دنیا کا پانچواں بڑا شہر مانا جاتا تھا ۔  اس کی آبادی دوملین سے زیادہ تھی۔ ویانا شہر کا تاریخی مرکز اور اس کا محل شون برنن   یونسکو نے تہذیبی ورثہ قرار دے کر اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔  ہر سال لگ بھگ  پندرہ ملین  سیاح  اس شہر میں آتے ہیں۔ اس طرح اسے یورپ کے سب سے زیادہ سیاحوں  کا میزبان ہونے کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔  1814 اور 1815 میں ہونے والی ویانا کانگریس کی وجہ سے ویانا عالمی سیاست  میں  اہم مقام حاصل کر چکا تھا۔ اس کی یہ عالمی شہرت آج بھی  قائم ہے۔ یہاں اب بھی تیس کے قریب عالمی تنظیموں کی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں۔ جن میں تیل  پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک، عالمی تنظیم برائے تنصیبات ایٹمی توانائی، آئی اے ای او  اور تنظیم برائے باہمی تحفظ و تعاون، او ایس زیڈ ای کے علاوہ  اقوام متحدہ کے متعدد دفاتر بھی ہیں۔
ویانا شہر  اعلی درجے کی شہری زندگی کی  وجہ سے بھی مشہور ہے۔ مرکر نامی تنظیم جو کہ ہر سال ایک تجزیہ پیش کرتی ہے۔ ویانا کو 2019 کی سروے  رپورٹ میں مسلسل دسویں مرتبہ پہلی پوزیشن دی گئی ہے۔ اس سروے میں دنیا کے 231 ک اجائزہ لیا گیا تھا۔ اس  میں  سیاسی، معاشی اور سماجی اقدار سمیت کل انتالیس حقائق کا جائزہ لیا جاتا ہے۔   ان میں جرائم کی تعداد، ماحولیاتی آلودگی اور شہری سہولیات کی دستیابی وغیرہ  بھی شامل ہیں۔  اس طرح اعلی شہری زندگی کی خصوصیات کے طور پر یہ شہر  مثالی حیثیت رکھتا ہے۔  اس مقابلے میں سوٹزرلینڈ کا زیورچ دوسرے نمبر پر اور  جرمنی کا  شہر میونخ تیسرے نمبر پر آیا ہے۔ اس کےعلاوہ ویانا  2012 میں اقوام متحدہ کی جانب سے دنیا کا بہترین شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کر چکا ہے۔
ہم نے جب ویانا شہر کو دریافت کرنے کا سوچا تو شہر کے بیچوں بیچ  زمین دوز ٹرین کے اسٹیشن فولکس تھیٹر پر اتر گئے۔ جب باہر آئے تو سامنے ہی ایم کیو تھا۔۔۔۔ یعنی عجائب گھروں  کا لگاتار عمارتی سلسلہ  جسے میوزیم کوارٹیر یا ایم کیو کہتے ہیں۔ یہ ایک جدید عمارتوں کا سلسلہ ہے جس میں فن پارے بھی پیش کیے جاتے ہیں اور فنکار بھی موجود ہوتے ہیں۔  فن و ثقافت، فن تعمیر، فن خطاطی کے نمونے، موسیقی، تھیٹر، ڈانس، ادب، بچوں کی دلچسپی کے سامان اور جدید میڈیائی نمائش ، سبھی کچھ یکجا مگر مختلف عمارتوں میں جمع کردیا گیا ہے۔ یوں سمجھ لیں ایک طویل نہ ختم ہونے والا عمارتی سلسلہ ہے۔ ایک قلعہ ہے۔ اپنی تعمیر کے وقت یہ دنیا کا سب سے بڑا ایوان تہذیب و ثقافت تھا۔ اس کی اہم  عماتوں میں موموک، لیوپولڈ میوزیم اور ویانا کا فن پاروں کا ہال شامل ہے۔ یہ رنگ اسٹریٹ پر واقع ہے جس کے ایک جانب ماریا تھریزا محل واقع ہے۔
شونبرنن محل جو موجودہ شکل میں اٹھارویں صدی میں ملکہ ماریا تھریزا کی موسم گرما کی رہائش کے طور پر مشہور ہے۔ اصل میں 1892میں ویانا میں شہنشاہ ماتھیاس کی کوششوں سے تیارہوا ہے۔ جس نے سن 1619 میں اس مقام کاتعین کیا اور ایک خوبصورت چشمہ، شونبرنن کا نام دیا تھا۔
 1638 سے 1643 تک زیر تعمیر ایک محل بادشاہ فیرڈیننڈدوم کی چہیتی بیوی ایلونوراگون ساگا کے لیے تعمیر کروایا گیا۔ 1687

 میں لیوپولڈ اول نے اس محل کی ازسر نو تعمیر کا حکم دیا اور 1743  میں  یہ  ماریا تھیریزا کی موسم گرما کی رہائش بنی۔  1745 میں یہ محل اپنے خوبصورت پارک کے ساتھ موجودہ شکل میں ڈھالا گیا۔   جنگ عظیم اول کے خاتمے تک رومی اور پھر ہنگری آسٹیرین سلطنت کے شہنشاہوں کے زیر استعمال رہا۔ یہ باروک فن تعمیر کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ اس کی  آخری تزئین  1996 میں ہوئی ۔

اب ذرا اس سے آگے چلتے ہیں اور ویانا کا ہوف بورگ دیکھتے ہیں۔ یہ تیرھویں صدی سے   1918تک تعطل ہی سے سہی مگر یہ شہنشاہ خاندان ہابسبورگ کا مسکن رہا ہے۔  1945 سے صدر آسٹریا کی رہائش  گاہ  ہے۔ اس کے زیادہ تر حصے میں آسٹریا کا قومی کتب خانہ ہے۔ کئی ایک میوزیم بھی یہاں بنادیے گئے ہیں۔ جیسے البرٹینا  ۔ اس کے علاوہ اس کے  ایک حصے کو  آسٹریا کے چانسلر کے دفتر کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بات سے آپ اس کی وسعت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہیں ہوف بورگ کی کورس موسیقی اور اگسٹینر چرچ بھی اسی عمارت کے احاطے میں موجود ہے۔  اس کا رقبہ 24 ہیکٹر ہے۔   یہاں پانچ ہزار افراد کے رہنے اور کام کرنے کی گنجائش ہے۔  دو کروڑ سیاح یہاں ہر سال آتے ہیں۔
ہوف بورگ کے چوڑے دروازے اور اس کے اندر بچھی سڑکیں نہایت کشادہ ہیں۔ یہاں پر متعین قدیم طرز کی بنی بگھیاں سیاحوں کو اس کے اندر کی سیر کراتی ہیں۔ 55 یورو میں بیس منٹ ایک شاہانہ بگھی پر بیٹھنے کو دل مچل اٹھا مگر پاسبان عقل کا خیال تھا کہ اتنی مہنگی سواری کی کوئی ضرورت نہیں۔  یوں بھی پیدل چلنا صحت  کے لئے اچھاہے۔ یہاں سے نکل کر ہم آگے چلتے ہوئے اسٹیفن کیتھیڈرل یعنی کتھیڈرل چرچ کی جانب چلے۔ یہ چرچ  1365 سے قائم ہے۔ اور  1469 میں اسے کتھیڈرل چرچ یعنی بشپ کی تعیناتی کادرجہ دیاگیا۔ یہ رومن کیتھولک چرچ ہے۔ اور اس کی شاندار 137 میٹر اونچی اور 34 میٹر چوڑی عمارت اندر و باہر سے قابل دید ہے۔ گوٹیک طرز تعمیر کااعلی نمونہ پیش کرتی یہ عمارت پورے آب وتاب سے سفید رنگ میں دور سے ہی نظر آجاتی ہے۔ اس کے چار میں سے دو مینار 65 میٹر اونچے ہیں۔ جبکہ سب اونچا مینار 136میٹر اونچا ہے۔ اس کا چوتھا مینار  68 میٹر اونچا ہے۔ اس کا نام عیسائی مذہب کے پہلے شہید اسٹیفانس کے نام پر ہے۔ سابقہ آسٹریائی ہنگری سلطنت میں کسی دوسرے چرچ کو اس سے اونچا بنانے کی ممانعت تھی۔ مثال کے طور پر لنز میں واقع ماریا ایمفینگس چرچ کی اونچائی دانستہ دو میٹر کم رکھی گئی۔
اس کا جنوبی مینار اپنے وقت کے فن تعمیر کا اعلی نمونہ ہے۔ اس کے اتنے طویل القامت ہونے کے باوجود اس کی بنیاد صرف 4 میٹر ہی زمین کے اندر ہے۔ اس میں تیرا گھنٹیاں لگی ہیں۔
آج کا دن کافی تھا۔ اور ہم نے بقیہ سیر کو دوسرے دن پر اٹھا رکھا اور اپنے ہوٹل واپس آگئے۔ پراٹر میں واقع ہوٹل کا علاقہ بھی خاصا خوبصورت ہے۔ دوسرے دن ہم پہلے ویانا کا ٹاؤن ہال دیکھنے گئے۔ یہاں ہمیں داخل ہوتے ہی استقبالیہ پر ایک نوجوان خاتون مل گئیں اور فوراً بولیں آپ چاہیں تو اردو میں بھی بات کرسکتی ہیں۔ بیگم  خوش ہوگئیں اور چھوٹتے ہی پوچھ بیٹھیں یہ بتائیے کہ ویانا میں مشہورشاپنگ سنٹر کون کون سےہیں اور وہاں تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے۔ خاتون جو کہ سیاحوں کی مدد کو کھڑی تھیں نہایت خندہ پیشانی سے ہمیں نقشہ نکال کر راستہ بتانے لگیں۔ باہر نکل کر میں ایک پڑی بینچ پر ڈھیر ہوگیا اور سوچنے لگا کہ سیر کا آغاز کہاں سے کروں۔ چونکہ شاپنگ مال  دور تھا جبکہ ویانا کی تاریخی عمارتیں ہمارے سامنے تھیں۔

 بیگم میرا موڈ بھانپ کر بولیں چلیں پہلے  اہم تاریخی مقامات دیکھ لیتے ہیں اور پھر جب آپ تھک جائیں تو پھر ہم شاپنگ سنٹر چلیں گے۔  وہاں بھی آپ کہیں بیٹھ کر سستالیجیے گا اور میں شاپنگ کر لوں گی۔ یہ سن کر میں ایکدم اٹھ کھڑا ہوا۔ زمین دوز ٹرین پکڑی اور کارل پلٹز آگئے۔ دوسری عمارتوں کے ساتھ ساتھ ہم نے ویانا کا سرکاری اوپیرا دیکھا۔ یہ دنیا کے مشہور ترین اوپیرا  میں شامل ہے۔ جس کا افتتاح25 مئی 1869 کو ڈان جیوانی موتسارٹ، دنیا کےعظیم ترین موسیقار کے ہاتھوں ہوا تھا۔
اس کے سامنے ہی قدیم طرز کے لباس میں ملبوس نوجوان نے  ہمیں  آنے والی کل کے میوزکل کے  ٹکٹ بیچنے  کے لئے ہمارا  آگے بڑھ کر استقبال کیا۔