نعروں سے معاشی کارکردگی میں بہتری!


پاکستان میں جاری داخلی خارجی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ کاری کا عمل رک چکا ہے۔ منڈیاں اور اسٹاک مارکیٹ کساد بازاری سے دو چار ہیں، چین،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ملنے والے مالیاتی پیکج کی وجہ سے وقتی طور پر ادائیگیوں کے معاملات بہتر بنانے میں مدد ملی ہے مگر عالمی مالیاتی اداروں سے پیکج کا حصول نا گزیر ہو چکا ہے۔
 گزشتہ حکومت نے پاکستان چین اقتصادی راہداری میں سرمایہ کاری کے ذریعے توانائی کے بحران پر قابو پانے اور انفرسٹکچر کی تعمیر (شاہرات)میں مدد ملی ہے اقتصادی راہداری منصوبوں پر نظر ثانی کے عمل کے دوران کئی منصوبے التوا کا شکار ہو چکے ہیں جس سے سرمایہ کاری کی خواہش مند نجی چینی کمپنیوں اور افراد کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔موجودہ سیاسی محاذ آرائی میں پاک چین راہداری کے منصوبوں کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں آ رہی ہیں۔وزیر اعظم عمران خان آج کل چین کے دورے پر ہیں اور اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ فری ٹریڈ معاہدہ کے تحت پاکستان کی زرعی اجناس کو چین کی منڈیوں پر رسائی ہو سکے گی۔ یہ ہمارے برآمد کنندگان پر ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کا معیار برقرار رکھتے ہوئے ان کیلئے چینی منڈیوں میں زیادہ سے زیادہ گنجائش حاصل کر سکیں۔آج کل چین دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت ہے جس کو عالمی مالیاتی اداروں میں خاصی اہم اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اعلیٰ وفود سے عمران خان کی چین میں ملاقات ہونے والی ہے۔اگر ہم اپنے حکمرانی کے انداز کو دیکھیں تو یہ تاریخی مکافات عمل کے تحت چل رہی ہے۔
ہمارے حکمران کبھی دیر لگاتے ہیں تو کبھی بہت جلد کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔نظام کو بدلنے کا نعرہ لگانے والے حکمرانوں کو طویل وضاحتیں پیش کرنا پڑتی ہیں اور یو ٹرن لینے پڑتے ہیں۔ہر نظام کی ایک روش بھی ہوتی ہے جب بحران بڑھتا ہے تو اس کی حرکیات پر اس کو چلانے والوں کا کنٹرول نہیں رہتا ہے جس کی مثال ڈالر کے مقابلے میں پاکستان کے روپے کی قدر کی قیمت میں گراوٹ ہے۔ برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکا ہے۔ مہنگے درآمدی خام مال سے تیار کردہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی مراعات کے باوجود سرمایہ اور صنعت کاری کے عمل میں بہتری نہیں آئی۔ ہمارے حکمرانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے تاریخ اور معاشیات کے بدلتے ہوئے انداز بالخصوص عالمگیرت کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے۔وہ وہی کر رہے ہیں جو کہ ماضی میں کرتے آئے ہیں۔عالمی اور مالیاتی اداروں سے قرضہ لے کر ریاستی معاملات چلانے کی روش برقرار ہے۔  عوام میں اپوزیشن اور حکومت دونوں کی کارکردگی کے حوالے سے تحفظات ہیں، موجودہ سیاسی منظر نامے میں حکومت اتنی تیزی سے زوال پذیر ہوئی ہے اور بلائی طبقات اور مڈل کلاس کا نئے پاکستان کیلئے گٹھ جوڑ 70%آبادی کیلئے کوئی ریلیف فراہم نہیں کر سکا۔ موجودہ سیاست میں تہذیب اور اخلاق کی کوئی گنجائش نہیں ہے کوئی دن نہیں گزرتا جب حکمران طبقات معیار سے گری ہوئی حرکت نہ کرتے ہوں۔ غریبوں کے زخموں پر مہنگائی اور بے روز گاری کے نشتر چلائے جا رہے ہیں۔
معاشی بحران گھمبیر ہوتا جا رہا ہے پاکستان کا روپیہ جنوبی ایشیا کی سب سے سستی کرنسی بن چکا ہے۔ ساتھ ہی بلاواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے افراط زر کی سطح پچھلے چھ سالوں کی نسبت بلند ترین سطح پر ہے۔بجلی کی نرخوں میں تسلسل سے اضافہ کیا جا رہا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے، علاقہ کے تمام ممالک میں  معیشت ترقی کر رہی ہے جبکہ ہماری قومی شرح نمو صرف افغانستان سے بہتر ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں شرح افراط زر سے دگنا اضافہ ہوا ہے۔ادوایات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے جو کہ اس سے قبل پاکستانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ان بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول نہ کرنے کے الزام میں وفاقی وزیر صحت کو فارغ کر دیا گیا ہے۔حکومت اب دوا ساز کمپنیوں پر ادوایات کی قیمتیں کم کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے مگر تاریخ بتاتی ہے پاکستان میں جب کسی چیز کے دام بڑھ جائیں تو انہیں واپس نہیں لایا جا سکتا بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کے مشہور معیشت دان قیصر بنگالی کے بقول مہنگائی کی شرح 20%سے زیادہ ہو سکتی ہے۔جس کی وجہ اخراجات کو پورا کرنے کیلئے نئے نوٹوں کا چھاپنا ہے جس سے افراط زر مزید بڑھتا ہے۔ حکومت کیلئے نئے  کام  اور  روز گار فراہم کرنا دور کی بات ہے،  وہ ایسے حالات پیدا کرنے سے قاصر ہے جس میں سرمایہ کاری ہوسکے۔  تنہا ریاست اپنے وسائل سے کبھی بھی عوام کو روز گار فراہم اور غربت سے نکال نہیں سکتی۔ اس کیلئے صرف معیشت کا چالو انجن ہی کار گر ہو سکتا ہے۔ ہم پرانے قرضے اتارنے کیلئے نئے قرضے حاصل کر رہے ہیں جبکہ ان پر سود کی ادائیگی کیلئے بجٹ خساروں میں مزید اضافہ کرتے رہتے ہیں، ترقیاتی کاموں پر کٹوتیاں کی جاتی ہیں قرضہ جات کیلئے پیسے صبح کو آتے ہیں تو شام کو چلے جاتے ہیں جبکہ قرضوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
 زر مبادلہ کے موجودہ ذخائر بھی صرف دو ست ممالک سے حاصل کردہ قرضہ جات ہیں جبکہ آنے والی ترسیلات سے محض تیل اور دیگر درآمدات کی ادائیگی ممکن ہو پاتی ہے۔ حکومت نے مہنگائی اور افراد کے اعداد و شمار تیار کرنے والے ادارے کو بند کر دیا ہے۔ اس کے تمام اختیارات وفاقی وزارت منصوبہ بندی کو سونپ دیئے ہیں شرح سود 10.75%پہنچ گئی ہے جس میں مزید ضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جو کہ پہلے ہی سکڑی ہوئی معاشی سر گرمیوں کو روکنے کے مترادف ہے۔ بے روز گاری بڑھ رہی ہے،  قومی معیشت کی شرح نمو گر رہی ہے، مزید روز گار فراہم کرنے کیلئے شرح نمو کم از کم 7%کرنا ضروری ہے۔پچھلے 8ماہ میں 13ہزار 4سو ارب روپے کے قرضے لیے گئے ہیں۔مجموعی قرضے1340ہزار ارب ہو چکے ہیں جس میں دیگر مدوں میں ادائیگوں کی ذمہ داریوں، ریاستی گرانٹ شامل نہیں ہیں۔کل بجٹ کا69%قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی آخراجات پر خرچ ہو رہا ہے۔رواں سال بجٹ کا خسارہ 7.2%رہنے اور بڑھنے کا امکان ہے۔
سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹوں اور ادوایات کی سہولیات ختم کر دی ہیں۔ حکومت آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق پنشنوں کا خاتمہ اور ریٹائرڈ منٹ کی عمر55سال کرنے کا سوچ رہی ہے۔ ریاستی تحویل میں اداروں کی نجکاری کے بارے میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان امور کے ماہر عبدالحفیظ کو وزار خزانہ کا قلم دان سونپ دیا گیا ہے مگر معاملات پھر بھی درست ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں۔درآمدات میں کمی کی وجہ سے حکومت کو  محصولات میں کم آمدنی ہوئی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے پانچ فیصد یعنی چودہ ارب ڈالر تک رہے گا۔ آئی ایم ایف سے عنقریب ڈیل کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے۔عالمی طاقتیں اور ان کے مالیاتی ادارے ڈبل گیم کر رہے ہیں۔ افغانستان میں عالمی طاقتیں اپنا کھیل کھیل رہی ہیں۔ پاکستان کو چین سے دور کرنے کیلئے مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے ایف اے ٹی ایف کے دباؤ کے تحت دیگر شرائط منوائی جا رہی ہیں، خیال یہ ہے کہ آئی ایم ایف اے ٹی ایف کی ہدایات کے مطابق ہی ہمیں قرضہ دے گا۔
 ہم پہلے سے کالعدم تنظیموں کے خلاف پابندیاں لگا رہے ہیں۔ یہ بھی سنا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی طاقتوں کا دباؤ ہے کہ پاکستان ان سے حاصل کردہ قرضوں کے ذریعے چین کو ادائیگی نہیں کرے گا، آئی ایم ایف کا تازہ ہدف ہے کہ ٹیکس کو 13%بڑھایا جائے۔ اس طرح مزید ایک ارب ڈالر کے ٹیکس لگانے پڑیں گے۔  جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف کے ان اقدامات کی وجہ سے معیشت میں سدھار لانے کی امید نہیں کی جا سکتی اس کیلئے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔جب تک مقامی معیشت کے پہیے کو متحرک نہیں کرتے ہیں تو یہاں پر معیشت میں بہتری نہیں آ سکتی۔
ہمارا رئیل اسٹیٹ سیکٹر جس میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے اور اس کے ساتھ دیگر کاروباری اور صنعتی شعبوں کے چالیس ادارے منسلک ہیں۔ان کو دوبارہ متحرک کرنے کیلئے نئے ویلیو ایڈیشن ٹیبل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یاد رہے رئیل اسٹیٹ سے تعلق رکھنے والے سرمایہ داری اپنے غیر ظاہر شدہ پیسے کو رئیل اسٹیٹ میں استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ملک میں بے نامی کاروبار ستر سال پرانا ہے اور ہر دوسرا شخص بالخصوص جائیدادکاروبار کرنے والا شخص غیر ظاہر شدہ اکاؤنٹ استعمال کرتا ہے۔ ان اکاؤنٹس کو باقاعدہ بنانے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے تا کہ بے نامی لین دین فائلر اور نان فائلر کے پرانے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ امید کی جاتی ہے کہ نئے وزیر خزانہ ان مسائل کو کامیابی سے حل کر کے غیر یقینی صورتحال کو ختم کریں۔ لیکن  حکومت کو ٹیکنو کریٹس کی پالیسیوں پر زیادہ انحصار کرنے کی بجائے اپنی پارٹی کے تھینک ٹینک کے ذریعے عوام دوست پالیسیوں متعارف کروانا چاہیے تا کہ ان کا اپنے ووٹ بینک پر اعتماد بر قرار رہ سکے۔