سفر در سفر ۔ 2 : ل سے لاہور

میں علم الاعداد کا ماہر ہوں اور نہ ہی فلکیات میں  درک  رکھتا ہوں لیکن ادب کے ایک دیرینہ طالب علم کے طور پر لفظوں کے باطن میں اُترنا اور حسبِ توفیق اُن کے پوشیدہ اور مخفی معانی تلاش کرنا میرا شُغل بلکہ وظیفہ ہے جس میں اللہ نے مجھے ہمیشہ مشغول رکھا ہے ۔

لاہور کی تاریخ بہت پرانی ہے  جب پہلی بار جب راوی کنارے لوحِ خاک پر  لاہور کا نام کندہ کیا گیا  تو میں موجود نہیں تھا لیکن میری روح کہیں آس پاس موجود تھی مگر اُس دور کی کوڑی کی اس وقت ضرورت کیا ہے ۔ میں تو آج کے لاہور کی بات کر رہا ہوں ۔ لاہور کے پانچ حروف ہیں جو حواسِ خمسہ اور دین کے پانچ ارکان کا ارضی کنایہ ہیں جس پر پانچ دریاؤں نے اپنے دستخط ثبت کر رکھے ہیں  ۔ اگر علم الاعداد کی مدد سے لاہور کے جملہ اعداد کو جمع کریں تو حاصل جمع آٹھ ہے ۔ ۸ زحل کا نمبر ہے ۔ چنانچہ میں لاہور کو بلادِ زحل کہتا ہوں ۔ علم الاعداد ایک دریاؤ ہے اور اس وقت دریا کے بہاؤ کے ساتھ بہنے کا ہنگام نہیں ۔

میں لاہور کے لا سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہوں ۔ لا معنوی اعتبار سے عدم ، نفی اور ورائے وجود کی تحریری علامت ہے جسے انگریزی میں (نتھنگ نیس) کہتے ہیں اور لا کے بعد لاہور میں ہُو کا دشت پڑتا ہے جس کے ڈانڈے حجرت سلطان  باہو کے ہو میں ضم ہوتے محسوس ہوتے ہیں ۔ لیکن شاید اہلِ لاہور نے کبھی اسے محسوس کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ۔ مگر لاہور جانتا ہے کہ لا اور ہُو کے سنجوگ کی کہانی کیا ہے ۔ لا اور ہو کی سرحد پر رے واقع ہے جس کی عددی قیمت ۲۰۰ ہے جس میں سے دو صفر الگ کر کے اُسے ۲ ہی قرار دیا جاتا ہے ۔ ۲ کا عدد ب کا ہم قیمت ہے ۔ اور بسم اللہ کی ب اس کا تخلیقی لباس ہے ۔

اس سیاق و سباق کے ساتھ  لاہور اُس پنج پھول رانی " پنجاب" کے سر کا تاج ہے ۔ مجھے پنج پھول رانی سے محبت ہے کیونکہ یہ دست نما سر زمین محبت کرنے والے عاشقوں ، شاعروں  اور اللہ والےصوفیوں کا ٹِلّہ ہے ۔ یہ  جوگیوں کا ٹِلّہ ، سادھوؤں کا مٹھ اور صوفیوں کی خانقاہ ہے ۔ پنجاب اس سیارے کا داہنا ہاتھ ہے جس میں بہتے ہانچ دریا ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کا استعارہ ہیں ۔ اِن میں درمیان کی اُنگلی چناب ہے ، جس کا پرانا نام چندر بھاگا ہے یعنی چاند کے نصیبوں والا اور چاند کا نصیب محبت ہے ۔ چاند جو سورج کے بدن کا  ٹُکڑا ہے ، اپنے اصل سے جُڑنے کی آگ میں سلگتا رہتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس دریا کے کنارے محبت کی جو داستانیں معرضِ اظہار میں آئیں وہ آج بھی زبان زدِ خاص و عام ہیں ، تھیں اور رہیں گی ۔ مرزا رفیع سودا گواہ ہیں کہ :

سُنایا رات کو قصّہ جو ہیر رانجھے کا

ہم اہلِ درد کو پنجابیوں نے لُوٹ لیا

ہیر کی داستان جسے سب سے پہلے دمودر داس نے لکھا تھا ، اُسے  سیّد الشعرا وارث شاہ نے امر کیا ۔ پھر مرزا صاحباں ، سوہنی مہینوال ، سہتی مُراد اور دُلّا بھٹی اور نوراں کی کہانیاں پنج پھول رانی پنجاب نے اپنے پھولوں کی پتیوں پر لکھیں اور اِن کہانیوں نے پنجاب کی تالفِ قلب کی اور اس دوران  پس منظر میں ایک رزمیہ  مسلسل گونجتا رہا:

ایہہ دھرتی پھُلاں دی دھرتی

ایہہ دھرتی فصلاں دی دھرتی

ایہہ دھرتی دریاواں والی

اُچیاں اُچیاں نانواں والی

ایہہ دھرتی اقبال دی دھرتی

حضرت مادھو لال دی دھرتی

ایس دھرتی دے سجرے پانی

گھوڑیاں وانگوں اتھرے پانی

میں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ میں وہاں تک ہوں جہاں تک موتیے کے پھولوں کی مہک ، نوری کیمبو کے ڈھولوں کی گھوکر ، پنجابی لوک ماہیے ، گُلی ڈنڈے کے ٹُل اور کبڈی اور سونچی کے پِڑ ہیں ۔اور وہاں وہاں بھی جہاں چاندنی راتوں میں لُکن میٹی کھیلی جاتی ہے اور لُکن میٹی کا اردو ترجمہ بھی لُکن میٹی ہی ہے ۔ شیشم اور شہتوت ہیں  ، بیریاں اور کیکر ہیں ، جنڈ اور پیلوں کے بندے پہنے ہوئےونڑ ہیں  جو اب خال خال ہی رہ گئے ہیں ۔ مگر میں جو پنجاب ہوں ، میں تو ہوں ، میری لوک کہانیاں ہیں ، میرے لوگ گیتوں کی دھنیں ہیں اور میرے وجود میں پنجاب عشق بن کر سمایا ہوا ہے ۔ اپنے عشق کے عقیدے کے ساتھ میں بالناتھ جوگی سے جوگ لے کر ، گیروے احرام میں ، ونجھلی تھامے ، ہیر کے منگو چراتا اپنی دھن میں مال روڈ کے پرانے درختوں کے سائے میں گنگناتا چلا جا رہا ہوں :

وارثا ! تیرے شعر دریا ہیں

وارثا ! تیرے شعر صحرا ہیں

عشق کے پُر بہار ٹیلے پر

صدق کے چاند مجلس آرا ہیں

یار ، تو نے جو ہیر لکھی ہے

آیتِ بے نظیر لکھی ہے

پردہ ء مصلحت کو سرکا کر

داستانِ ضمیر لکھی ہے

جب بھی پڑھتے ہیں ہیر بنجارے

راہرو ، راہ بھول جاتے ہیں

میری نظروں کی حد میں وائی ایم سی اے کی عمارت ہے جہاں حلقہ ء اربابِ ذوق کی سبھا جمتی ہے ۔ منیر نیازی ، ظہیر کاشمیری ، ڈاکٹر تبسم کاشمیری ، زاہد ڈار ، سہیل احمد خان ، سجاد باقر رضوی ، شہرت بُخاری ، قیوم نظر ، مظفر علی سید ، انیس ناگی ، انتظار حسین ، یوسف کامران ، شہزاد احمد ، احمد مشتاق ، اعجاز حسین بٹالوی ، کشور ناہید اور سلیم شاہد سمیت سبھی وہیں ہیں ۔ نئی نظم پر بحث جاری ہے ۔

اچانک گاڑی چیختی ہوئی بریکوں کے ساتھ ایک چوراہے میں رُکتی ہے تو ایک زور کا ہجوکا مجھے جگا دیتا ہے۔ ارے یہ کیا ، میں تو خواب دیکھ رہا تھا ۔ لاہور میں لاہور کا خواب  کیونکہ یہ وہ لاہور تو نہ تھا جسے میں چھوڑ کر لاہور سے نکلا تھا ۔ ان برسوں میں راوی کے اژدہے نے کینچلی بدل لی تھی ۔ " ارے یہ  لاہور  وہ " لہور" تو نہیں  " کا اذیت ناک  خیال کیوں بار بار عقرب کے ڈنک کی طرح مجھے نشانہ بنائے ہوئے ہے ۔ آخر میں کب تک لاہور میں لاہور کو ڈھونڈتا رہوں گا ؟

شاید جب تک لاہور مل نہیں جاتا ۔ ( جاری ہے )