بین الاقوامی طلبہ کنونشن او رمکالمہ کا کلچر


 

پاکستانی نوجوانوں میں مکالمہ اور رواداری پر مبنی کلچر کمزور ہوا ہے۔ ہم مکالمہ کی بجائے طاقت کو اپنا ہتھیار سمجھتے ہیں اور اسی بنا پر نئی نسل میں  انتہا پسندی اور تشد د کے کلچر کو طاقت ملتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے طالب علموں کو محض نصابی کتابوں تک محدود کردیا ہے او ران کی غیر نصابی عملی سرگرمیاں یا تو ختم ہوگئی ہیں یا بہت ہی محدود کردی گئی ہیں۔
طالب علم او رسماج کا باہمی تعلق اور تبدیلی کے عمل کی بحث ہمیں موجودہ تعلیمی نظام میں کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ اس کا ایک  نتیجہ نئی نسل کا سماج کی ترقی میں بڑھتا ہوا محدود کردار ہے او راس محدود کردار نے خود اس نئی نسل کے مسائل میں بھی اضافہ کیا ہے۔کیونکہ ہم ترقی کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں او ریہ بھول جاتے ہیں کہ نئی نسل میں بھی تبدیلی کا عمل ایک مجموعی سیاسی، سماجی او رمعاشی ترقی سے جڑا ہوتا ہے۔
لاہو رمیں پچھلے دنوں انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم، ادارہ برائے جمہوری تعلیم اینڈ ایڈوکیسی)آیڈیا(پیغام پاکستان،  اقوام متحدہ مرکز اطلاعات،  یونیورسٹی آف ایجوکیشن او ردیگر جامعات کے تعاون سے تین روزہ دوسرے بین الااقوامی سٹوڈنٹس کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔اس کنونشن کی افتتاحی تقریب سے چیرمین وزیر اعظم ٹاسک فورس برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطا لرحمن، صوبائی وزیر برائے اعلی تعلیم پنجاب راجہ یاسر ہمایوں، سابق چیرمین ہائر ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر نظام الدین،  چیرمین سٹیرنگ کمیٹی سٹوڈنٹس کنونشن اور وائس چانسلر یونیورسٹی آگ ایجوکیشن ڈاکٹر روف اے اعظم او رمرتضی نور نے خطاب کیا۔ اس سٹوڈنٹس کنونشن میں 450سے زیاد ہ طلبہ وطالبات نے بھرپور شرکت کی۔ ان میں پنجاب اور سندھ کی مختلف یونیورسٹیوں کے طالب علمو ں اور اساتذہ کی شرکت تھی اور ان میں پاکستان میں مختلف جامعات میں پڑھنے والے غیر ملکی طالب علم بھی شامل تھے۔
اس تین روزہ سٹوڈنٹس کنونشن کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں کل 12ورکشاپس، 17مختلف چھوٹے بڑے سیمینارزاور 16کے قریب طلبہ و طالبات کے درمیان مختلف طرز کے مقابلے شامل تھے۔ملک کے کئی ماہرین نے مختلف سیشن میں طلبہ و طالبات سے خطاب کیا او راچھی بات یہ لگی کہ یہ سیشن دوطرفہ مکالمہ کے طرز پر تھے او ر کافی زیادہ سوال وجواب بھی کیے گئے۔ جو سیشن منعقد کیے گئے ان میں امن،  رواداری میں جامعات کا کردار،  انتہا پسندی کا خاتمہ او رنوجوان طبقہ، نوجوان طبقہ او رمیڈیا،  میڈیا کا امن کے بیانیہ میں کردار،  پیغام پاکستان قومی بیانیہ، سماجی اہم اہنگی او رامن کا ایجنڈا، سٹوڈنٹس سوسائٹیوں کو کیسے مستحکم کیا جاسکتا ہے،  نوجوان طبقہ اور پارلیمنٹ سمیت کتابوں کی تقریب رونمائی، مشاعرہ،  کلچرل موسیقی اور سرگرمیاں بھی موجود تھیں۔
بنیادی طو رپر اس سٹوڈنٹس کنونشن کا مقصد نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا او رایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا عمل تھا او رخاص طور پر طالب علم کیسے معاشرے کی ترقی میں امن و ترقی او رخوشحالی کے ایجنڈے کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت اگر ہم دیکھیں تو ہماری نوجوان نسل میں بہت زیادہ شدت پسندی کا عمل زور پکڑ رہا ہے۔ ہم اپنے معاملات،  تنازعات کو مکالمہ او ربات چیت کی مدد کی بجائے طاقت کے استعمال کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص طو رپر مختلف مذاہب، کلچر، براداری،  فرقہ کی بنیاد پر ہماری نوجوان نسل میں جو تقسیم پیدا ہورہی ہے اس نے معاشرے کو طاقت ور بنانے کی بجائے اور زیادہ کمزو رکردیا ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں سے امن کی تحریکیں اٹھنے کی بجائے تشدد کے واقعات سامنے آتے ہیں جو ایک بڑا خطرہ ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے سے ہماری جامعات سے ایسے طالب علم بھی سامنے آرہے ہیں جو ریاست کی رٹ کو چیلنج بھی کرتے ہیں اور ان کا عمل انتہا پسندی اور تشدد کی سیاست کو پھیلانے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری نئی نسل میں جس خوفنا ک انداز میں اپنے مستقبل کے تناظر میں غیر یقینی صورتحال اور لاتعلقی کا احساس پیدا ہورہا ہے وہ خو دایک بڑا خطرہ ہے۔ کیونکہ نئی نسل کے مسائل بڑھ رہے ہیں او ر فیصلے کا اختیار رکھنے والے ادارے، حکومت اور ریاستی نظام ان کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔یہ ہی وجہ ہے کہ نئی نسل میں غصہ, بغاوت کا پہلو بھی نظر آتا ہے۔اس لیے اگر ہم نے نئی نسل میں امن, ترقی کے ایجنڈے او رانتہا پسندی کے خاتمہ پر زور دینا ہے تو ہمیں نوجوانوں کے اہم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔
طلبہ تنظیموں پر کئی دہائیو ں سے پابندی ہے۔ اس پابندی نے بھی نوجوانوں کو سیاسی طو رپر تنہا کردیا ہے او ران کا سیاسی, سماجی شعور خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔لیکن اب بھی تعلیمی اداروں کی سطح پر مختلف طرز کی سٹوڈنٹس سوسائٹیاں موجود ہیں جن میں ادب،  کلچر، ڈرامہ میوزک، تقریری مقابلے،  مشاعرہ  کھیل شامل ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سٹوڈنٹس سوسائٹیوں کو زیادہ مضبوط او رفعال کریں اور ان کی مدد سے مختلف سرگرمیوں کا باقاعدگی سے انعقاد  نئی نسل میں اعتمادسازی او رایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے سمیت بہتر تعلقات بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہمارے نوجوان منفی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ان کو بھی روکنے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی عمل میں نصابی کتابو ں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کو بنیاد بنایا جائے۔
تعلیمی اداروں میں مکالمہ کا حقیقی کلچر پیدا کرنا ہوگا اور یہ احساس نوجوانوں میں دینا ہوگا کہ ہمیں اپنے خیالات، سوچ اور فکر کے ساتھ ساتھ دوسروں کے خیالات کو بھی عزت دینی ہوگی۔ آپ کسی کے خیالات سے ضرور اختلاف کریں او رقبول نہ کریں لیکن اس کے لیے اپنے اندر احترام کا رشتہ پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ عمل سماج میں سماجی اہم او رایک دوسرے کی قبولیت کو یقینی بناتا ہے۔ہمیں نصابی کتابوں میں یقینی طور پر کئی بڑی تبدیلیاں کرنی ہوں گی  جو لوگوں میں نفرت، تعصب کے مقابلے میں امن  و رواداری او رمحبت کے کلچر کو عام کرے۔کیونکہ ہم کہتے ہیں تعلیمی اداروں کا مقصد ایک متبادل خیالات او رسوچ سمیت فکر کو پیش کرنا ہوتا ہے۔یہ طالب عملوں او راساتذہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسی تحقیق کو سامنے لائیں کہ وہ ایسے کونسے محرکات ہیں جو نئی نسل میں انتہا پسندی کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں او ران مسائل کا ہمیں کیا علاج درکار ہے۔
پاکستان اس وقت انتہا پسند ی سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں ایک نیا بیانیہ مضبوط بنانا ہے جو اس خیال کو تقویت دے کہ ہم امن اور محبت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔یہ بیانیہ یقینی طور پر تعلیمی اداروں سے ہی مضبوط ہوگا اورا س میں استاد سمیت طالب علموں کا اہم کردار ہوگا۔ خاص طور پر ہمیں نوجوان لڑکیوں کو امن کے سفیر کے طو رپر سامنے لانا ہوگا او ران کو بتانا ہوگا کہ امن کی ضرورت کس طرح سے نوجوان لڑکیوں کے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
اسی طرح کے آرٹ،  لٹریری کلچرل فیسٹول او ریوتھ یا طلبہ کنونشن یقینی طو رپر معاشرے میں موجود انتہا پسندی کے خاتمہ میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس طرز کا سلسلہ ہمیں اگر مختلف تعلیمی اداروں میں دیکھنے کو ملے تو اس سے ہمارا مجموعی طور پر تعلیمی نظام میں بہتری بھی آئے گی او رایک نیا کلچر بھی پیدا ہوگا جو ایک دوسرے میں فاصلے پیدا کرنے یا نفرتوں کو جنم دینے کی بجائے قریب لانے کا سبب بھی بنے گا۔ یہ کام اگر ریاستی اور حکومتی سطح پر ہو او رتعلیمی اداروں کو غیر نصابی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے تو ہم نئی نسل میں ایک بڑی تبدیلی  سامنے لاسکتے ہیں۔ ہمیں  تعلیمی نظا م کو قومی سنگین مسائل کے حل کے طو رپر پیش کرنا ہے اور نئی نسل کو یہ باو رکروانا ہے کہ جو مسائل ہمیں درپیش ہیں ان کا مقابلہ بھی آپ نے کرنا ہے اور ہمیں اس بحران سے نکالنا بھی اسی نئی نسل کی ذمہ داری بھی ہے۔