ویانا سے براٹیسلاوا ۔۔۔ تاریخ کے دریچوں سے جھانکتی زندگی

ویانا کی سیر ہوچکی تھی۔ اور تھک جانے پر ہم بیگم کو شاپنگ سنڑ بھی لے جاکر مال میں خود کسی صوفے پر دراز ہوگئے تھے۔ اب ہماری اگلی منزل براٹیسلاوا تھی۔

ہم نے رات ہی فیلکس بس پر سیٹیں بک کرلی تھیں۔ اور صبح سویرے ہم نکل پڑے۔ بس شہر ویانا میں چکر لگاتی چھوٹے چھوٹے گاؤں سے ہوتے ہوئے براٹیسلاوا کی جانب بڑھنے لگی۔ تقریباً پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ہمیں آسٹریا، سلواکیہ اور ہنگری کی سرحد سے قریب دریائے ڈوناو پر واقع آسڑیا کا آخری شہر ہائین برگ ملا۔ اس چھوٹے سے شہر کی تاریخ میں بڑی اہمیت یوں ہے کہ جب ترک سلطان نےویانا کا دوسری مرتبہ محاصرہ کیا تو ہائین برگ پر اس کا گیارہ جولائی 1683 کو قبضہ ہوگیا۔ جس کے بعد شہر میں توڑ پھوڑ مچی اور یہ شہر خاصا برباد ہوگیا۔ بس تاریخ کے دھارے سے بے خبر آگے بڑھتی رہی اور برٹیسلاوا سے قریب ہوتی گئی۔

براٹیسلاوا، سلواکیہ کا درالحکومت ہے۔ اس کا پرانا نام پریس برگ ہے۔ اور کبھی یہاں اکثریت جرمن باشندوں کی ہوا کرتی تھی۔ یہ شہر ہنگری کا پایہ تخت رہا اور 1939 سے 1945تک پہلی سلواکیہ رپبلک کا دارالحکومت بنا۔ 1968 میں براٹیسلاوا سلواکیہ سوشل رپبلک کا درالحکومت بن گیا۔ جو کہ ازخود ملک خداداد سوشلسٹ ریپبلک چیکو سلواکیہ کا حصہ تھا۔ پھر  1990 تا 1992 ایک چیکوسلواکیہ فیڈریشن بنا اور بالآخر  دوعلیحدہ علیحدہ ملک وجود میں آنے کے بعد براٹیسلاوا، سلواکیہ کا دارلحکومت بن گیا۔
براٹیسلاوا ہنگری اور آسٹریا کی سرحد پر واقع ہے۔ اور دنیا کا واحد دارلحکومت ہے جو کسی دوسرے  کی سرحد سے اتنا قریب واقع ہے۔ اس کی کل آبادی صرف429.564 نفوس پر مشتمل ہے۔
بس ہمیں شہر کے مرکزی بس اڈے پر لے آئی۔ ڈرائیور نے انگریزی زبان میں زور سے آواز لگائی ’ اگر شہر کے اہم تاریخی مقامات دیکھنے ہیں تو لوگو یہیں اتر جاؤ‘۔ شہر کے تاریخی پل سے گزر کر جب بس اڈے پر رکی تو میں نے بھی یہیں اترنے کا فیصلہ کر لیا۔ حالانکہ جانا ہمیں بس کے آخری اڈے تک ہی تھا۔
اس شہر کی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ  شہر پر مختلف یورپی اقوام جیسے کیلٹن، رومی، گرمانک، جرمن، آوارن، ماگیارن، یہودی اور سلاوی وغیرہ شامل ہیں، کی تہذیبی، ثقافتی مگر فوج کشی کے اثرات ثبت ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ براٹیسلاوا ہنگری کی سلطنت اور ہنگری آسٹریا سلطنت میں ایک اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز رہا ہے۔ اور اسی طرح چیکو سلاکیہ کی حکومت کے دور میں بھی۔
یہ وہ شہر ہے جو زمانہ قدیم میں کچھ عرصہ موجودہ جرمنی کے صوبے بویرا کا حصہ رہا لیکن یہاں کی رئیس زادی گیزیلا فون بائیرن کی شادی جب ہنگری کے بادشاہ اسٹیفان اول سےہوئی تو اس شہر کو جہیز میں ساتھ لائی اور یوں یہ دوبارہ ہنگری میں شامل ہوگیا۔ پھر کبھی پولینڈ نے بھی  اس پہ قبضہ رکھا۔ حتی کہ 1241 میں یہاں منگول تاتاریوں نے بھی خوب تباہی مچائی۔
   1526 میں عثمانیہ سلطنت نے ہنگری کے بیشتر حصوں کو زیر نگوں کر لیا۔
پرانے تاریخی شہر میں واقع چار مینار والا قلعہ، براٹیسلوا کا نشان ہے۔ جس تک پہچنے کے لیے ایک دشوار گزار تنگ پر پیچ گلیوں سے بہت اونچائی پر چڑھنا پڑھتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی پر بنا ہوا ہے۔ اور اوپر پہنچ پر سارا شہر اور دریائے ڈوناؤ کا منظر بہت دلکش دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کبھی حکمراں، کبھی چرچ کے سرکردہ افراد مقیم رہے تو کبھی فوجی چھاؤنی بنا کر رہا کرتے تھے۔
اس کی تاریخ کافی سبق آموز اور دردناک ہے۔ اب اسے باروک طرز تعمیر کے انداز میں ازسرنو تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کے سامنے پائیں باغ کے اختتام پر جہازی انداز کی عجیب و غریب قسم کی سادہ سی طویل عمارت ہے۔ جو دراصل مخمل میں ٹاٹ کا پیوند ہی ہے۔
اصل عمارت سفید رنگ کی ہے۔اور جیسا کہ سنا تھا یہاں کوئی میوزیم قطعی نہ نظر آیا۔۔۔۔نہ ہی یہاں کوئی ٹکٹ گھر تھا یا کوئی عملہ۔ کوئی معلوماتی تختہ بھی نہ تھا کہ اندازہ ہو کہ میوزیم بھی ہے۔ محل میں داخلے کی سیڑھیوں کے کنارے لگے مجسمے کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ تو دو بچے پھول پیش کرتے نظر آئے۔ ایسا لگا بچے کے چہرے پر سے معصومیت قبل ازوقت رخصت ہوچکی اور پھول پیش کرتے نگاہوں میں شکایت پڑھی جاسکتی ہے۔ ہم جس طرح پہاڑی سیڑھیاں طے کر کے آئے تھے اسی طرح واپس  اترنے لگے۔ دھوپ میں خاصی تمازت تھی اور پیاس سے گلا خشک ہو رہا تھا۔ نیچے اترتے ہوئے ہم کسی ریستوراں کو تلاش ہی کرتے رہے جو اس وقت کھلاہوتا۔ مگر اس وقت کوئی ریستوراں یا بار کھلا نہیں تھا۔ لا محالہ ہم نیچے اترتے چلے گئے اور مارٹن کتھیڈرل کی طرف آگئے۔ جو کہ اسی پہاڑی کے بالکل نچلے حصے میں واقع ہے۔

 یہ  1452 کا بنا ہوا چرچ ہے۔ گوتھک طرز تعمیر پر بنا ہوا یہ چرچ براٹیسلاوا کا تاریخی ورثہ ہے۔ اس کی لمبائی 69 اعشاریہ 37 میٹر ہے جبکہ22 اعشاریہ 85 اس کی چوڑائی ہے۔ اور اونچائی تقریباً 16 میٹر ہے۔ اس کے اندر جاکر پتہ چلا کہ ایک لمبا ہال ہی چرچ کا اصل حصہ ہے جس کے ساتھ بازوؤں پر دو جہازی حصے بعد میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ ایک میں ایک بہت اونچا سا مجسمہ رکھا ہے۔ جو کسی عثمانی ٹوپی بردار فوجی کا گھوڑے پر سوار کسی زمین پر کھڑے فوجی سے لڑنے کا منظر دکھایا گیا ہے۔ یہ براٹیسلاوا پر گزری تاریخ کا ایک منظر پیش کرتا ہے اور بہت کچھ کہتا نظر آتا ہے۔

یہاں سے نکل کر ہم تنگ سی گلی سے ہوتے ہوئے نسبتاً چوڑی گلی میں داخل ہوگئے۔ یہ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مختص ایک خوبصورت سڑک تھی۔ جس کے دوجانب جابجا دوکانیں اور ریستوراں ایستادہ تھے۔ ہم نے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔پہلے سوچا کہ کہیں بیٹھ کر جوس پیا جائے۔ مگر بھوک بھی لگ رہی تھی دوپہر کے کھانے کا بھی وقت ہورہا تھا۔ چناچہ حسب منشائے بیگم کسی میک ڈونلڈ ریستوراں کی تلاش شروع ہوئی۔ موبائل فون کا نیوی گیٹر سے باآسانی کسی قریب ترین میکڈونلڈ کا پتہ چل گیا۔ مگر پورے 15 منٹ  پیدل چلنے کی مسافت پر۔ مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق ہم بتائی گئی سمت پر چل پڑے۔ براٹیسلاوا کے پورے قدیم شہر میں کسی بھی طرح کی سواری لانے کی ممانعت ہے۔ البتہ سیاحوں کو سیر کرانے کی غرض سے انتہائی سست رفتار سے چلنے والی اکا دکا لاریاں گھومتی نظر آئیں۔ اس بازار نما گلی میں ہم آگے بڑھتے رہے۔ ایک مقام پر زمین پر پیتل کی بڑی سی پلیٹ لگی ہوئی نظر آئی۔ جس پر تیر کے نشان سے سمت اور فاصلہ کلو میٹر میں درج تھا کہ اس مقام سے دنیا کا کون سا شہر کتنی دور ہے۔ یہاں ہم نے برلن شہر کا بھی نام تلاش کیا۔ کل666 کلومیٹر نکلا۔
آگے بڑھتے ہوئے ہم میشائیلا گیٹ سے گزرے۔ یہ دراصل قدیم زمانے میں بنائی گئی شہر کی فصیل میں داخلے کا ایک دروازہ ہے۔ ایسے کئی دورازے تاریخ کے اوراق میں گم ہوچکے ہیں اور اب صرف یہی باقی رہ گیا ہے۔ اس کے اوپر ایک مینار بھی ہے اور شہر کی سب قدیم عمارت یہی گیٹ نما گزرگاہ ہے۔ جس کے دونوں طرف پہرے دار اور غالباً چنگی وغیرہ کی وصول کے لیے چھوٹے چھوٹے سے خانے بنے ہیں۔ اس کے بنے محراب سے گزرتے ہم نے زمانہ قدیم سے جدید میں قدم رکھا۔ اور کچھ فاصلے پر ہمیں میکڈونلڈ نظر آگیا۔

قدیم شہر کا یہ حصہ جسے ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ اونچی نیچی پہاڑی سطح ہے۔ اور اس میں رہ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے وقت رک گیا ہو۔ یہاں ٹاؤن ہال کی پرانی عمارت، صدارتی محل کے علاوہ غیر ملکی سفارت خانوں کی عمارتیں ہیں۔ دریائے ڈوناؤ کا موڑ کاٹتا حصہ اور اس پر سے گزرتے پل سے تاریخ کے دریچے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ کھانے سے فراغت کے بعد ہم ایک دفعہ پھر شہر کے قدیم حصے سے ہوتے ہوئے شہر کے مرکزی بس اڈے تک آئے۔ یہاں موجود دفتر میں ایک نوجوان خاتون جو اچھی انگریزی بول رہی تھیں ان سے واپسی کی بس کی معلومات حاصل کیں۔ چونکہ واپسی میں وقت کافی تھا چنانچہ تھوڑا سستاکر اس پل پر چلے آئے جو براٹیسلاوا کا بہت اہم اور تاریخی پل ہے۔

 اس نئے پل کا ڈیزائن بہت بھلا ہے۔ اس دریائے ڈوناؤ پر بنے پل کو  1944 میں برپا ہونے والے عوامی احتجاج کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ  1967 اور 1972 کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ ان پانچ پلوں میں جو شہر کے اندر گزرتے دریائے ڈوناؤ  کے اوپر بنائے گئے ہیں، میں سے سب اہم اور خوبصورت پل ہے۔ لٹکے آہنی رسوں سے بنے اس پل کی کل لمبائی 43 میٹر ہے جبکہ یہ 21 میٹر چوڑا ہے۔
یہاں ہم بس کے ذریعہ شہر کے نئے حصے میں بنائے گئے بس ٹرمنل پہنچے۔ یہاں سے سارے یورپ کے لیے بسیں چلتی ہیں۔ اور اس کے ساتھ مسافروں کے آرام کے لیے ایک وسیع اور خوبصورت آرام گاہ بنی ہوئی ہے۔ جہاں کھانے پینے اور فراغت حاصل کرنے کے تمام مواقع مہیا ہیں۔ البتہ یہاں کی چائے۔۔۔۔ڈھائی یورو فی کپ خاصی مہنگی تھی۔