پاکستان میں 23 لاکھ بچے پولیو ویکسین سے محروم

  • سوموار 29 / اپریل / 2019
  • 9170

پاکستان میں انسدادِ پولیو کی پانچ روزہ مہم کے باوجود تقریباً 23 لاکھ بچے پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پی سکے۔ حکام کے مطابق پولیو ویکسین کے بارے میں منفی پراییگنڈے سے پولیو ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

انسدادِ پولیو پروگرام سے منسلک ایک اعلی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حالیہ مہم کے پہلے چار دنوں میں ملک بھر میں 23 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلوائے جا سکے جو اب تک کسی بھی مہم میں پولیو ویکسین نہ پینے والے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

مہم کے آغاز پر پشاور میں پولیو ویکسین پینے کے بعد بچوں کی حالت خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آنے سے والدین پریشان ہو گئے تھے۔ لیکن بعد میں یہ خبریں غلط ثابت ہوئیں اور حکومت نے اسے پولیو مہم کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔ پولیو ویکسین کے بارے میں جعلی خبروں اور افواہوں سے والدین میں تشویش بڑھی ہے اور پولیو ویکسین سے انکار کرنے والے والدین کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

اس پانچ روزہ مہم کے دوران صرف اسلام آباد میں سات ہزار سے زائد بچوں کے والدین نے پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کیا اور پولیو رضاکاروں نے والدین کو قائل کیا جس کے بعد پانچ ہزار سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے دیے گئے۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقات نے بھی گزشتہ روز تصدیق کی تھی کہ 14402 بچے قطرے پینے سے محروم رہ گئے ہیں۔ یونیسیف کے ایک اہلکار نے نام نہ طاہر کرنے پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پشاور میں مہم کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے بعد صرف خیبر پختونخوا میں تیرہ لاکھ بچے پولیو ویکسین نہیں پی سکے۔

پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی کے سبب عالمی ادارہ صحت نے پاکستان پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں۔