امریکہ نے ایف 16 کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا بھارتی مطالبہ مسترد کردیا
- سوموار 29 / اپریل / 2019
- 5160
امریکی حکومت نے ایف 16 طیاروں کی معلومات فراہم کرنے کے بارے میں بھارتی مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ امریکی ساخت کے یہ فائیٹر جیٹ پاکستانی فضائیہ کے زیر استعمال ہیں۔
امریکی حکام نے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا ہے کہ جب بھارت کی جانب سے یہ اطلاع فراہم کی گئی کہ 27 فروری کو پاکستان نے ایف 16 طیارے استعمال کیے ہیں، تو ہم نے بھارتی حکلام کو بتا دیا تھا کہ ہم اس حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات شیئر نہیں کریں گے۔ کیونکہ یہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا معاملہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ بھارت نے امریکہ کی پوزیشن کو سمجھا جو خاص طور پر انڈیا یا پاکستان سے متعلق نہیں تھی۔ ذرائع نے کہا کہ اگر کل کو کوئی بھی ملک ہم سے انڈین فورسز کے زیر استعمال سی 130 یا سی 17 طیاروں کے حوالے سے معلومات طلب کرتا ہے تو ہمارا جواب ایسا ہی ہوگا کیونکہ یہ بھارت اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات کا معاملہ ہے۔
بھارتی فضائیہ نے مارچ میں امریکہ کو شکایت کی تھی کہ پاکستان نے ایف 16 طیاروں کے استعمال کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے بھارت کے خلاف استعمال کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے پاکستان کے زیر استعمال امریکی ساختہ ایف 16 طیاروں سے فائر کیے جانے والے میزائل 'اے ایم آر اے اے ایم' کے ٹکرے بھی دکھائے تھے۔
پاکستان نے بھارتی دعوؤں کو مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کارروائی میں ایف 16 طیارے استعمال نہیں کیے گئ۔ اس کے علاوہ پاکستان نے بھارت کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انڈین ایئر فورس نے پاکستانی ایف 16 طیارہ مار گرایا ہے اور ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا تھا۔
فروری میں ہونے والی اس فضائی جھڑپ میں پاکستان نے ایک بھارتی طیارے کو گرا کر اس کے پائلٹ کو گرفتار بھی کیا تھا جسے یکم مارچ کو جذبہ خیر سگالی کے تحت واپس انڈین حکام کے حوالے کردیا تھا۔
حال ہی میں امریکی میگزین فارن پالیسی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکی حکام کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان کے ایف 16 طیاروں کی تعداد پوری ہے۔ یہ رپورٹ بھارت کے ان دعوؤں کی نفی کرتی ہے جن میں کہا جارہا تھا کہ انڈین ایئر فورس نے پاکستانی طیارے کو آزاد کشمیر میں مار گرایا۔