سری لنکا نے برقع اور نقاب پر پابندی لگا دی
- سوموار 29 / اپریل / 2019
- 11310
سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہونے والے خودکش حملوں کے بعد ملک بھر میں پیر سے چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ملک کے صدر میتھریپالا سریسینا کا کہنا ہے کہ سیکورٹی صورت حال کی وجہ سے ملک میں یہ پابندی لگائی گئی ہے۔
21 اپریل کو ہونے والے دھماکوں میں کم از کم 250 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے جن میں سے اکثریت سری لنکن مسیحیوں کی تھی۔ سری لنکن حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شناخت کے عمل کے لیے عوام کے چہرے دکھائی دیے جانے چاہییں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے چہرہ چھپانے کے لیے کسی بھی چیز کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔‘
تاہم اس اعلان میں باقاعدہ طور پر نقاب یا برقعے کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا جس کا استعمال مسلمان خواتین اپنے چہرے ڈھانپنے کے لیے کرتی ہیں۔ ایسٹر سنڈے کو ہونے والے حملوں کا ذمہ دار سخت گیر اسلامی گروپ قومی جماعت توحید کو قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ حملہ آور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے متاثر تھے جس نے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔
سری لنکا کی دو کروڑ سے زائد کی آبادی میں سے تقریباً 10 فیصد مسلمان ہیں۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے 800 سے زائد احمدی بھی اقوام متحدہ کی مدد سے یہاں مقیم ہیں۔ ان مسلمانوں میں نقاب کرنے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔ گزشتہ ہفتے سری لنکا کے ایک رکنِ پارلیمان نے خواتین کے برقع پہننے پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا کر اسے ممنوع قرار دیا جانا چاہیے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق سری لنکا میں مسلم مبلغین کی جماعت آل سیلون جمیعت العلما نے اس پابندی کے نفاذ کے بعد خواتین سے کہا ہے کہ وہ چہرہ ڈھانپنے سے گریز کریں۔
اس سے قبل اتوار کو سری لنکن پولیس نے بتایا کہ جمعے کو سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ہلاک ہونے والوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے مبینہ منصوبہ ساز ظہران ہاشم کے والد اور دو بھائی بھی شامل ہیں۔ ظہران ہاشم نے کولمبو کے ایک ہوٹل میں خودکش دھماکہ کیا تھا اور انہیں قومی جماعت توحید کا بانی قرار دیا جا رہا ہے جسے سری لنکن حکومت نے اب کالعدم قرار دے دیا ہے۔
ظہران نے والد اور بھائی کٹنکڈی کے مشرقی قصبے میں اس جماعت کے ہیڈکوارٹر پر پولیس کے چھاپے کے دوران ہلاک ہوئے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کے دوران مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کی اور پھر تین افراد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے ان سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے جن میں چھ بچے اور تین خواتین بھی شامل تھیں۔