اسلامی صدارتی نظام کی تیاریاں
- تحریر محی الدین عباسی
- سوموار 29 / اپریل / 2019
- 21120
وزیر اعظم عمران خان کسی وقت بھی جمہوری پارلیمانی نظام کاآخری خطاب کر سکتے ہیں۔ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ اس کے بعد ’اسلامک صدارتی نظام‘ کا نفاذ ہو گا جس کو ہم خلافت راشدین کا نظام بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بالکل وہی نظام ہو گا جس سے ملک میں ڈاکو، چور اور ظالموں کی شامت آ جائے گی اور کرپٹ مافیا جیلوں میں نظر آئے گا۔
ملک کے معاشی بحران اور کرپٹ سیاستدانوں کی وجہ سے سابق فوجی حکمران جنرل محمد ایوب خان کے دور کو یاد کیا جا رہا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان اپنے کئی انٹرویو میں ایوب خان دور میں ہونے والی اقتصادی ترقیات کی تعریف کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایوب خان کے دور سے شروع ہونے والا ترقی کا سفر اگر جاری رہتا تو آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہوتا اور وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر موجودہ نظام میں بہتری نہ آئی تو یہ اسمبلیاں توڑ دیں گے۔ دیکھاجائے تو سابق صدر آصف زرداری اپنے دور میں صدارتی نظام کا مزہ لوٹ چکے ہیں۔ وہ اپنے دور میں پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم، وزراء اور ریاست کے تمام اداروں کے فیصلے خود ہی کیا کرتے تھے۔
معاشی ماہرین کی رائے ہے کہ ایوب خان کا دور اقتصادی طور پر پاکستان کا سنہری دور تھا اور اس دور کے اکنامک ماڈل کو موجودہ پاکستان میں اپنایا جا سکتا ہے۔ ایوب خان دور میں جو صنعتی ترقی ہوئی، وہ پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمینٹ کارپوریشن یعنی ریاستی ادارہ کی تھیں۔ ایوب خان پلاننگ کمیشن کے چیئرمین اور ان کے ڈپٹی چیئرمین مرزا مظفر احمد تھے جو ایک ماہرِ معاشیات تھے۔ انہی کے دور میں ملک خوشحال تھا اور جرمنی کو 40 لاکھ ڈالر کا قرض بھی اسی دور میں دیا گیا تھا۔
میری ذاتی رائے میں مرکزیت کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ترقی ممکن ہے اور مرکز کو مضبوط ہونا چاہیئے۔ جبکہ اس کی مرکزیت کو 18 ویں ترمیم نے کمزور کر دیا ہے اور اس طرح صوبوں کو کُھل کر کرپشن کرنے کا موقع ملا۔ بانی پاکستان قائد اعظم کے دور میں پارلیمانی وفاقی مرکزیت مضبوط تھی۔ لیکن ہر دور میں حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اپنے حالات کا صحیح تجزیہ کر کے ہی نظام میں اصلاحات لاتے ہیں۔ آج سیاستدانوں پر نیب نے کئی سو مقدمات جو قائم کئے ہیں یہ اسی جمہوری نظام کا نتیجہ ہے۔ پچھلی دونوں حکومتوں کا تجزیہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ 18 ویں ترمیم سے صوبوں کے پاس تمام اختیارات اور پارلیمانی نظام ہونے کے باوجود عوام خوشحال نہ ہو سکے۔ البتہ خود سیاستدان مالا مال ہو ئے اور اربوں کھربوں کی قومی دولت بیرونی ممالک منتقل کر دی گئی۔ جس سے ملک معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔ ان کا جو فرض اور کام تھا کہ یہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر قانون سازی کرتے۔ عوام کی بھلائی و ترقی کے لئے اور ملک کی بہتری کے لئے یہ کچھ نہ کر سکے۔ حالانکہ ان عوامی نمائندوں پر اسمبلیوں میں روزانہ کروڑوں خرچ آتا ہے۔ انہی لوگوں کی وجہ سے آج ہمارا ملک شدید قسم کے مسائل کا شکار ہے۔ حکومت کو بجلی، پانی، گیس، مہنگائی، بے روزگاری، طبی سہولیات، بجٹ، خسارے اور بیرونی قرضوں کا سامنا ہے اور سب سے بڑا مسئلہ اب معیشت کا ہے۔ پارلیمانی نظام میں تمام ادارے بدعنوان ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں جب تک ملک سے عصبیت ختم نہیں ہوتی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
ہماری جمہوریت کا تو یہ حال ہے جب یہ لیڈران بیمار ہوتے ہیں، اپنے خاندان اور وزراء سمیت لندن میں علاج کرواتے ہیں اور بیماری کی حالت میں اجلاس بھی دبئی اور لندن میں پوری کیبنٹ کے ساتھ منعقد رکرتے ہیں۔ یہ تمام رقوم عوام کے ٹیکس سے ادا ہوتی ہیں۔ یہ ہے اس ملک کی اشرافیہ جو 20 کروڑ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتی ہے۔ یاد رہے پچھلی حکومتوں میں فوج اور حکومت ایک پیچ پر نہیں تھی اب ایسا نہیں ہے۔ تبدیلی نظام کی جو باتیں ہو رہی ہیں یہ ممکن تو نہیں اس لئے کہ عمران خان PTI کے پاس دو تہائی سے زائد اکثریت نہیں اور سینٹ میں بھی ان کی اکثریت نہیں۔ اپوزیشن کے بغیر یہ ممکن نظر نہیں آتا لیکن پاکستان کی سیاست میں کبھی بھی کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔
ہمارے عوامی نمائندوں کا کوئی کردار نہیں آج یہ اپوزیشن کے ساتھ کل حکومت کے ساتھ۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ اگر اس موجودہ نظام میں تبدیلی نہ آئی تو یہ ملک صومالیہ، یمن، شام بن جائے گا اور یہی ہمارا دشمن اور دیگر عالمی طاقتیں چاہتی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر عدلیہ کا نظام مضبوط ہونا لازمی ہے۔ آج کل جو عدلیہ فیصلے کر رہی ہے وہ لمحہ فکریہ ہے بالخصوص لاہور ہائی کورٹ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی کاوشوں کو متاثر کیا جا رہا ہے۔
میری ذاتی رائے میں اگر ملک کے تین ادارے اپنا قبلہ درست کر لیں تب ملک میں بہتری آ سکتی ہے۔ عدلیہ، پولیس اور تعلیم۔ یہ ادارے معاشرے کی اصلاح اور ترقی کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ سابقہ دور اعلیٰ عدلیہ میں ایسے نام ہیں جن کو ہم انتہائی دیانت دار اور انصاف پر مبنی فیصلے دینے والے ججز کہہ سکتے ہیں۔ا تفاق سے یہ تینوں غیر مسلم تھے ایک جسٹس کارنیلس جو عیسائی تھے۔ دوسرے ہندو بھگوان داس۔ تیسرے دوراب پٹیل جو پارسی تھے۔ یہ حضرات پاکستان سپریم کورٹ کے غیر متنازعہ ججز تھے جن کے فیصلے تاریخ کا حصہ ہیں۔لیکن آج ہمارے ججز بالخصوص لاہور ہائی کورٹ متنازعہ بن چکے ہیں۔
اس ضمن میں مشہور قانون دان اعتزاز احسن کہتے ہیں پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں پہلی بار عدالتی چھٹی کے دن 85 ارب لوٹنے والے مجرم (حمزہ شہباز) کو سرِ عام ضمانت دی گئی اس کی سماعت اور ضمانت منظور ایک گھنٹہ کے اندر اندر ہو گئی۔ واہ رے قاضی یہ ہوتا ہے مجرم امیر اور غریب میں فرق۔ اس کے علاوہ اور بھی ایسے فیصلے لاہور ہائی کورٹ سے آنا کوئی بعید نہیں۔ تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ شریف خاندان اور سابق وزیر اعظم خاقان عباسی کی ان ججز سے رشتہ داریاں ہیں جن کی وجہ سے ان کو اور ان کے لیڈروں کو ریلیف مل رہا ہے۔ حقیقی عدل و انصاف کو قائم رکھنا اس ملک کے لئے اس طرح ضروری ہے۔ جس طرح ملک کی حفاظت کے لئے فوج کا ہونا۔ علاوہ ازیں قوموں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بھیجتا ہے لیکن اس قوم نے تویہ دروازہ بھی بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے یہ قوم دلدل میں پھنس چکی ہے۔
عدل سے انحراف کرنا خدا تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ تمام معاشرتی، سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی برائیوں کی جڑ دراصل عدل کا فقدان ہی ہے۔ عدل و انصاف قائم کئے بغیر ملک میں امن اور خوشحالی اور ریاستی ادارے اپنا مقام پیدا نہیں کر سکتے۔ ہمارے ملک میں موجود نظام جمہوری نہیں بادشاہی نظام ہے۔ اللہ کرے اس ملک کے لئے جو بھی نظام بہتر ہو اس کا جلد نفاذ ہو جائے۔ آمین