پشتون تحفظ موومنٹ کو بھارتی اور افغان ایجنسیوں سے رقم ملتی ہے، ان کو دی گئی مہلت ختم ہوگئی: ترجمان پاک فوج
- سوموار 29 / اپریل / 2019
- 6760
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے راولپنڈی جی ایچ کیو میں ایک پتیس کانفرنس میں کہا ہے کہ پشتون تحفظ تحریک کو دی گئی مہلت اب ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے جتنی آزادی لینی تھی لے لی۔ تاہم ان کے خلاف کوئی غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ جو بھی ہو گا قانونی طریقے سے ہوگا۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم والے ہر پاکستان مخالف شخص سے کیوں ملتے ہیں اور کسی فوجی کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔ اس علاقے میں جو فوج کی سپورٹ میں بولے وہ مارا جاتاہے۔ فوج سے کیا بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں۔ آرمی چیف نے پہلے کہا تھا کہ ان سے پیار سے ڈیل کرنا ہے ورنہ ڈیل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کے خلاف ایکشن ہوا تو لوگوں نے بہت باتیں کیں۔ لوگوں نے کہا کہ آپ پی ٹی ایم کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتے۔ پی ٹی ایم جب بنی، پہلے دن سے ان کے ساتھ رابطہ رہا۔ آرمی چیف کی خصوصی ہدایت پر پی ٹی ایم کو انگیج رکھا۔ قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے بہت نقصان ہوا۔
پی ٹی ایم کی جانب سے 3 مطالبات پیش کیے گئے تھے۔ پی ٹی ایم نے کہا کہ علاقے میں بارودی سرنگیں ہیں۔ پاک فوج کی جانب سے علاقے میں مائنز کی کلیئرنگ جاری ہے اور اب تک فوج نے علاقے کی 45 فیصد بارودی سرنگیں کلیئر کر دی ہیں۔ پاک فوج کے 101 سے زائد جوان مائنز کلیئر کرنے کے دوران شہید ہوئے۔
جنرل آصف غفور نے کہا کہ 22 مارچ 2018 کو این ڈی ایس نے پی ٹی ایم کو فنڈنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد دھرنے کیلئے را نے کتنے پیسے دیئے؟ کیسے پہنچے؟ 8 مئی 2018 کو طورخم ریلی کیلئے کتنے پیسے دیئے گئے؟ پی ٹی ایم کو حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے کتنا پیسہ آ رہا ہے؟ ترجمان نے کہا کہ کونسا قانون اشتعال انگیزی کی اجازت دیتا ہے؟ جو اس علاقے میں فوج کے حق میں بولتا ہے وہ مارا جاتا ہے۔ ٹی ٹی پی آپ کے حق میں کیوں بیان دیتی ہے؟ قندھار میں بھارتی قونصل خانے میں منظور پشتین کا کون سا رشتے دار گیا اور کتنے پیسے لیے؟
پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اپنے رد عمل میں کہا کہ ہم بات چیت کے لیے ابھی بھی تیار ہیں لیکن بات چیت برائے بات چیت نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس سے نتائج بھی نکلنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور ہمارے خلاف کیا کریک ڈاؤن کریں گے، ہمارے خلاف پندرہ سال سے کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اب اس سے زیادہ کیا کریں گے۔
بیرونی فنڈنگ کے حوالے سے عائد الزامات پر اُنہوں نے کہا کہ الزامات ہم پر پہلے بھی لگتے رہے ہیں لیکن اگر کوئی ثبوت ہے تو سامنے لایا جائے۔ اگر کسی کا رشتہ دار کسی معاملہ میں ملوث ہے تو اسے بھی سامنے لایا جائے۔ منظور پشتین نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کے وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات اور وزیر تعلیم موجود ہیں لیکن ان سب کی موجودگی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کیسے ان موضوعات پر بات کرسکتے ہیں۔
پاک فوج کے ترجمان نے بتایا کہ مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے اور وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تیس ہزار مدارس میں سے 100 سے بھی کم مدراس عسکریت پسندی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نصاب بنانے کیلیے کمیٹی بنائی ہے جو مدارس کیلئے نصاب تیار کرے گی۔ مدارس کے نصاب میں دین اور اسلام ہوگا لیکن نفرت انگیز مواد نہیں۔ نصاب میں درس نظامی کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے مضامین بھی ہوں گے۔ ہر مدرسے میں چار سے 6 مضامین کے اساتذہ درکار ہوں گے۔ اس سے متعلق بل تیار ہو رہا ہے۔ پھر نصاب پر نظرثانی ہو گی۔ دہشت گردی کے مقابلے سے فارغ ہو رہے ہیں۔ اب انتہاپسندی کا خاتمہ کرنا ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے نیوز کانفرنس میں بھارت کو خبردار کیا کہ یہ 1971 نہیں۔ نہ وہ فوج ہے اور نہ وہ حالات۔ اس مرتبہ کوئی غلطی کی گئی تو بھارت کو اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو پہلے بھارتی جہازوں کے گرنے کو ذہن میں رکھے۔ بھارت نے کہا ہے کہ ایٹمی اثاثے دیوالی کیلئے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیار دفاع کے لئے ہوتے ہپں ، غیر ذمہ دارانہ دھمکیوں کے لئے نہیں۔ اگر بھارت کے پاس ایٹم بم ہے تو پاکستان کے پاس بھی یہ صلاحیت ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جب بات ملکی دفاع اور سلامتی کی ہو تو پاکستان ہر قسم کی صلاحیت استعمال کرے گا۔ ہمارا حوصلہ نہ آزمائیں۔ اگر موجودہ پاکستانی میڈیا 1971 میں ہوتا تو بھارت کی سازشیں بے نقاب کرتا اور آج مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا۔ بھارت کے لیے یہی پیغام ہے کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو پہلے نوشہرہ اسٹرائیک اور بھارتی جہازوں کے گرنے کا حساب ذہن میں رکھے۔