آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا، 6 سے 8 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج پر تکنیکی مذاکرات
- منگل 30 / اپریل / 2019
- 7630
پاکستان اور بین الاقوامی مانیٹری فنڈ کے درمیان بیل آؤٹ پیکج کی تفصیلات طے کرنے کے لیے تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ آئی ایم ایف کا وفد ایک ہفتہ اسلام آباد میں قیام کرے گا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کے دورے پر آیا ہوا آئی ایم ایف مشن 6 مئی تک تکنیکی تفصیلات کو مکمل کرنے کے لیے اسلام آباد میں قیام کرے گا۔ مجوزہ بیل آؤٹ پیکج 6 سے 8 ارب ڈالر تک متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ تکنیکی سطح کے کامیاب مذاکرات کے بعد پاکستان 10 مئی تک آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردے گا، جس کے بعد یہ معاہدہ آئی ایم ایف بورڈ کو بھیجا جائے گا۔
واضح رہے کہ واشنگٹن میں سابق وزیر خزانہ اسد عمر اور آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام کے درمیان وسیع تر فریم ورک پر معاملات طے پاگئے تھے اور اب وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ پاکستان آنے والے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔
حکومتی ذرائع آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ ٹیکسز، ٹیرف، سبسڈیز اور دیگر متعلقہ معاملات کے اعداد و شمار شیئر کریں گے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مانیٹری سے متعلق تفصیلات دے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کی توجہ مالی اور مالیاتی پالیسی پر مرکوز ہوگی۔
تاہم ایک اور عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ معیشت میں بہتری کے دوران آئی ایم ایف مشن سے مذاکرات منعقد کیے جارہے ہیں اور ’اب ہم گزشتہ برس ستمبر میں فنڈ کے پیکج سے منسلک شرائط میں بڑی تبدیلی دیکھ چکے ہیں‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں آئی ایم ایف کی جانب سے سخت شرائط کی تجاویز دی گئی تھی جس سے ملک میں مہنگائی 19 فیصد تک بڑھ سکتی تھی۔ اس کے علاوہ دوسرا بڑا مطالبہ 600 بنیادی پوائنٹس میں اضافے کے ساتھ شرح سود کو 21 فیصد تک بڑھانے کا تھا۔
تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ ’اب یہ شرائط کافی حد تک تبدیل ہوچکی ہیں‘ اور اب یہ اتنی سخت نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود آئی ایم ایف کی شرائط ملک میں مہنگائی اور شرح سود کو بڑھائیں گی۔ تاہم یہ پہلے دی گئی تجویز کے مقابلے میں کم سطح پر ہوگا۔
حکام کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی اس وجہ سے آئی کیونکہ معیشت کے بیرونی پہلو کو منظم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اقدامات اٹھائے گئے۔ ’اب ہم یہ دلائل دے سکتے ہیں کہ مالیاتی پہلو پر بھی اقدامات سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے‘۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ’ایک اور مسئلہ جو مذاکرات میں زیر بحث ہے وہ ایکسچینج ریٹ منظم کرنا ہے‘ اور فنڈ کے ساتھ ایکسچینج ریٹ کے لیے کوئی حد طے نہیں کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 96 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کم ہوا جبکہ جنوری سے مارچ 2019 کے دوران اس میں مزید 63 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی کمی آئی ہے۔