پانچ برس بعد داعش کے سربراہ بغدادی کا ویڈیو پیغام، سری لنکا حملوں کی توصیف

  • منگل 30 / اپریل / 2019
  • 7550

شدت پسند تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی پانچ سال بعد ایک نئی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ داعش کے میڈیا ونگ کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی اس ویڈیو میں ابوبکر البغدادی کو شام میں اپنی تنظیم کی شکست اور دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بارے میں بات کرتے دکھایا گیا ہے۔  

جولائی 2014 میں موصل کی النوری مسجد میں اپنی ’خلافت‘ کا اعلان  کرنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ابو بکر البغدادی کسی ویڈیو میں نمودار ہوئے ہیں۔

داعش کی جانب سے گزشتہ برسوں میں متعدد بار ان کے آڈیو پیغامات  جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ ان کے زندہ یا مردہ ہونے کے حوالے سے خبریں بھی میڈیا میں زیر بحث رہی ہیں۔ شام میں شدت پسند تنظیم داعش کی شکست کے بعد مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے  یہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں کہ وہ شام اور عراق سرحد پر موجود صحرائی علاقے میں رو پوش ہو چکے ہیں۔

ابو بکر البغدادی 2010 میں دولت اسلامیہ العراق نامی شدت پسند تنظیم کے امیر کے طور پر سامنے آئے۔ اس تنظیم کی بنیاد خفیہ طور پر رکھی گئی تھی۔  خود ساختہ دولت اسلامیہ نامی ریاست قائم کرنے کے بعد وسیع علاقے پر حکومت کی، تاہم اب بغدادی شکست خوردہ ہیں اور ان کے ہزاروں جنگجو یا تو مارے جا چکے ہیں یا جیلوں میں قید ہیں۔

18 منٹ دورانیے کی اس ویڈیو کو ’امیرالمومنین کی مہمان نوازی ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ البغدادی داعش کے تین سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ دو زانو ہو کر بیٹھے ہیں۔ دیگر افراد کے چہرے واضح نہیں جبکہ ویڈیو میں کلاشنکوف اورایمونیشن بیلٹ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ویڈیو میں البغدادی نے سری لنکا حملوں کی تعریف کی اور کہا کہ یہ حملے داعش کے آخری ٹھکانے شام کے علاقے باغوز میں ہونے والی شکست کا بدلہ ہیں۔

البغدادی کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’میں سری لنکا میں ہونے والے خود کش حملوں کا سن کر بہت خوش ہوا، ہمارے بھائیوں نے صلیبیوں پر زور دار وار کیا ہے۔ اور باغوز میں مرنے والے اپنے بھائیوں کا بدلہ لیا ہے۔‘  گو کہ ویڈیو پیغام میں وہ یہ بات بذات خود کہتے ہوئے دیکھے نہیں جا سکتے، تاہم بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ الفاظ کسی اور وقت میں الگ سے ریکارڈ کیے گئے اور پھر ان کو سری لنکا حملوں کے مناظر کے ساتھ ویڈیو کا روپ دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ خدا کا شکر ہے کہ سری لنکا میں امریکی اور یورپی باشندے موجود تھے، انہوں نے خدا سے سوال کیا، جس نے خود کش حملوں کی صورت میں انہیں جواب دیا۔ مسلمانوں اور صلیبیوں کے درمیان یہ ایک طویل جنگ ہے۔ باغوز کی جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن اس نے صلیبیوں کی مسلمانوں سے نفرت کو ظاہر کر دیا ہے۔‘

البغدادی کی جانب سے مزید کہا گہا کہ داعش باغوز میں ہونے والی ہلاکتوں کا بدلہ لے گی  اور ان کی تنظیم کی طرف سے مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔

امریکی حمایت یافتہ کرد اور عرب قبیلوں پر مشتمل سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی جانب سے  23 مارچ کو داعش کی شکست اور اس کی خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔ باغوز داعش  کا آخری زیر تسلط علاقہ سمجھا جاتا تھا۔  60 ہزار آبادی کے اس علاقے میں تقریباً آدھی تعداد داعش کے حامیوں کی تھی، جن میں 5  ہزار جنگجو بھی شامل تھے۔ انہوں نے داعش کی شکست کے بعد ہتھیار ڈال دیے تھے۔ ان میں روس، فرانس، اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی شامل تھے۔

داعش کے زیر قبضہ اب کوئی علاقہ نہیں لیکن داعش اب بھی دہشت گرد حملوں کے حوالے سے بڑا خطرہ تصور کی جاتی ہے۔  امریکی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ عراق اور شام میں اب بھی داعش کے 15 ہزار جنگجو موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً دونوں ملکوں میں سلیپر سیلز کی مدد سے کارروائیا ں کرتے رہتے ہیں۔