یوم مئی: سرمایہ کی زنجیر کو کون توڑے گا!
- تحریر افتخار بھٹہ
- منگل 30 / اپریل / 2019
- 12090
131ویں یوم مئی بنیادی طور پر 1886میں امریکہ کے شہر شگاگو میں مزدوروں کے جلوس پر حکمرانوں کی طرف سے برسائی جانے والی گولیوں کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یکم مئی کے دن تین لاکھ مزدوروں اور 13ہزار فیکٹری ملازمین کام چھوڑ کر احتجاج میں شریک ہوئے۔ محنت کشوں نے اپنے خون سے قمصیں اتار کر لال کر کے جھنڈے بنا لئے۔
اس دن سے انقلابیوں کے جھنڈے کا رنگ سرخ ہے یوں تو محنت کشوں پر ہر عہد میں ظلم و ستم روا رکھا گیا ہے۔ سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے ظلم و ستم آج بھی ختم نہیں ہوئے۔ پہلے غریب ممالک میں مقامی اجارہ داریاں استحصال کرتی تھیں جس کے بعد نو آبادیات کا دور آیا اور عوام غیر ممالک کی غلامی میں چلے گئے۔ اب سرمایہ کی عالمی منڈی کی معیشت کا میکنزم ہی استحصال اور منافع کمانا ہے۔اس میں محنت کشوں کا کوئی کردار یا حصہ نہیں ہے۔جدید ٹیکنالوجی سے پیدا وار میں اضافہ مارکیٹ میں کھپت اور قوت خرید کی کمی سے پوری دنیا کی منڈیاں کسات بازاری سے دو چار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سرمایہ دار کمپنیوں کے غیر منصفانہ منافع کی تقسیم ہے۔
چین نے بیرونی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک میں آنے سے قبل ایک معاہدہ کروایا تھا کہ وہ منافع کا کچھ حصہ حکومت کو دیں گے تا کہ وہ اسے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کر سکے۔ لیکن پاکستان میں سی پیک کے تحت ایسا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے جس سے پاکستان کو سرمایہ کاری سے منافع حاصل ہو سکے۔ آج دنیا میں فالتو منافع اور پید وار کا بحران ہے جس کے خلاف امریکہ، فرانس، اور برطانیہ میں بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔ آئندہ انتخابات میں فرانس اور برطانیہ میں سوشل ڈیمو کریٹ ایجنڈے کی حامی جماعتوں کے بر سر اقتدار آنے کی توقع ہے۔ نیولبرلزم اور گلوبلائزیشن کے ایجنڈے سے مقامی معیشتوں اور محنت کشوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
یکم مئی1886کے احتجاج کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ 1989میں دوسری انٹر نیشنل کے پہلے اجلاس میں یکم مئی کو دنیا کے محنت کشوں کا دن قرار دیا گیا اور یہ دن ہر سال محنت کشوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے پوری دنیا میں منایا جاتا ہ۔ تاریخ میں محنت کشوں پر ہر عہد میں نئے طریقے ازمائے گئے خواہ وہ 1871کے پیرس کمیون کی خونی شکست ہو، 1886میں شگاگو کے مزدوروں پر ہونے والی قتل غارتگری، 1905کے انقلاب روس کی شکست یا 1927میں چین کا خون میں ڈوبو دیا جانا۔ 1947میں بر صغیر کی خونی تقسیم جس سے حکمران طبقات کی دولت اور اثاثہ جات میں اضافہ ہوا ہے کی وجہ سے آج ملک کی60فیصد سے زیادہ آبادی خطہ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری افراد پر نہیں بلکہ نظام پر ڈالی جا سکتی ہے۔
استحصال، نا انصافی اور کالا دھن کے ذریعے روپیہ بنانے کی خاصی گنجائش موجود ہے جبکہ ملک میں کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جو کہ محنت کشوں کی زندگیوں میں اجالا کرنے کیلئے لائحہ عمل رکھتی ہو۔ ماضی قریب میں پاکستان میں یوم مئی کے موقع پر لاکھوں کے اجتماع ہوتے تھے جن میں ریلوے، واپڈا اور دیگر اداروں سے تعلق رکھنے والی ٹریڈ یونین کے ورکر اپنی لیڈر شپ کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ ان ٹریڈ یونین کی سیاسی فکری یکجہتی ملک کی بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ تھی جو کے نظام کی تبدیلی کے حوالے سے بات کرتی تھی۔ ایشیا سرخ ہے، انقلاب زندہ باد اور محنت کشوں کی
یکجہتی کے نعرے لگائے جاتے تھے، نظام کو تبدیل کرنے کا عہد کیا جاتا تھا جس میں محنت کشوں کو معاشی اور سماجی انصاف حاصل ہوگا۔اس حوالے سے روس میں لینن کی قیات میں 1917میں استحصال کے خلاف برپا کیا جانے والے انقلاب نے ہمارے ملک کی ترقی پسند جماعتوں کیلئے رول ماڈل رہا ہے۔ آج مختلف سیمناروں اور لیکچرز میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے، جس میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔
موجودہ سیاسی جماعتوں کے کلچر اور منشور میں کوئی تاریخی اور نظریاتی روایات موجود نہیں ہیں۔ نہ ہی اُن کے کارکنوں کے ہاں سیاست، سماجیت اور معشیت کے حوالے سے کوئی نظریہ موجود ہ۔ یوم مئی کے موقع پر لاکھوں میں ہونے والے اجتماعات سینکڑوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یوم مئی کی سرگرمیاں ہالوں، ڈراینگ رومو ں اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر تک محدود ہیں۔ جہاں پر روایتی تقریریں اور شکاگو کے شہدا کے حوالہ سے باتیں کی جاتی ہیں۔ این جی اوز محنت کشوں کی سدھار اور صلاحیت بڑھانے کے نام پر اپنے سرمایہ کاروں کے مخصوص ایجنڈے کے تحت کارکنوں کو تبدیلی کے اصلی مقصدسے دور رکھنے کا فریضہ سر انجام دے رہی ہیں۔ اس طرح ملک میں انقلابی فکر کی کوئی اجتماعی تحریک دیکھائی نہیں دیتی۔
بائیں بازو کے تضادات نے جہا ں پر سوشلسٹ تحریک کو نقصان پہنچایا ہے وہاں پر ٹریڈ یونین اور سودے کاری کا عمل زوال پذیر ہوا ہے۔ اس سیاسی اور نظریاتی خلا کو پر کرنے کیلئے مذہبی فرقہ واریت، تشدد اور دہشت گردی کا استعمال کیا گیا ہے۔اگر کوئی لائحہ عمل موجود نہ ہو، وہاں پر فرد ریاستی عناصر نظریہ ضرورت کے تحت انقلابی عمل کو روکنے کیلئے ابھارے جاتے ہیں۔ حکومت نے ملک میں محنت کش تحریکوں کو روکنے کیلئے نیو لبرل ازم کے ایجنڈے کے تحت ریاستی کنٹرول میں اداروں کی نجکاری کا عمل بے نظیر حکومت کے عہد میں شروع کیا تھا۔ جس میں بے پناہ چھانٹیوں، برطرفیوں کے علاوہ گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے ڈاؤن سائزنگ کی گئی۔ صنعتوں میں ٹھیکیداری نظام لاگو کیا گیا تا کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے والوں کو پنشن گریچویٹی اور دیگر مراعات سے محروم رکھا جائے۔
تین دہائیوں بعد پاکستان میں مزدور بد ترین بحران کا شکار ہے۔ لاکھوں محنت کش ملک میں لوڈ شیڈنگ اور صنعتوں کی بیرون ملک منتقلی سے بیروز گار ہو رہے ہیں اور انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ آٹھ گھنٹے کے اوقات کار ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔ صنعتوں میں محنت کشوں سے 12سے16 کام لیا جاتا ہے۔ روز گار کا تحفظ ختم ہو چکا ہے اور کسی مزدور کو کسی بھی وقت نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔ فیکٹریوں میں مزدوروں کیلئے حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے آئے روز بوائلر پھٹنے یا بھٹی میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے محنت کش ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔ ان واقعات کی رپورٹنگ میڈیا میں نہیں کی جاتی ہے۔
حکمران آئی ایم ایف کے ایجنڈے کے تحت ریاستی سماجی ایجنڈے سے دور ہو تے جا رہے ہیں، جس میں محنت کشوں کو مراعات تعلیم اور صحت کے حقوق دینا شامل ہے۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکومت میں محنت کشوں کیلئے قانون سازی کی گئی جس میں سوشل سیکورٹی اور اولڈ ایج بینفٹ کے نام سے ادارے قائم کئے گئے۔ اس کے بعد کوئی ایسی قانون سازی نہیں کی گئی جس کا فائدہ محنت کش طبقات ہو کو سکے۔ یوم مئی محنت کش طبقے سے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ناقابل مصالحت جدو جہد کیلئے تجدید کا تقاضا کرتا ہے۔وہ سفر جس کا آغاز شگاگو کے مزدوروں نے جان دے کر کیا تھا۔ وہ مقصد ابھی تک ادھورا ہے۔ ڈیڑھ صدی کے تجربات نے دنیا بھر کے محنت کشوں کو یہی سکھایا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے ان کی نجات ممکن نہیں ہے جس کیلئے استحصالی نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔