بلدیاتی نظام کی اصلاح کی نامکمل کوشش
- تحریر افتخار بھٹہ
- بدھ 01 / مئ / 2019
- 6420
پاکستان میں جمہوری حکمران ہمیشہ سے مقامی سطح پر اختیارات منتقل کرنے کے بارے میں تحفظات سے کم لیتے ہیں جبکہ غیر منتخب افراد جنہوں نے اقتدار حادثاتی یا معروضی حالات کی خرابی کے تناظر میں حاصل کیا ہے، انہوں نے سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات کر کے مقامی حکومتیں قائم کی ہیں۔
بعض ناقدین کے بقول ان آمروں نے عوام میں اپنی سیاسی حمایت کرنے کیلئے بلدیاتی اداروں کی تشکیل کی جس سے وہ طبقات جنہوں نے کبھی سیاست میں حصہ نہ لیا تھا اور نہ ہی کبھی ووٹنگ کیلئے متحرک ہوئے تھے۔ اقتدار کی خواہشات کے حصول کیلئے اس میں شامل ہو گئے۔بلدیاتی انتخابات چونکہ غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہوتے رہے ہیں لہذا وہاں پر برادری ذات پات اور فکریہ واریت کا سب سے زیادہ عمل ہوتا ہے۔جنرل ضیاء کے عہد میں کروائے جانے والے بلدیاتی انتخابات میں کاروباری اور امیر طبقات کے نئے چہرے رو شناس کیے گئے جن کا تعلق مقامی ضلعی اور علاقائی اجارہ داریوں سے تھا۔ یہ خانوادے ملک کے جمہوری اور غیر جمہوری ادوار میں اقتدار کا حصہ رہے اور اب بھی شامل ہیں۔
جنرل پرویز مشرف نے ضلعی حکومتوں کا نظام قائم کیا جس میں ضلعی ناظم خاصے مالی اور انتظامی اختیارات رکھتے تھے اس عہد میں مقامی حکومتوں کے تحت تعلیم، صحت اور ترقیاتی کام ہوئے کیونکہ ریاست کے پاس افغان جنگ میں شمولیت کی وجہ سے قرضہ جات کی اقساط موخر ہونے کی وجہ سے خاصے مالی مسائل موجود تھے۔ صدر مشرف کا بلدیاتی حکومتوں کا بلدیاتی نظام کارکردگی کے حوالے سے بہتر تھا مگر بد قسمتی سے اس پر بھی سیاسی خاندانی اجارہ داری غالب آ گئی جنہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو ذاتی انتقام کا نشانہ بنایا۔ اور ان کے حلقوں میں بہت کم ترقیاتی کام کروائے۔
نواز شریف کی حکومت کو بلدیاتی حکومتوں میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر انتخابات کروائے جس کیلئے اپنی مرضی کا بلدیاتی نظام وضع کیا گیا جس میں منتخب عہدیداران کے پاس برائے نام اختیارات تھے۔منتخب چیئر مین اپنے اختیارات کیلئے مطالبے کرتے رہے.
بلدیاتی حکومتوں کے حوالے سے حالیہ ایکٹ2013عملی طور پر 2017کو لاگو ہوا صدر مشرف کا 2001کا قانون ختم کر دیا گیا۔ 60ہزار کے لگ بھگ کونسلر اور سربراہوں نے جنوری 2017میں کام شروع کیا۔ 2018کے انتخابات سے قبل ان کے فنڈز روک دیے گئے اور2018میں انہیں جزوی طور پر بحال کیا گیا۔ مگر پھر نئے انتخابات کا شوشہ چھوڑ دیا گیا۔ موجودہ بلدیاتی اداروں کا دورانیہ 2021تک ہے۔ موجودہ حکومت کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں میں منتخب اراکین کا تعلق حزب اختلاف کی جماعتوں سے ہے جس کی وجہ سے عدم اعتماد اور عدم تعاون کی فضا قائم ہے۔جس سے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بد انتظامی، بد حالی سے دو چار ہے۔
عمران خان کی حکومت بھی صدر مشرف کی طرح گراس روٹ لیول ڈیمو کریسی کی بات کرتی رہی ہے۔ اور کئی بار انہیں مالیاتی اور انتظامی اختیارات دینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔اس ضمن میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی نیا نظام متعارف کروایا گیا ہے جو تحریک انصاف کی قیادت کے بقول بڑی کامیابی سے چلایا جا رہا ہے۔ مگر اصل صورتحال اس کے بر عکس ہے۔ لوگوں کو صاف پانی صحت اور تعلیم کی سہولیات حاصل نہیں ہیں۔حکومت کوئی میکرو یا میگا پروجیکٹ کامیابی سے مکمل نہیں کر سکی ہے۔ اس سسٹم میں لوکل اور دیہی کونسلوں کی صورت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مقامی حکومت کا تعلق عوام سے براہ راست ہوتا ہے۔مگر اس نظام کے خد و حال مندرجات کو تجاویز کیلئے پنجاب حکومت نے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے سفارشات اور تجاویز حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔بلکہ اس کو جلد پنجاب اسمبلی سے منظور کروا لیا جائے گا نئے بل کے دو بنیادی نکات یہ ہیں:
1۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019
2۔ پنچائیت اینڈ نیبر ہڈ کونسل ایکٹ2019
یہ آئین کی وضع کردہ ہدایات 140.Aکے بر عکس ہے جس میں لوکل حکومتوں کو سیاسی، مالیاتی اور انتظامی اختیارات منگل کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ ان دونوں بلوں کے آرٹیکلوں میں کئی تضادات موجود ہیں۔ ہر جگہ مرد کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس میں خواتین کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اختیارات کی سنٹرالائزیشن زیادہ ہے کونسلوں کی بجائے سربراہان کے اختیارات کا ارتقا کثرت سے ہے۔ دونوں بلوں میں حکومتوں اور ریاستی اداروں کے اختیارات کی بالا دستی اور نگرانی کیلئے جوائنٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی۔مقامی حکومت کی انتظامی مشینری کا سربراہ لوکل گورنمنٹ سے ہوگا۔خواتین کی نمائندگی10ہزار سے کم کر کے 5500کر دی گئی ہے۔ مخصوص اور ٹیکنو کریٹس نشستیں ختم کر دی گئی ہے۔انتخابات کیلئے انتخابی حلقے ملٹی نمبر حلقے ہوں گے۔
ویلج کونسلوں اور لیبر ہڈ کونسلوں کی کامن اسمبلیوں میں فیصلے ہاتھ اٹھا کر ہوں گے۔ پورے ترقیاتی کاموں کی نگرانی مانیٹرنگ، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی کسی سطح پر عوامی شراکت کی شکل موجود نہیں ہے۔ تمام نظام کو تحصیل کونسلوں کے ذریعے چلایا جائے گا، جبکہ ڈسٹرکٹ کونسل کا کوئی تصور موجود نہیں ہوگا جس سے ظاہر ہے ضلعی سربراہ ڈپٹی کمشنر ہی تمام معاملات کی نگرانی کرے گا۔ بظاہر تحریک انصاف کا مقصد ضلعوں میں سیاسی اجارہ داریوں کو توڑنے کیلئے ان کی قوت کو تحصیل لیول پر تقسیم کرنا ہے۔ تا کہ اپنی پارٹی کے زیادہ سے زیادہ افراد کو اس نظام میں کھپایا جا سکے۔
تمام ڈویژنوں میں میٹرو پولٹن قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے مگر اس میں سرگودھا ڈویژن موجود نہیں ہے شائد اس کی بھی کوئی سیاسی وجوہات ہوں۔ نیا لوکل سسٹم بعض حوالوں سے ماضی کے ماڈلوں کا چربہ ہے۔ ویلج کونسل اور پنچائیتوں کا تصور ہندوستان سے لیا گیا ہے جہاں پر انڈین آئین کے تحت ان اداروں کو قانونی تحفظات حاصل ہیں۔ ماضی کے تمام ماڈلوں میں ضلع کونسلیں موجود رہی ہیں جو اب بھی پختونخواہ میں موجود ہیں۔ نہ جانے پنجاب میں ان کو سسٹم سے کیوں فارغ کر دیا گیا ہے۔دیہی علاقوں کی ریونیو حلقہ بندیاں استعمال کرتے ہوئے ویلج اور تحصیل کونسلیں متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ ویلج کونسلوں کا انتظامی و قانونی تعلق تحصیل کونسلوں سے نہیں ہوگا۔ شہری علاقوں سے نیبر ھڈ کا تعلق شہری مقامی حکومتوں سے نہیں ہوگا ان کی کامن اسمبلی ہوگی۔ ان کونسلوں کی نگرانی کیلئے لوکل بورڈ ہوں گے۔ جو غیر منتخب یا سرکاری ملازمین پر مشتمل ہوں گے۔ سربراہ کو کوئی نام نہیں دیا گیا جبکہ ہاؤس کے کام چلانے والے کو کنوینئر یا سپیکر کہا جائے گا۔
نئے نظام میں غیر سیاسی لوگوں اور بیورو کریسی پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے جس کی حمایت پی ٹی آئی کے دوستوں کیلئے بھی مشکل ہوگی۔ نظام میں پنچائیت نیبر ہڈ کا طریقہ کار مبہم ہے جو بلا وجہ موجودہ یونین کونسلوں کو ختم کر کے تجربہ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ضلعی کونسل کے ساتھ یونین کونسلیں موجود تھیں اگر تحصیل کونسل کا خاتمہ ہو جاتا تو یہ نظام موثر طریقے سے چلایا جا سکتا تھا۔ انتطامات کی مجموعی صحت کو دیکھا جائے اس میں اختیارات کی مرکزیت صوبائی حکومت یا بیورو کریسی کے پاس ہوگی۔
عمران خان کی حکومت بیورو کریسی پر انحصار کر رہی ہے یہی طرز عمل میاں شہباز شریف کا رہا ہے۔