سفر در سفر ۔3 ۔ گوالمنڈی کی بازیافت
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 01 / مئ / 2019
- 12350
5 پریل کا دن لاہور میں پہلا دن تھا اور میں اب تک سن 1979 کی 4 اپریل کی صبح کی چیرہ دستی میں کھویا ہوا تھا ۔ میں اُس روز اخبار کے دفتر سے واپس لوٹا تو راستے میں ایبک روڈ کے چائے خانے میں عزیز میاں قوال کے پانوں اور شعروں نے تا دیر اُٹھنے نہ دیا ۔ گھر پہنچ کر دودھ لینے کے لیے گوالمنڈی کے چوک میں نکلا تو بار اللہ خان ایڈوکیٹ مجھے اپنی طرف آتے دکھائی دیے ۔ میرے قریب آ کر انہوں نے رقت آمیز تعزیتی لہجے میں کہا کہ اُنہیں نوابزادہ نصر اللہ نے فون پر بتایا کہ رات دو بجے بھٹو صاحب کو پھانسی دی جا چکی ہ۔ے اور نوابزادہ صاحب نے بیگم بھٹو کو تعزیتی ٹیلیگرام بھی بھجوایا ہے ۔اِنّا للہ و انا الیہ رجعون ۔ اگر چہ بار اللہ خان جماعتِ اسلامی کے زعیم رہنماؤں میں سے تھے لیکن وہ دوستوں کے دوست تھے اور بسا اوقات دوستی کا پرچم بلند رکھنے کے لیے وہ اپنے پارٹی کے ٹیبو توڑ دیتے تھے ۔ اللہ اُنہیں غریقِ رحمت کرے ۔
چونکہ قطر ہوائی کمپنی کی پرواز صبح کے اڑھائی بجے لاہور کے ہوائی اَڈّے پر اُتری تھی ، اس لیے گوالمنڈی پہنچتے پہنچتے فجر کی اذان کا وقت ہو چکا تھا ۔ اگلے چند لمحوں میں نیند کا تند و تیز جھونکا مجھے مدہوش کرگیا ۔جاگا تو دن کے دس بجنے کو تھے ۔ تازہ دم ہونے کے لیے لاہور کے نئے جمہوری پانی سے بپتسمہ لینا پڑا ۔ اس پانی کا مزاج ناروے کے پانیوں کی نسبت مسالے دار اور چکنائی آمیز تھا تا ہم اشنان کے مرحلوں سے گزرنا ناگزیر تھا ۔ اور پھر آج تین دہائیوں بعد خالص لاہوری ناشتہ بہم ہوا جو میرے کام و دہن کو اجنبی اجنبی لگا ۔ چونکہ اس کا اہتمام میرے برادرِ نسبتی زاہد راٹھور نے بڑے چاؤ سے کیا تھا ، اس لیے چٹخاروں کی آواز نکالنا فرض تھا ۔
ناشتے کے بعد اگلا مرحلہ اردو بازار جا کر اپنے ہم زُلف قمر الزماں بابر سے ملنے کا تھا جن کا کُتب خانہ اور اشاعت گھر اردو بازار میں ہے ۔ یہیں ایک گلی میں میرے بہت ہی عزیز بھانجے نبیل الزماں نوبی کا بُک سٹور بھی ہے ۔ نوبی اپنی ماں کی مروت اور خوش مزاجی کا مجسمہ ہے ۔ اردو بازار حسبِ روایت پنجابی اور پنجابیوں سے بھرا ہواتھا ۔ اور اس بازار کو اگر اردو بازار کے بجائے پنجابی بازار کہیں تو زیادہ موزوں لگے گا کیونکہ اس بازار کے لگ بھگ پچانوے فی صد کُتب خانے پنجابیوں کی ملکیت ہیں مگر میں نے اسے دِلّی کے محلہ پنجابی سودگران کا جڑواں محلہ سمجھ کر ہمیشہ لسانی بازارِ حُسن سمجھا ہے ۔ برسوں پہلے انارکلی سے نکل کر سرکلر روڈ پر بائیں مُڑ کر اردو بازار کو جاتے ہوئے راستے میں محمد طفیل صاحب کا نقوش کا ادارہ پڑتا تھا ، جہاں مدیرِ نقوش کی زیارت ہو جایا کرتی تھی ۔لیکن جہاں کبھی پیدل راہ گیر بڑی سہولت سے آوارہ خرامی کرتے تھے وہاں اب موٹر سائیکل اور چنگچی اتنی بڑی تعداد میں ٹریفک گردی کرتے ہیں کہ مجھ جیسے پیدل راہگیروں کی تو جان حلق میں اَٹکی رہتی ہے ۔ لیکن نہیں صاحب ! لوگ اس ٹریفک کا حصہ بن کر مشینوں کے ساتھ مشینیں بن چکے ہیں ۔ اور چنگچیوں کے شہر میں دو ٹنگچیاں بھی اُسی شان سے چلتی ہیں جیسے وہ آدمی نہ ہوں چین کے بنے مشینی گُڈّے ہوں ۔
قمر الزماں بابر سے ٹھیک اٹھائیس برس بعد اُن کے بک ڈپو میں ملاقات ہوئی ۔ کتابوں کی خوشبو کے درمیان بڑا سکون ملا اور تھوڑی دیر کے لیے ٹریفک کا کڑوا کسیلا دھواں میرے مونہہ کے ذائقے سے منہا ہوگیا ۔ یہاں سے نکل کر نوبی کے بُک سٹور کا چکر لگایا جہاں کی فضا اور بھی پرسکون تھی ۔ یہاں سے میں نے اپنی پنجابی کتاب " ھُو" کی چند کاپیاں اور دانشمندِ گرامی ساحر لدھیانوی مرحوم کی کلیات کی ایک کاپیاں حاصل کیں اور چند ساعتیں مزید اردو بازار کی پنجابی میں بسر کر کے ٹی ہاؤس کی راہ لی ۔ ٹی ہاؤس تو موجود تھا لیکن نہ وہ پرانی فضا ، نہ ماحول نہ وہ ادبی گہما گہمی ، نہ زاہد ڈار ، نہ احمد مشتاق ، نہ نواب ناطق نہ حبیب جالب کچھ بھی تو نہ تھا ۔
ریستوران میں تین میزیں تھیں اور چار اجنبی چہرے جن میں سے ایک کو میں پہچان سکا کہ ان کا نام طاہر ملک تھا جنہیں میں نے کسی ٹاک شو میں ٹی وی پر دیکھا تھا ۔ دوسری منزل الماریوں سے بھری کتابوں کا سٹور روم تھا جہاں چند نوجوان لڑکے لڑکیاں کتاب کی آڑ میں باتوں میں کھوئے ہوئے تھے ۔ البتہ ٹی ہاؤس کی دیواروں پر ادیبوں کی تصویریں لگی تھیں جن میں سے بہت سے ایسے تھے جنہیں ٹی ہاؤس نے کبھی نہ دیکھا ہوگا مگر لیکن کسی سیاسی مصلحت نے انہیں ٹی ہاؤس کے اس تصویری میوزیم کا حصہ بنا دیا تھا ۔ یہاں یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ادب کے کعبے سے ان بُتوں کی نسبت کس نے جوڑی ، تو اس کے ڈانڈے بھی لازماً دانشورانہ کرپشن سے جا ملیں گے ۔ لیکن میری بلا سے ۔ میں ہوتا کون ہوں ایسے سوالات اُٹھانے والا ۔
خیر ، تو چودھری شجاعت کی زبان میں " مٹی پاؤ " کا اسم پڑھ کر میں ٹی ہاؤس سے باہر نکل آیا ۔ واپسی پر گھر پہنچے تو ایک پرانے دوست ریاض صحافی کا چہرا طلوع ہوا ۔ ریاض صحافی کو چالیس برس بعد دیکھ کر لگا کہ آج کے ریاض صحافی اور چالیس برس پہلے کے ریاض صحافی میں سرِ مو فرق نہیں ۔ اس شخص کے طبعی وجود اور عمر پر نہ تو عمران خان کے تبدیلی کے منتروں نے اثر ڈالا تھا اور نہ ہی امتدادِ زمانہ کے نشانات دکھائی دے رہے تھے ۔ وقت کی چلتی چکی نے اُسے ظاہری طور پر بالکل بھی نہیں پیسا تھا ۔ چنانچہ وہ چالس سال بعد بھی ویسے کا ویسا لڑکا تھا ۔
چلو شہر کی سیر کریں ، کہہ کر میں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا اور ہم ریلوے روڈ پر اُتر کر گوالمنڈی کے چوک کی طرف چل دیے ۔ جی چاہ رہا تھا کہ شفّو پان والے سے پان کھایا جائے ۔ چوک میں پہنچے تو شفو کی دکان پر شفپو نہ تھا ، پہلو میں حاجی حرامدا کی دکان نابود تھی ۔ البتہ دکان کا ناک نقشہ بدل چکا تھا ۔ پان کی دکان پر کسی صوفی بزرگ کی تصویر والا طُغریٰ آویزاں تھا جس پر تصوف کے اقوال درج تھے ۔ میں نے شفو کا پوچھا تو دکان پر کھڑے نوجوان نے جو بعد میں شفو کا بیٹا نکلا ، بتایا کہ انہیں وفات پائے برسوں بیت چکے ۔ میں نے تعزیت کے انداز میں اپنے افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ میں تو اُن سے پان کھانے بہت دور سمندر پار سے آیا ہوں ۔ اس پر نوجوان نے نہایت نفاست سے پان بنا کر مجھے دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہے " ابا کی طرف سے " ، ۔ اور جب میں نے پان کی قیمت ادا کرنی چاہی تو اس نے کہا کہ یہ پان جانے یا ابا جانے ، تُسی پان کھاؤ ، میں قیمت نہیں لوں گا ۔
اتنے میں معین بٹ آ پہنچے ۔ اُن کے والد غفور بٹ ایک فلمی ہفت روزہ سکرین لائٹ نکالا کرتے تھے جس کا دفتر لکشمی چوک میں تھا ۔ اور اب وہ لکشی چوک ہی نہیں رہا ۔ لکشمی کو مشرف بہ اسلام کر کے اس کی جنس بدل دی گئی ہے اور اب وہ چوک مولانا ظفر علی خان سے منسوب ہے ، حالانکہ اُن جیسے درویشوں کا منصب ہی نہیں کہ وہ کسی چوک پر قابض ہوں کیونکہ لاہور کے چوراہے تو اب گداگری ٹیکس وصول کرنے والوں کے ناکے بن چکے ہیں ۔
پان چباتے ہوئے کئی پرانیاں یاد آ گئیں ۔ تو میں نے کہا چلو مستنصر حیسن تارڑ کی فرم کا دفتر ڈھوندتے ہیں لیکن وہاں اب نہ کسان اینڈ کمپنی تھی نہ مستنصر تارڑ ۔ معین بٹ سے نمبر لے کر مستنصر کو فون کیا تو نام پوچھا گیا ۔ نام بتایا تو جواباً صلواتیں سنائی دیں اور ڈانٹ پڑی کہ خود آ کر ملنے کے بجائے فون کر رہے ہو ۔ اس ڈانٹ ڈپٹ کی اپنی ایک لذت تھی جو مجھے سرشار کر گئی ۔ عرض کیا کہ ایک آدھ دن میں حاضری بھروں گا ۔
تب گوالمنڈی کے چوک سے ہٹ کر تارڑ کی دکان کے نواح میں ایک چائے خانے کے سامنے ریاض صحافی ، معین بٹ اور میں کرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھ گئے ۔ یہ لاہور کی پہلی سرِ راہے چائے تھی ۔اُن پرانے دنوں کی یاد میں جب لاہور کی ہوا گاڑیوں کے دھوئیں سے اس قدر آلودہ نہیں تھی ۔ ( جاری ہے )