مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا، 291 ارب روپے کی لاگت سے پانچ سال میں تعمیر ہوگا
- جمعرات 02 / مئ / 2019
- 5980
مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا، 291 ارب روپے کی لاگت سے پانچ سال میں تعمیر ہوگا
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بیرونی فنڈنگ سے قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کو اکسانے کی سازش ہو رہی ہے۔ قبائلی نوجوانوں میں احساس محرومی کا خاتمہ اور ان کو روزگار کے مواقع نہ ملے تو وہ اس سازش کا شکار ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقہ جات کی ترقی سے ان نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ تقریب میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، اور خیبر پختونخوا کے حکام نے شرکت کی۔
عمران خان نے بتایا کہ مہمند ڈیم 291 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہوگا اور اس کی تعمیر 2024 میں مکمل ہو گی۔ عمران خان سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے وہ کام کئے جو حکومت کے کرنے کے تھے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقہ جات میں امن کے لئے ہماری فوج اور عوام نے مل کر اپنا کردار ادا کیا ہے۔
مہمند ڈیم پشاور سے 37 کلومیٹر دور ضلع چارسدہ اور مہمند ایجنسی کی حدود میں دریائے سوات پر تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے پر 291 ارب روپے خرچ آئے گا اور اس کی تعمیر 5 سال میں مکمل ہو گی۔ اس ڈیم میں 12 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی جس سے 8 سو میگا واٹ بجلی پیدا ہو سکے گی۔ ڈیم کی اونچائی 213میٹریعنی 698اعشاریہ 82 فٹ بلند ہو گی، ڈیم سے دائیں اور بائیں جانب نکلنے والے نہری نظام سے ضلع مہمند کی مجموعی طور پر 16667 ایکڑ بنجر زمین کاشت کے قابل ہو سکے گی۔
وزیراعظم نے تیرہ سمیت پورے ضلع خیبر میں امن قائم کرنے پر فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے سب سے زیادہ قبائلی اضلاع کا دورہ کیا ہے اور میں ان کے تمام روایات اور تہذیب کو جانتا ہوں اور جہاں بھی گیا وہاں جاکر اس علاقے کی پسماندگی کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ یہاں، تعلیم، پانی، صحت اور کاروبار موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام محرومی ڈیم کے نہ ہونے کی وجہ سے ہی ہے۔ پاکستان 1960 کی دہائی میں ترقی کر رہا تھا اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان میں ڈیم کی تعمیر ہے۔ اس وقت جنرل (ر) ایوب خان کی حکومت تھی اور انہوں نے مستقبل کا سوچا اور منصوبے شروع کیے۔
ہمارے یہاں لوگ اپنے ووٹ بینک کی وجہ سے صرف اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام کراتے ہیں لیکن جن علاقوں میں ان کا ووٹ بینک نہیں ہوتا اس کی وجہ سے پاکستان میں وہ علاقے دیگر علاقوں سے بھی پیچھے رہ گئے۔
انہوں نے لاہور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس شہر میں پنجاب کے دیگر شہروں کے مقابلے میں زیادہ ترقیاتی کام ہوئے جس کی وجہ سے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے افراد نے اس علاقے کا رخ کیا جس کی وجہ سے اس شہر کی آبادی زیادہ ہوگئی اور یہ شہر بد انتظامی کا شکار ہوگیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ساڑھے 4 ارب روپے صرف ضلع مہمند میں خرچ کیے جائیں گے جبکہ ڈیم کی تعمیر سے مقامی افراد کو ملازمتیں بھی فراہم کی ہوں گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں کمزور طبقے کو ترقی دینی ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ یہاں کہ لوگوں کے مسائل کیا ہیں۔ ہم انہیں دور کریں گے اور آپ کے لیے نوکریاں، معاشی مواقع، جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم کی سہولیات فراہم کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں غیر ملکی عناصر کی فنڈنگ سے پروپگینڈا ہورہا ہے، اگر ان علاقوں میں نوجوانوں کی مدد نہ کی گئی تو ملک میں انتشار پیدا ہوگا جس کے باعث نقصان اور قربانیاں دینے کے ساتھ ساتھ ملک کا خرچہ بھی بہت ہوگا۔
وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر کرپشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کبھی عام آدمی کی چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتا بلکہ ملک کا سربراہ چوری کرتا ہے جو تمام اداروں کو تباہی کا شکار کردیتا ہے۔ اگر میں نے انہیں این آر او دیا تو یہ میری اپنی قوم سے غداری اور اللہ سے بے وفائی ہوگی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس نے ڈیم کے لیے زمین فراہم کرنے پر مقامی افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عطیات اپنی جگہ لیکن ڈیم کے لیے اپنی زمین دینے سے بڑی قربانی کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم کی تعمیر میں سب سے اہم چیز شفافیت ہے جس کے لیے ایسا طریقہ کار ہونا چاہیے کہ عوام کو وقتاً فوقتاً ڈیم پر آنے والے اخراجات سے آگاہ کیا جائے۔