جاپان میں نئے دور کا آغاز، شہنشاہ کی دستبردار ی کے بعد نئے بادشاہ کی تاج پوشی


جاپان بطور ملک اور جاپانی عوام پوری دنیا سے منفرد اور اپنی جدا پہچان رکھتے ہیں۔  اسی طرح جاپان کا شاہی خاندان بھی دنیا کے دیگر شاہی خاندانوں سے  ممتاز ہے۔عیسوی اور اسلامی ہجری سال کی طرح جاپان کا  اپنا  کیلنڈرہے جو  نئے شہنشاہ کے تخت نشین ہونے یا اس کی  تاج پوشی کے دن سے شروع ہوتا ہے اور شہنشاہ کی زندگی کے آخری دن پر اختتام کو پہنچتا ہے۔
30 اپریل 2019تک ہم جاپان میں دورِ حے ای سے Heisei Era میں جی رہے تھے اور  یکم مئی سے نئے دور رے ای وا یعنی Reiwa Eraمیں سانس لے رہے ہیں۔گزشتہ عہد یعنی Heisei کا آغاز 7جنوری  1989کو اُس وقت ہوا تھا جب دورِ شووا یعنی Showa Era کے شہنشاہ  ہیرو ہیٹو  88برس کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔ 8  جنوری  1989 ولی عہد شہزادہ  آکی ہیٹوو جاپان کے 125ویں شہنشاہ کی حیثیت سے تخت نشین ہوئے تھے۔ اب  جاپان کے نئے شہنشاہ عزت مآب نوروہیٹو  126ویں شہنشاہ کی حیثیت سے تخت نشین ہوئے ہیں۔ اس طرح گزشتہ عہد یعنی Heiseiکا اختتام شہنشاہ کی زندگی میں  ہی ختم ہوا جو جاپان کی تاریخ میں  202سال کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔
 جاپان کے رسم و رواج کے مطابق شہنشاہ جب تک حیات ہے وہ بادشاہ رہے گا اور اس کی  زندگی میں کسی کو بھی بادشاہت نہیں سونپی جا سکتی تھی۔ سابق شہنشاہ Akihito  نے چند سال پہلے ہی اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے پوری قوم کو حیران و پریشان کردیا تھا۔ انہوں نے کہا وہ اپنی بڑھتی ہوئی عمر اور گرتی ہوئی صحت کے باعث اپنے فرائض منصبی نبھانے سے قاصر ہیں۔  ان کی خواہش  تھی  کہ وہ اپنی زندگی میں ہی یہ عہدہ اپنے جانشین کو سونپ دیں۔85سالہ سابق شہنشاہ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے جاپانی عوام اور حکومتی ادارے اور شاہی خاندان کی ذمہ داریاں سنبھالنے والا محکمہ سب  نے  متفقہ مشورے سے شہنشاہ کی خواہش کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔  گزشتہ روز اس پر عمل درآمد کیا گیا۔
 سابق شہنشاہ نے کہا کہ اس سرعت سے بدلتے ہوئے جدید دور میں کسی شہنشاہ کی وفات اور اس کے  بعد نئے شہنشاہ کی  تاج پوشی پر قوم کا وقت اور پیسہ خرچ ہونا مناسب نہیں۔ وہ اپنی قوم کے لئے اپنے دل میں بہت درد رکھتے ہیں۔ان کا  عہد 8 جنوری  1989 سے 30اپریل  2019 تک رہا۔ یعنی انہوں نے 30 سال حکمرانی کی۔ اب ان کے 59 سالہ بیٹے Naruhitoجاپان کے شہنشاہ ہیں اور ان کے  عہد کو آج سے Reiwa کہا جائے گا۔جاپان کی تاریخ میں صرف ایک بار 7 مئی 1817  میں کوکاکو عہد کے بادشاہ مورو ہیٹو نے تخت و تاج  اپنے بڑے بیٹے آیا ہیٹو کے سپرد کیا تھا اور اس  دور کو Ninko Era  کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اُس دور کے شہنشاہ Ayahito  سابق شہنشاہ کے نکڑ دادا تھے۔اس طرح جاپان کی تاریخ میں  دو سو سال بعد یہ پہلا واقعہ دیکھنے کو ملا ہے جس کی  وجہ سے جاپان بھر میں نئے دور کی تبدیلی پر خوشی واداسی کا ملا جلا رجحان پایا جارہا ہے۔
 جاپانی عوام کی اکثریت اپنے شہنشاہ،ملکہ،ولی عہد یا شہزادے شہزادیوں کے اصلی نام سے واقف نہیں ہوتے،کیونکہ جاپانی عوام اپنے شہنشاہ کو صرف عزت مآب شہنشاہ کہتے ہیں جسے جاپانی زبان میں Tenno Samaکا لفظ مخصوص ہے۔اسی طرح ملکہ کو Kogo Sama ولی عہد شہزادے کو Sama Koutai،شہزادے کو Oji Samaجبکہ شہزادی کوOjo Samaکہتے ہیں۔
ہر عہد یا دور کا نیا نام تجویز کرنے کے لئے باقاعدہ شاہی خاندان کی دیکھ بھال کرنے والی ایجنسی اور حکومتی اداروں کی منظوری لینا ضروری ہوتی ہے اور نیا نام تجویز کرنے کے لئے جاپان بھر کے دانشوروں میں سے چند کا انتخاب کیا جاتا ہے اور اسے صیغہئ راز میں رکھا جاتا ہے۔ اس مرتبہ بھی نو افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں سات مر اور دو خواتین نے یہ نیا نام تجویز کیا تھا۔  اس کمیٹی کے افراد میں معروف جامعات کے پروفیسرز،ماہرِ تعلیم، نوبل انعام یافتہ،مصنف اور سائنس دان شامل تھے۔نئے عہد کا نام رے ای وا یعنی Reiwaکا اعلان گزشتہ ماہ چیف کیبنٹ سیکریٹری Mr.Sugaنے کیا تھا۔  یہ دو الفاظ ہیں ایک رے ایRei جسے جاپانی زبان کے لفظMeireiسے لیا گیا ہے جس کے  معنی آرڈر یا حکم ہوتا ہے اور دوسرا لفظ واWaہے جس کے  معنی امن کے ہوتے ہیں۔  اس لئے اگر دیکھا جائے تو اسے آسان لفظوں میں حکمِ امن یا امن کا گہوارہ وغیرہ کہا جاسکتا ہے۔اسی طرح Heisei کا مطلب ہر سُو امن کہا جاسکتا ہے جبکہ Showaکا مطلب روشن خیال بنتا ہے۔
جنگ عظیم دوم تک جاپان کے شاہی خاندان کا ہر فرد عام شہری کی نسبت امیر ترین ہوا کرتا تھا اورفوجی،حکومتی اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ان کا پورا پورا عمل دخل ہوا کرتا تھا اور شہنشاہ وقت بہت سخت گیر ہوا کرتا تھا۔ تاہم جنگِ عظیم دوم میں شکست کے بعد شاہی خاندان نے اپنی تمام تر جائداد جاپانی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کو دے دی تھی۔  اور اسی طرح شہنشاہ بھی حکومتی معاملات سے دستبردار ہوگئے تھے اور اب تک جاپان کا شہنشاہ اور شاہی خاندان کے افراد ایک علامتی شاہی خاندان کی حیثیت سے صرف مخصوص فرائض انجام دیتے ہیں۔ جن میں سماجی و قومی تہواروں میں شرکت،غیر ملکی سربراہانِ مملکت سے ملاقات یا جاپان میں متعین ہونے والے نئے سفرا کے تعیناتی دستاویزات پر دستخط یا ان سے ملاقات  شامل ہے۔ نئی حکومت کی تشکیل کے موقع پر نئی کابینہ سے حلف لینا  بھی بادشاہ کے  فرائض منصبی   میں شامل ہے۔
جاپانی قوم اپنے شہنشاہ و ملکہ کو اپنا روحانی پیشوا تصور کرتے ہیں۔جاپان کا شاہی خاندان دنیا کا پہلا شاہی خاندان ہے جس کا  کوئی کاروبار یا اثاثے نہیں ہیں۔ جاپان بھر میں ان کے  خوبصورت و وسیع و عریض محلات یا فارمز ہیں مگر ان کا  انتظام و انصرام بھی حکومت کے پاس ہے۔ جب کبھی کوئی قدرتی آفات مثلاََ طوفان،زلزلے یا تسونامی سے عوام بے گھرہو جائیں تو شاہی محلات متاثرین کے لئے کھول دئے جاتے ہیں۔سابق شہنشاہ کے  تیس سالہ دور میں جاپان کے بعض شہروں میں بڑی بڑی قدرتی تباہ و بربادی کے منظر دیکھنے کو ملے جن میں اوساکا اور کوبے میں زلزلہ اور فوکوشیما میں زلزلہ اور تسونامی جیسی قدرتی آفات تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔سابق شہنشاہ اور ملکہ نے اپنے دورِ بادشاہت میں تقریباََ پورے جاپان کے ہر  علاقے  دورے کئے ہیں۔
جاپانی شاہی خاندان کے ہر فرد میں انکساری و عاجزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ان میں دنیا کے دیگر شاہی خاندانوں کی طرح گھمنڈ و تکبر نہیں پایا جاتا۔شاہی خاندان میں کسی زمانے میں اپنے ہی خاندانوں میں شادی کرنے کا رواج عام تھا مگر دورِ حاضر میں شاہی خاندان کے جتنے بھی افراد کی شادیاں ہوئی ہیں وہ بالکل عام گھرانوں میں ہوئی ہیں۔یہ بات بھی واضح رہے کہ شاہی خاندان کی کوئی بھی شہزادی جب شادی کرتی ہے تو پھر اس سے شہزادی کا لقب لے لیا جاتا ہے اور وہ ایک عام شہر ی کی طرح اپنے خاوند کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہے۔ شادی سے پہلے  شاہی خاندان کے ایک فرد ہونے کے اعزاز میں جو آؤ بھگت ہوتی تھی وہ ختم کردی جاتی ہے۔ شادی کے بعد اسے عام شہری کی طرح زندگی کے دیگر امور اپنانا پڑتے ہیں۔تاہم اگر شہزادہ شادی کرے تو اس کی  ہونے والی بیوی شاہی خاندان کے ایک فرد کی حیثیت سے تا حیات شہزادی کہلاتی ہے اور ان کے  درمیان پیدا ہونے والے بچے شہزادے و شہزادیوں کا لقب پاتے ہیں۔
راقم الحروف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں شووا دور میں جاپان آیا اور ایک سال کے بعد حے ای سے دور کا آغاز ہوا اور اب تیس سال بعد نیا عہد رے ای وا کا دور شروع ہو چکا ہے۔امید ہے کہ اس نئے دور میں جاپان میں مزید تبدیلیاں رونما ہوں گی۔  جاپانی قوم نئے دور سے بہت سی توقعات وابستہ کر رہی ہے۔  دعا ہے کہ نئے دور میں بھی جاپان ماضی کی طرح ترقی کی منازل طے کرتا جائے۔
جاپان کے روایتی کیلنڈر کے مطابق جاپان کے سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں دستاویزات پر عیسوی سن درج نہیں کیا جاتا بلکہ جاپان کے موجودہ دور کا سن درج کیا جاتا ہے۔  جس کی وجہ سے غیر ملکی باشندوں کو سال کا تعین کرنے میں بہت دقت پیش آتی ہے اور عام جاپانی کے لئے عیسوی سن کے بارے میں حساب کتاب کرنا مشکل امر ہے۔   ایک جاپانی عام زندگی میں اپنا سن پیدائش بتاتا ہے تو وہ یہی کہے گا کہ وہ شووا،حے ای سے کے فلاں سال میں پیدا ہوا تھا۔ مثلاََ میری پیدائش سن 1964 میں ہوئی ہے تو جاپانی کلینڈر کے حساب سے میری پیدائیش شووادور کی 39 ہے یعنی اگر کوئی شووا کے سن میں پچیس جمع کرے تو عیسوی سال سامنے آجائے گا۔شووا،۹۳ میں ۵۲ جمع کرنے سے سن ۴۶۹۱ء؁ ہوگا۔اسی طرح اگر کوئی جاپانی کہے کہ اس کی  پیدائش شو وا  18 میں ہوئی ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ اس کی پیدائش کا سن1943 ہے۔
نئے دور کے آغاز سے جاپان  کے سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی دستاویزات پر اب نئے دور رے ای وا Reiwaدرج کیا جائے گا۔  نئی کرنسی نوٹ اور سکے بھی جاری کئے جائیں گے۔جاپان کی تاریخ میں شاہی خاندان میں جنم لینے والے شہزادوں کے نام کے ساتھ Hito اور شہزادیوں کے نام کے ساتھ Koلگایا جاتا ہے۔