معروف مبلغ ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ کا الزام

  • جمعہ 03 / مئ / 2019
  • 5920

بھارتی پراسیکیوٹرز نے متنازع اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا ہے۔ وہ اس وقت جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

 ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے غیر قانونی اثاثہ جات تقریباً 28 لاکھ امریکی ڈالر ہیں تاہم ذاکر نائیک ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔  انڈین حکام نے ان پر مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ 53 سالہ ذاکر نائیک ’پیس چینل‘ پر مبینہ طور پر انتہاپسندانہ اسلامی نظریات کی ترویج کرتے ہیں۔

اگرچہ انڈیا میں اس چینل پر پابندی عائد ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس کے ناظرین کی تعداد 20 کروڑ ہے۔  پیس چینل کی براڈکاسٹنگ دبئی سے ہوتی ہے اور یہ ذاکر نائیک کی سربراہی میں چلنے والی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کی ملکیت ہے۔

بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک نے اس چینل پر پابندی لگا رکھی ہے۔ بنگلہ دیش میں 2016 میں ایک کیفے پر حملے کیا گیا جس میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس حملے میں ملوث ایک حملہ آور ذاکر نائیک کے نظریات سے متاثر ہوا تھا۔

انڈیا میں مالی بے ضابطگیوں کی تفتیش کے ذمہ دار ادارے انفورسٹمینٹ ڈائریکٹریٹ نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ممبئی میں موجود اکاؤنٹس کے حوالے سے منی لانڈرنگ کے الزامات گزشتہ روز عائد کیے۔ ادارے نے عدالت کو بتایا کہ اسے لاکھوں ڈالر کے اثاثہ جات کا پتا چلا ہے جو مجرمانہ کارروائیوں سے بنائے گئے۔

ادارے نے مزید الزام لگایا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اشتعال انگیز تقاریر اور لیکچرز نے انڈیا کے مسلمان نوجوانوں کو پرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں پر ابھارا ہے۔ ایجنسی نے ان پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مشکوک ذرائع سے حاصل ہونے والے فنڈز کو انڈیا میں جائیداد خریدنے اور ان تقاریب پر لگایا ہے جہاں وہ 'اشتعال انگیز ' تقاریر کرتے ہیں۔

تاہم ذاکر نائیک کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ رقم قانونی اور جائز طریقے سے حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک مذہبی طور پر بنیاد پرستانہ خیالات کی وجہ سے متنازع سمجھے جاتے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم القاعدہ کی تقلید کرنے والے بہت سے افراد نے قید کے بعد تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ ذاکر نائیک سے متاثر ہوئے تھے۔ ذاکر نائیک کے برطانیہ میں داخلے پر 2010 میں پابندی عائد کی گئی تھی اور وجہ ان کی تقاریر اور 'ناقابل برداشت رویہ' قرار دی گئی تھی۔

نومبر 2016 میں انڈیا کے ادارہ برائے انسداد دہشت گردی نے ذاکر نائیک کے خلاف شکایت میں الزام لگایا کہ وہ مذہبی نفرت اور غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ذاکر نائیک 2017 میں ملائیشیا چلے گئے تھے۔