نواز شریف کی ضمانت میں توسیع اور ملک سے باہر جانے کی درخواست مسترد

  • جمعہ 03 / مئ / 2019
  • 4820

سپریم کورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز میں سزا کا سامنا کرنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ مختصر حکم میں انہیں علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت دینے سے بھی گریز کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع سے متعلق نظرثانی درخواست پر سماعت کی۔ سابق وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے۔

دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ 6 ہفتوں کے بعد آپ کے لیے تمام آپشن موجود ہے۔ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آپ کے فیصلے کے مطابق نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے سے پہلے گرفتاری دینا لازمی ہے۔ یہ فیصلہ درست نہیں کہ 6 ہفتوں کے بعد جو بھی طبی صورتحال ہو گرفتاری دینا ضروری ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ وہ پورا پیکج ہے جو آپ کو ملا ہے۔

اس پر خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ میں نے کہا تھا کہ میرے موکل 8 ہفتے بعد سرنڈر کریں گے، میں نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ بھی ہمراہ دی تھی۔ آپ نے کہا تھا کہ کیس کو التوا میں نہیں رکھنا چاہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے۔ بیماری کے بارے میں ڈاکٹرز بہتر بتا سکتے ہیں۔

سماعت کے دوران خواجہ حارث نے چیف جسٹس سے کہا کہ اخبار میں آپ کے ریمارکس چھپے ہیں کہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے موکل کے پاس حل موجود ہے، وہ فائدہ لے سکتے ہیں، تاہم آپ نے بیرون ملک جانے کے لیے اجازت مانگی ہے۔

اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ توسیع کی درخواست اس لیے دی ہے کہ ضمانت کی مدت ختم ہورہی ہے۔ اجازت دی جائے کہ گرفتاری کے بغیرہائی کورٹ سے رجوع کرسکیں۔

اس موقع پر نواز شریف کے وکیل نے عدالت سے نواز شریف کی مزید 8 ہفتوں کے لیے ضمانت میں توسیع کی استدعا کی اور کہا کہ 8 ہفتوں بعد نواز شریف کی طبی صورتحال دیکھ کرعدالت فیصلہ کرے۔  انہوں نے کہا کہ 7 مئی کو سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو دی گئی ضمانت کی مدت ختم ہورہی ہے، میرے موکل کی طبیعت خراب ہے ضمانت میں توسیع دی جائے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ میرے موکل کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے، میڈیکل رپورٹس کے مطابق انجیو گرافی کی ضرورت ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انجیوگرافی کےلیے ایک گھنٹہ درکار ہوتا ہے ہم نے 6 ہفتے دیے۔

عدالت میں طویل دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ 26 مارچ کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں 6 ہفتوں کی عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ سنایا تھا تاہم فیصلے میں شرط رکھی گئی تھی کہ وہ اس دوران پاکستان سے باہر نہیں جاسکتے۔