ایم کیو ایم، نئے سیاسی امتحان میں!
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 03 / مئ / 2019
- 5870
پاکستان کی پہلی سیاسی جماعت مسلم لیگ سمیت کوئی بھی جماعت ایسی نہیں جسے مختلف حروف تہجی لگا کرتقسیم نہ کیا گیا ہو۔ یا وہ بہت ہی مختصر وقت میں اپنی موت آپ ہی مر گئی۔
اسی طرح تاریخ میں بہت سارے اتحاد قائم کئے گئے اور یہ اتحاد سوائے حکومت کے حصول کے اور کچھ بھی ثابت نہ ہوسکے۔ اور کسی قسم کی نظام میں تبدیلی لانے سے قاصر رہے۔متحدہ قومی موومنٹ بھی پاکستان کی ایک اہم سیاسی جماعت ہے اور یہ منظم جماعت بھی اپنے آپ کو ٹوٹنے سے نہ بچاسکی۔ پہلے ایک اور پھر یکے بعد دیگرے دو تین حصوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی۔ ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں بنتی تو عوامی مفادات کے تحفظ کیلئے ہیں لیکن کامیابی کے بعد وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ سیاسی میدان میں کیو ں کودے تھے۔
ایم کیوایم کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات میں مشکل وقت دیا اور اسے انتخابات میں کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ بہرحال وفاق میں تحریک انصاف کو حکومت بنانے کیلئے ایک بار پھر ایم کیوایم کی ضرورت پڑ گئی۔ ایم کیو ایم جو گزشتہ کئی ادوار سے حکومتی نشستوں پر بیٹھتی چلی آرہی ہے ایک بار پھر اقتدار میں شامل ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایم کیوایم کی پزیرائی کی اور ایم کیو ایم کو اہم ترین وزارتوں سے بھی نوازاگیا ہے۔
وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ وہ ایم کیوایم کے دیرینہ مسائل حل کرے لیکن حکومت وقت بدعنوانی جیسے سنگین مسائل سے تھوڑا سر اٹھائے گی تو ان کا اگلا ہدف سندھ اور کراچی ہوگا۔ جہاں سندھ میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے اور کراچی میں ایم کیوایم سے پہلے ہی گٹھ جوڑ بنا رکھا ہے۔
کبھی ایم کیو ایم کے جلسوں کی گونج پورے پاکستان میں سنی جاتی تھی۔گزشتہ دنوں ایم کیوایم پاکستان نے کراچی میں ایک جلسے کا انعقاد کیا جس کا بنیادی مقصد یہی لگتا ہے کہ وہ اپنی سٹریٹ پاور دیکھنا چاہتی تھی۔ ایم کیو ایم کے جلسے کے بعدسیاسی ماحول میں کسی حد تک تبدیلی رونما ہوئی ہے جس کا اندازہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین کی جانب سے مل بیٹھ کر سندھ کیلئے کام کرنے کی پیشکش ہے۔ بظاہر ایم کیوایم ایک امتحان میں دکھائی دے رہی ہے لیکن ایم کیوایم اور اس کے ذمہ داران پیپلز پارٹی سے بہت اچھی طرح واقف ہیں اور ماضی میں ان کی حکومتوں کا ساتھ دینے پر کیا کچھ ملا ہے بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں۔
دوسری طرف تحریک انصاف ایم کیوایم کو مختلف الزامات کے باوجود ساتھ لے کر چل رہی ہے اور ایم کیو ایم کے بنیادی نظریہ پر اس کا ساتھ دے رہی ہے، جس میں وڈیرہ شاہی کی بھرپور مخالفت اور عام آدمی کی بقا کی جنگ ہے، جوکہ تحریک انصاف کے منشور میں بھی شامل ہے۔ اب ایم کیو ایم کی قیادت کو بغیر کسی سوچ بچار کے اپنے ووٹروں کی خدمت پر یقین رکھتے ہوئے تبدیلی کیلئے آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ ایم کیو ایم کا وجود کراچی، سندھ یا ملک کیلئے کتنا اہم یا غیر اہم ہے۔
ایم کیو ایم سے وابستہ لوگوں کو عوام پر یہ بات واضح کرنا پڑے گی کہ وہ عہدوں کیلئے تنظیم سے وابستہ ہیں یا ان کا مقصد عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ایم کیوایم سے نکلے ہوئے لوگ جواپنی اپنی جماعتیں بنا بیٹھے ہیں انہیں بھی اس بات پر نظر ثانی کرنی چاہئے کہ اگر منزل ایک ہے تو پھر راہیں جدا جدا کیوں ہیں۔ مل بیٹھ کر راہوں کا تعین کر لیا جائے۔
ملک کی ترقی میں کراچی کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے اور کراچی کی ترقی میں ایم کیو ایم کا کردار اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اب صحیح معنوں میں تبدیلی کی بات کی جائے تو پاکستان کی ترقی میں ایم کیو ایم (اگر اپنی اندرونی خامیوں پر قابو پانے میں حتمی طور پر کامیاب ہوجاتی ہے) تحریک انصاف کا دایاں بازو ثابت ہوسکتی ہے۔ اور آنے والے وقتوں میں بہت سارے دیرینہ مسائل حل کرانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔اس وقت نہ صرف ایم کیوایم بلکہ تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ تعلیم اور نظام تعلیم پر اپنی بھرپور توانائیاں صرف کریں۔