اسرائیل میں بچوں پر ہتھیار آزمائے جاتے ہیں!

بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں کی جانب سے ہر سال مختلف رپورٹس شائع کی جاتیں ہیں  جن میں بچون خے خلاف جرائم کی نشاندہی ہوتی ہے۔  معاشرے میں بچوں پر بڑھتے ظلم،  جبری مشقت ان کے حقوق کی پا مالی پر پوری دنیا میں آواز بلند  ہوتی ہے۔ اسی لئے  ہر سا ل 20 نومبر کو بچوں کا عا لمی دن منا یا جاتا ہے۔بچوں کے حقوق کے با رے میں پہلی مرتبہ 1954 میں اقوا م متحد ہ کی جنرل اسمبلی کے اند ر سفارشات پیش کی گئی اور 1989 میں اقوام متحدہ کی اسمبلی میں بچوں کے متعلق شفارشات کو قانونی شکل  دی۔
اس کے باوجود اسرائیل کی حکومت فلسطینی بثون کے خلاف ظلم و تشدد سے باز نہیں آئی۔ اس حوالے سے  پروفیسر نادیرا شالہوب کیوورکین نے چند روز قبل کولمبیا یونیورسٹی میں دیے گئے ایک لیکچر میں بتایا ہے کہ اسرائیل فلسطینی بچوں پر ہتھیاروں کی آزمائش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مقامات اسرائیلی سکیورٹی انڈسٹری کی لیبارٹریاں ہیں۔
اسرائیل آرمی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق جامعہ عبرانی یروشلم کی سوشل ورک کی پروفیسر نے چند بچوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج خاص طور پر نوجوان نسل کو ہتھیاروں کی اس مبینہ آزمائش کا نشانہ بناتی ہے۔رپورٹ کے مطابق محمد نامی بچے نے کہا کہ  آرمی یہ جائزہ لیتی ہے کہ ہمارے خلاف کون سے بم استعمال کریں، ہمیں رائفل، گیس بم یا اسٹنگ بم سے مارا جائے، ہمارے اوپر پلاسٹک کے بیگز رکھے جائیں یا کپڑے رکھے جائیں۔
دابوش کی رپورٹ کے مطابق عرب پروفیسر کی تقریر کا عنوان ”فلسطینی یروشلم میں تشدد کی ٹیکنالوجی“  تھا جو جامعہ عبرانی میں کی گئی تحقیق پر مبنی تھا۔  جامعہ عبرانی کی جانب سے لیکچر کی  مذمت نہیں کی گئی بلکہ صرف یہ کہا گیا پروفیسر کی جانب سے پیش کیے گئے خیالات یونیورسٹی کے نظریات کی ترجمانی نہیں کرتے۔یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ پروفیسر کے ذاتی خیالات ہیں جس کا انہوں نے خود اظہار کیا ہے“۔اسرائیلی فوج کے خلاف نئے الزامات سے قبل اکثر میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج قتل کیے جانے والے فلسطینی بچوں کے اعضا کا کاروبار کرتی ہے۔
بیلجیم کی اے سی او ڈی ٹریڈ یونین کے ثقافتی سیکریٹری اور فلاسفی آف سائنس کے اسکالر رابرٹ واندر بیکین نے اگست 2018 میں کہا تھا کہ غزہ پٹی پر موجود آبادی بھوک سے مررہی ہے، انہیں زہر دیا جاریا ہے۔ بچوں کو ان کے اعضا کے لیے اغوا اور قتل کیا جارہا ہے۔اس سے قبل نومبر 2015 میں اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر نے کہا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو قتل کرکے ان کے اعضا نکال لیتا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں ریاض منصور نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے قتل کیے گئے فلسطینیوں کی لاشیں کورنیا اور دیگر اعضا کے بغیر واپس کی جاتی تھیں۔
 نیویارک ٹائمز نے اگست 2014 میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ 2000 سے اسرائیل انسانی اعضا کی غیرقانونی اسمگلنگ میں ’غیر معمولی کردار‘ ادا کررہا ہے۔خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے اعضا کی چوری سے متعلق سب سے پہلے سویڈن کے معروف اخبار ایفٹون بلیڈیٹ نے 2009 میں رپورٹ کیا تھا۔نیٹ ورک کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اپنے ذاتی خیال سے متعلق آواز اٹھارہی تھیں۔اسرائیل میں بڑھتی ہوئی تنقید کی وجہ سے اینکر کو وضاحت دینی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ میری تنقید ان سپاہیوں کی جانب تھی جو فلسطین پر قبضے کے دوران معصوم افراد کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔خیال رہے کہ انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان اور ان کے وکلا کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔
اقوام متحد ہ کا عا لمی ادارہ بر ائے اطفا ل یو نیسف کی رپورٹ کے مطابق دنیامیں 124ملین سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں دنیامیں ہرسال27 کروڑ بچے گھر یلوتشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ اب اگر پوری دنیا کا جا ئزہ لیا جا ئے توترقی پذیر مما لک کے ساتھ ترقی یافتہ مما لک میں بھی بچوں کو جنسی تشدد کا نشا نہ بنایا جا تا ہے۔ جن علاقوں اور ملکوں کو جنگی صورت حا ل کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ، عراق، شا م، یمن، افغانستان میں امر یکہ کی بمبا ری سے صرف ایک ہی سال میں لا کھوں ٹن بم کے گولے برسا ئے گئے جن سے خا رج ہو نے والاانتہا ئی خطر ناک مہلک مادہ ”نیوروٹولسک“جو بچوں اور حا ملہ عورتوں پر زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔ جس کے باعث ہزاروں بچے موت کی آغوش میں چلے گئے جبکہ کئی بچے معذور پیدا ہوئے۔
 دوسری طر ف برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہو نے والے انسانیت سوز سلوک سے بچے بھی محفو ظ نہیں رہے جنہیں والدین کے سامنے بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ جن کی تعداد ہز اروں میں ہے۔ امر یکہ کی عراق شا م افغا نستان میں مسلسل بمباری سے ان مما لک میں 30 فیصد سے زائد بچے معذور پیدا ہو رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحد ہ کا عا لمی ادارہ بر ائے اطفا ل یو نیسف  بچوں کے حقوق کی پامالی کے صرف انکشافات کرنے کی بجائے عملی اقدامات  بھی کرے