صحافتی آزادی اور ذمہ داریاں


3مئی کو دنیا بھر میں صحافتی آزادی کا دن منایا جا تا ہے۔ پاکستان میں بھی صحافتی تنظمیں جلوس نکالتی اور سیمینار منعقد کرتی ہیں۔  صحافی راہنما اپنی جدو جہد اور حقوق کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ پاکستان میں صحافتی آزادی کی جدو جہد ہماری تاریخ کا اہم باب ہے۔  صحافتی راہنماؤں اور کارکنوں نے قربانیاں دیں آج کل پاکستان میں بظاہرصحافتی آزادیاں موجود ہیں۔
 ملک میں لا تعداد اخبارات و رسائل شائع ہو رہے ہیں۔ کئی نجی چینلز قائم ہو گئے ہیں جن پر چوبیس گھنٹے مختلف پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔  اخبارات میں خبروں کے علاوہ کالم نگاروں کے تجزیے موجود ہوتے ہیں۔ ماضی میں پاکستان میں صحافتی آزادی کا کوئی تصور نہیں تھا کیونکہ آمرانہ حکومتوں نے اظہار رائے پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔صدر ایوب خان کے عہد میں انسانی اور جمہوری حقوق کا مطالبہ کرنے والے اخبارات اور صحافیوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی تھیں۔  کبھی انہیں ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑتا تھا تو کبھی انہیں جیل میں ڈال دیا جاتا تھا۔ اخبارات سنسر ہوتے تھے اور کسی کو بھی حکومتی موقف کے برعکس  خبر شائع کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
 اس وقت ریڈیو سرکاری تحویل میں تھا جبکہ بعد میں قائم ہونے والے ٹیلی ویژن پر بھی حکومتی پالیسیوں کے بارے میں پراپیگنڈا کیا جاتا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی صحافیوں کیلئے حالات خوشگوار نہیں تھے۔ اخبارات میں حکومت مخالف خبروں کی اشاعت کی اجازت نہیں تھی بلکہ ان کو سنسر کر دیا جاتا تھا۔ یہ دور صحافتی اعتبار سے دائیں بازو کی بالا دستی کا تھا جہاں پر جنرل ضیاء الحق کے حامی میڈیا اینکرز اور کالموں کو لکھنے کی آزادی تھی جبکہ جمہوریت اور ترقی پسندی اور شعور کی باتیں کرنے والوں پر پابندیاں عائد تھیں۔ اس دور میں صحافیوں نے شہری آزادیوں اور جمہوری حقوق کیلئے بے پناہ جدو جہد کی اور کئی کو ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ ملک میں صحافتی آزادی اور انسانی حقوق کی جدو جہد کرنے والوں میں نثار عثمانی، منہاج برنا، حسین نقی، آئی اے رحمان اور دیگر کے نام نمایاں ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے حکمرانوں کے استحصالی ظالمانہ رویوں کے خلاف  تحریری احتجاج ریکارڈ کرایا۔
 اس دور میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم فیڈرل یونین آف جرنلسٹ تھی جس میں بیشتر صحافی شامل تھے اور انہوں نے مقدور بھر جدو جہد میں حصہ لیا۔  اس وقت صحافیوں میں اتحاد تھا۔ وہ اتحاد نظریاتی بنیادوں پر تھا جس میں ترقی پسندسوچ کو پروموٹ کرنا اور صحافی کارکنوں کے حقوق کیلئے جدو جہد کرنا  شامل تھا۔صدر مشرف کے عہد میں بھی سنسر کا سلسلہ جاری رہا اور اخبارات کے کئی کالم خالی رہتے تھے۔جہاں پر سٹاپ پریس لکھا جاتا تھا جس کا مقصد تھا یہاں چھپنے والی خبر حکمرانوں کو پسند نہیں ہے۔
 انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کی وجہ سے صدر مشرف کو پاکستان میں نجی چینلز قائم کرنے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے لا تعداد نجی ٹی وی چینلز وجود میں آئے۔  جو آج بھی موجود ہیں بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔  ان نجی چینلز کے مالک وہ سرمایہ دار ہیں جن کا بنیادی طور پر صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ انہوں نے اپنے دیگر کاروبارکے تحفظ کیلئے یہ کاروباری ادارے قائم کیے ہیں لہذا وہاں پر وہی پروگرام نشر ہوتے ہیں جن کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور خریدار موجود ہوتے ہیں۔ ان پروگراموں میں کارپوریٹ سیکٹر کی طرف سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روز گاری اور غربت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جاتی۔ بلکہ اس کا ذمہ دار سسٹم کو ٹھہرانے کی بجائے سیاسی جماعتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہمیں آج پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کارپوریٹ سیکٹر اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے چھائے ہوتے دکھائی دیتے ہیں جو کہ نظام کی تبدیلی اور عوام کے حقوق کے بارے میں کچھ بات نہیں کرتے۔  نہ یہ بتاتے ہیں کس طرح میڈیا مالکان اپنے کارندوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ ان کو مہینوں تنخواہیں نہیں دی جاتیں اور جبری طور پر نوکریوں سے نکال دیا جاتا ہے۔ آج صحافی تنظیموں میں بھی ان میڈیا مالکان کے نمائندے شامل ہیں جو کہ اس تحریک کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے آج صحافی مختلف تنظیموں میں تقسیم ہیں اور ان میں جدو جہد کے حوالے سے نظریاتی تفریق ختم ہو چکی ہے۔
صحافی آزادیوں کو بعض ملکوں کے لیڈر  بھء متاثر کررہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی سب سے بڑی مثال ہے جو کہ اپنے بے پناہ اختیارات کی وجہ سے امریکہ کے صحافتی اداروں کی کارکردگی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔کبھی وہ وشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز کو دھمکیاں دیتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ ادارے حکومت کی پالیسیوں کو پروموٹ کریں۔ حال ہی میں وکی لیکس کے سربراہ جولین اسانج  معلومات لیک کرنے کے جرم میں پکڑا گیا ہے۔  بعض ممالک جہاں پر آمرانہ حکومتیں قائم ہیں وہاں پر بھی  اظہار رائے کی پابندیاں ہیں۔ صحافیوں کو دنیا کے مختلف ممالک میں نان اسٹیٹ ایکٹر ز،  مسلح گروہوں،  ڈرگ مافیا اور مختلف گینگنز کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا ہے۔
 پاکستان میں ماضی قریب میں ایم کیو ایم کے سابق سربراہ الطاف حسین کی تقریر کے دوران گھنٹوں پورے ملک میں دیگر نشریات روک کر اس کی تقریر نشر کی جاتی تھی۔ کراچی میں کام کرنے والا کوئی نجی چینل ان کے خلاف کوئی پروگرام نشر نہیں کر سکتا تھا۔ یہی صورتحال سابق دور میں نان اسٹیٹ ایکٹرز، مذہبی مسلح گروہوں کے بارے میں ہے جن کا بیانیہ چینلوں پر پیش کرنا ضروری تھا۔ پاکستان، نائجیریا، افغانستان، ہندوستان، شام، میکسکو میں آزادی پریس کیلئے دھمکیاں اور خطرات موجود ہیں۔ صحافیوں سے ذمہ داریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے جبکہ ان کے حقوق کے بارے میں کچھ نہیں کیا جاتا۔ آج میڈیا اپنے مفادات کی وجہ سے عوام مخالف رویوں کی مذمت نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک تعلیم اور صحت کوئی ایشو نہیں ہے، نہ ہی وہ معیشت کے بگاڑ اور استحصالی پالیسیوں کے بارے میں کچھ کہتا ہے۔  وہ پروگرام اور تجزیوں میں ایسے تجزیہ نگاروں اور قلم کاروں کو دعوت دیتا ہے جو کہ ملک میں استحصالی نظام کے بارے میں کچھ نہ کہیں۔
 آج پاکستان میں لا تعداد صحافی اور الیکٹرانک میڈیا کے ورکرز بے روز گار ہو چکے ہیں، صحافیوں کیلئے ویج ایوارڈ کا اعلان کئی سالوں سے نہیں کیا  گیا۔  چھوٹے شہروں میں صحافیوں کے مسائل اور بھی  سنگین ہیں کیونکہ انہیں اخبارات کی طرف سے کوئی تنخواہ نہیں دی جاتی۔ جبکہ ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے کہا جاتا ہے۔  وہ اپنا پیٹ پالنے کیلئے اشتہارات کے علاوہ دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
 پاکستان میں آزادی صحافت کی بنیادوں کو اسی وقت مضبوط کیا جا سکتا ہے جبکہ صحافیوں کیلئے معقول روز گار دستیاب ہو جس سے وہ اپنی آزادی کے ساتھ دیانتدارانہ صحافی کردار ادا کر سکیں اور  درست خبر عوام کے سامنے  پیش کر سکیں۔