خوش گمان وزیر اعظم اپوزیشن کی بد کلامی سے نالاں ہیں
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 03 / مئ / 2019
- 6070
چند گنے چنے سینئر صحافیوں سے ایک ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’اپوزیشن کی غیر مہذب زبان کی وجہ سے انہیں قومی اسمبلی میں بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ پارلیمنٹ میں جو ہوتا ہے میں اسے سمجھنے سے قاصر ہوں۔ گزشتہ آٹھ ماہ میں وہاں سوائے تنازعہ کے کچھ نہیں ہؤا‘۔ سوچنا چاہئے کہ ملک کے وزیر اعظم پارلیمنٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کررہے ہیں، موجودہ پارلیمانی نظام کے خلاف جاری مباحث کو تقویت دینا چاہتے ہیں یا وہ امور حکومت سے اپنی لاعلمی اور ان میں ناکام ہونے کا اعلان کررہے ہیں۔
عمران خان کو خوش کلام سیاست دان کی شہرت حاصل نہیں ہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے لکھ کر تقریر کرنے یا بیان دینے کی تمام تجاویز کو مسترد کردیا ہے کیوں کہ وہ خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے براہ راست میڈیا یا عوام سے مخاطب ہونے کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی سے امور سیاست، عالمی تاریخ کے علاوہ قومی معاملات پر ان کی معلومات ناقص نوعیت کی ہیں۔ خاص طور سے اس کا اظہار ان کے حالیہ دورہ ایران کے دوران بھی ہؤا تھا جہاں انہوں نے جاپان اور جرمنی کو ہمسایہ ملک قرار دے کر ان کی دشمنی اور پھر تعاون کی داستان بیان کی اور پاکستان کے سرکاری مؤقف سے برعکس ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ ماضی میں پاکستان سے شر پسند عناصر ایران میں ہونے والی تخریب کاری میں ملوث رہے ہیں۔ ’ زبان لڑکھڑا جانے کے باعث‘ ان فاش غلطیوں کے بعد وہ اگلے ہی روز ایک جلسہ سے خطاب کرنے وانا پہنچے اور بلاول بھٹو زرادری کی جانے والی نکتہ چینی کا جواب دینے کے لئے انہوں نے بلاول کے لئے ’صاحبہ‘ کا لاحقہ استعمال کیا۔ اس رویہ پر ملک کے تجزیہ نگاروں کے علاوہ صنفی مساوات کی جدوجہد کرنے والی خواتین نے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا اور عمران خان کے ساتھی اس ’بد کلامی ‘ کے لئے کوئی دلیل دینے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔
وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دوست دشمن سب نے یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ ’اپوزیشن موڈ‘ سے نکل آئیں اور خود کو اب تک دھرنا کے کنٹینر کا مقرر نہ سمجھیں ۔ اب وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذمہ دارانہ طریقہ سے معاملات پر اظہار خیال کریں اور اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ غیر ضروری کج بحثی میں ملوث نہ ہوں۔ لیکن عمران خان بدستور اس مشورہ کو ماننے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ ان کے دست راست اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر جن کی کابینہ میں واپسی کی نوید بھی وزیر اعظم نے دی ہے، دیگر ناکامیوں کے علاوہ معاشی امور پر غلط بیانی کرنے، اعداد و شمار کو غلط انداز میں پیش کرنے اور وزیر خزانہ بننے کے باوجود سیاسی تقریریں کرنے کے شوق کی وجہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوئے تھے۔ خاص طور سے آئی ایم ایف کے بارے میں ان کا لب و لہجہ اور تبصرے اب ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ یہ بات عمران خان زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ آئی ایم ایف کے حوالے سے سیاسی بیان بازی سے موجودہ حکومت کو اس عالمی مالیاتی فنڈ سے معاملات کرنے میں کتنی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حیرت ہے کہ قومی اسمبلی میں اکثریت کے لئے ہر ’غیر اخلاقی‘ ہتھکنڈا اختیار کرنے، انتخاب میں کامیابی کے لئے ملکی سیاست کے ہر بداخلاق سے مصافحہ و معانقہ کرنے والا لیڈر، اب قومی اسمبلی کے ماحول اور وہاں استعمال کی جانے والی زبان کو غیر مہذب اور ناقابل برداشت قرار دے رہا ہے۔ اب اسے گلہ ہے کہ اپوزیشن کی وجہ سے گزشتہ آٹھ ماہ میں پارلیمنٹ تنازعات کا شکار رہی ہے۔ یعنی کوئی کام نہیں ہو سکا۔ دوسروں پر حرف زنی سے پہلے وزیر اعظم اگرگزشتہ ایک برس کے دوران کی جانے والی اپنی ہی تقریریں سن لیں تو انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ پارلیمنٹ کا ماحول تو اس تندی و تیزی سے کہیں زیادہ پاکیزہ ہے جو عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کے لئے اختیار کیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اب بھی اسی لب و لہجہ، زبان اور اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ان کے سابقہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری، معتمد خاص شیخ رشید اور وزیر آبی وسائل فیصل واؤڈا جس قسم کی گفتگو کرتے ہیں ، اس کے لئے تو عمران خان کو قومی اسمبلی جانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ کسی بھی وقت کوئی بھی ٹیلی ویژن اسٹیشن لگا کر دیکھ لیں ، انہیں ان نونہالوں کی ’ خوش کلامی ‘ کے نمونے دکھائی دے جائیں گے۔ یا پھر یو ٹیوب پر ان میں سے کسی بھی ساتھی کے نام سے دلچسپ بلکہ عبرت ناک گفتگو کے مظاہر مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں۔
پاکستان کی قومی اسمبلی میں ہونے والی گفتگو، ارکان پارلیمنٹ کی پارلیمانی امور کے بارے میں غیر سنجیدگی اور اس پلیٹ فارم کو مثبت انداز میں قومی معاملات کے لئے استعمال کرنے میں ناکامی کی دلیل دینا مقصود نہیں ہے۔ لیکن عمران خان نے جس انداز میں پارلیمنٹ کو ایک ایسا پلیٹ فارم قرار دینے کی کوشش کی ہے جہاں بیٹھنا عمران خان جیسے شخص کے لئے مشکل ہوتا ہے، اس سے اپوزیشن کے رویہ اور ان کے طرز تکلم سے زیادہ اس اہم قومی ادارے کی بے توقیری کا گمان ہوتا ہے۔ عمران خان اسی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا ووٹ لے کر وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ 22 برس کی مسلسل جد و جہد کے بعد یہ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ اب وہ اس عہدہ اور پارلیمنٹ میں ملنے والی اکثریت کو نیا پاکستان بنانے اور قومی تعمیر نو کے مقصد کے لئے استعمال کریں گے۔ اس لئے انہیں اپوزیشن کی ناجائز گفتگو پر انگلی اٹھانے سے پہلے یہ جواب دینا چاہئے کہ ان کی پارٹی اور حکومت نے قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم کو کیسے اور کس حد تک یہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔
وزیر اعظم سرکاری بلوں کی منظوری کے لئے اپوزیشن کی غیر مشروط حمایت کی خواہش رکھتے ہیں لیکن حکمران پارٹی اہم قومی امور کو مباحث کے لئے قومی اسمبلی میں اٹھانے اور قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے استعمال کرنے سے گریز کرتی ہے۔ اپوزیشن کو کسی بھی پارلیمانی نظام میں اہمیت حاصل ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مقصد نہیں ہو سکتا کہ وزیر اعظم یا اکثریتی پارٹی اپنے فرائض سے سبکدوش ہو چکی ہے اور اب اپوزیشن کو کسی تابعدار کی طرح حکومت کی ہر تجویز پر سر دھننے یا اس کے ہر اقدام پر قصیدے پڑھنے کا کام کرنا چاہئے۔ پارلیمانی نظام ، اپوزیشن کے ہنگامے و اعتراضات اور حکومت کی اعلی کارکردگی کی بنیاد پر ہی آگے بڑھتا ہے۔ حکومت اگر قانون سازی، انتظامی کارکردگی اور معاملات کی ترتیب میں سلیقہ شعاری، ہنر مندی اور استعداد کا مظاہرہ کرے تو انتہائی سرکش اپوزیشن کو بھی سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر کوئی وزیر اعظم اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی اور نظام پر عدام اعتماد کے اظہار کے لئے قومی اسمبلی کے ماحول کو ناقص قرار دیتا ہے تو اس کی نیک نیتی مشکو ک ہوسکتی ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران تحریک انصاف کے حامیوں کی سرپرستی میں صدارتی نظام کی بحث کو عام کیا گیا ہے۔ ان مباحث کے تناظر میں عمران خان کی طرف سے قومی اسمبلی سے رنجیدہ خاطر ہونے کی بات کو پارلیمانی نظام سے بدگمانی کا اشارہ سمجھا جاسکتا ہے۔ عمران خان پر واجب ہے کہ وہ اپنے مؤقف کی وضاحت کریں اور اگر ان سے اس حوالے سے بات کرنے میں کوئی چوک ہوگئی ہے تو اس سے رجوع کرلیں ۔ کیوں کہ ملک کے وزیر اعظم سے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے اور اسے وقار دینے کی توقع کی جاتی ہے۔ اس سے یہ امید نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے ذاتی اقتدار و اختیار کے لئے ملک کے اہم ترین آئینی ادارے کو کمزور کرنے کا ارادہ ظاہر کرے گا۔
عمران خان کو باور کرنا ہوگا کہ انہوں نے ملک کے مروجہ آئین کے تحت وزیر اعظم بننے کی کوشش کی اور کامیاب رہے۔ وہ اس آئینی ڈھانچے کی حفاظت کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اگر قومی اسمبلی کا ماحول خراب ہے اور اپوزیشن تعاون نہیں کرتی تو انہیں الزام تراشی یا آئینی ادارے کو بے توقیر کرنے کی بجائے اپنے طرز عمل کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا چاہئے تاکہ پارلیمانی معاملات مناسب طریقے سے انجام پاسکیں۔