سفر در سفر ۔ 4 ۔ حرف و صوت کا شہر لاہور

ریلوے روڈ ، فلیمنگ روڈ اور چوک گوالمنڈی طے کر کے نسبت روڈ والے چوراہے تک پیدل سفر کوہ پیمائی جیسا دشوار تھا ۔ ہر سمت سے آتی موٹر بائیکوں ، چنگچیوں اور کاروں کے درمیان ہوش کے ناخُن لے کر چلنا ایک بازی گری کا کرتب لگا اور ٹریفک کے دھوئیں میں ملفوف ماحول میں گوالمنڈی کے پُرانے خد و خال کو ذہن میں تصویر کرنا مشکل تھا چنانچہ اس گھڑی عافیت کی فقط ایک ہی صورت نظر آئی کہ  لنچ کے لیے گھر چلا جائے ۔

 لنچ ہو ، ناشتہ ہو ، ڈنر ہو یا بے وقت کے کھانے کا ہنگام ، لاہور والے اپنے تکلف ، رکھ رکھاؤ اور رنگ برنگے خوانوں اور پکوانوں کےاہتمام کو ناگزیر سمجھتے ہیں لیکن تیز مسالے مجھے اپنائیت کا احساس نہیں دلاتے ، اس لیے میں گھاس پھونس یعنی سلاد کھا کر خوش رہنے کی جگالی کو ترجیح دیتا ہوں ۔ سلاد کا انگریزی تلفظ سیلڈ اب پاکستان کی نئی نسل کو از بر ہے مگر وہ یہ احتیاط لازم نہیں سمجھتے کہ کچی سلاد اگر یوریا کھادوں کے سفوف پر پلی ہو تو الرجی کا باعث بنتی ہے۔ تاہم ان ساری باتوں کو نظر انداز کر کے میزبانوں کی خوشی کو مقدم جاننا پڑتا ہے اور ہر وہ چیز کھانی پڑتی ہے جو کھانے والے کے مسلک میں جائز نہیں بھی  ہوتی ۔

اِس دعوتِ شیراز کے گلچھرے اُڑا کر طے ہوا کہ  ریاض صحافی صاحب کی قیادت میں ٹی ہاؤس کے بجائے الحمراء کے ایوانِ فنون کا رُخ کیا جائے جہاں ہر روز ادبی و ثقافتی سبھائیں جمتی ہیں ۔ اگرچہ اُس وقت گرم اور لمبے دن کی سست روی  بوریت کا سبب بن رہی تھی ، مگر ہم ٹریفک کے چنگچی سے چنگچی چھلنے کے پُر شور ماحول میں ، مال کے درختوں کو کورنش بجالاتے برادرِ خورد زاہد راٹھور اور یارِ صحافت مآب ریاض صحافی کی نگاہِ کرم کا لطف اٹھاتے الحمرا کے دوار جا اُترے ۔ داخلی دروازے پر سیکورٹی کے مراحل سے گزر کر داخلِ الحمراء ہوئے تو ادھر ادھر بکھری کئی  عمارتوں کا کمپلیکس ایک نئے رنگ کی نوید دے رہا تھا جو چالیس برس پہلے سے بے حد مختلف تھا ۔بہت سے سیاسی اور ادبی ستاروں کے مجسمے نصب تھے جو الحمراء کو ثقافتی کعبہ بنانے کے لیے کافی تھے ۔ علاوہ ازیں بہت سے آزرِ ا قتدار  کے تراشے دیوتاؤں کے ناموں کی تختیاں نصب تھیں جنہوں نے الحمراء میں تعمیر کی گئی عمارتوں کو اپنے لیے وجہِ عظمت سمجھا تھا کہ وہ ان تختیوں کے ذریعے ادب و فن کے بقائے دوام کے دربار میں بٹھائے جائیں گے خواہ ادب و دانش اُن کو نظر انداز ہی کیوں نہ کر دیں ۔

الحمراء کی ان عمارتوں کے برآمدوں ، دالانوں ، قہوہ خانوں اورایوانوں میں گہما گہمی تھی ۔ ہر عمر کے ادیب ، شاعر ، فن کار ، اداکار اور صدا کار ادھر ادھر آ جا رہے تھے ۔ کچھ چبوتروں اور شعرا نشینوں پر محفلیں جمی تھیں ۔ ایک چبوترے پر پڑی کرسیوں میں سے ایک پر پہلو میں چھڑی رکھےمسعود اختر دکھائی دیے جو کبھی لاہور ریڈیو سٹیشن کی راہداریوں میں چوکڑیاں بھرتے نظر آتے تھے ۔ اگرچہ مسعود اختر کے سراپے میں عمر رسیدگی کے آثار تھے لیکن چہرا بدستور تازہ بلکہ تابناک تھا ۔ وہیں بیٹھے معلوم ہوا کہ کسی آڈیڑوریم میں جناب کنول فیروز کی سالگرہ کی تقریب برپا ہے ۔ واہ ، سبحان اللہ ، صحرا میں ٹھنڈے پانی کے چشمے کی نوید ۔

عجلت میں اُس ایوان کو جا ڈھونڈا جہاں شاعر کی سالگرہ کا جشن منایا جا رہا تھا ۔ تقریب کے دولہا ، اُس کے شہ بالوں اور  مہمانوں کے لیے مخصوص نشست پر شاعرِ خوش نوا کنول فیروز رونق افروز تھے جن کے پہلو میں علامہ اجمل نیازی مد ظلہ العالی متمکن تھے ۔ اجمل نیاز ی صاحب نے جب سے عبد الستار نیازی کی شریعت کو اپنایا ہے ، اور اُن کی تقلید میں شلوار کرتا ، صدری اور مشہدی پگڑی کو بطور وردی اختیار کیا ہے تب سے وہ مجھے اپنے زمانہ ء طالب علمی کے میر انیس کی مونچھوں اور بالوں کے سٹائل والے روپ میں زیادہ شدت سے دکھائی دیتے ہیں ۔ اور ویسے اپنے حالیہ گیٹ اپ میں   تو شاعر  وہ بالکل بھی نہیں لگتے بلکہ کسی جامع مسجد کے خطیب یا قبائلی مشران کے ہم زلف لگتے ہیں ۔ لیکن مجھے کیا :

بہر رنگے کہ خواہی ، جامہ می پوش

من اندازِ قدت را می شناسم

اس اجتماع میں مجھے مزید شناسا چہروں کی تلاش تھی کہ اچانک یارِ یارانِ نقشبند حضرت عاشق جعفری دکھائی دیے جو ناروے کے پردیس میں ہر روز میرے ساتھ ہوتے ہیں اور اپنے زر و جواہر اور قلم قتلوں سے مجھے سرشار کرتے رہتے ہیں اور اُن کی کرمفرمائی سے میں ہمیشہ خود کو لاہور میں محسوس کرتا ہوں ۔ اُن کے ہمراہ اُن کی دانشمند بیگم صاحبہ بھی تھیں  ۔ میں حال میں بچھی کرسیوں کے درمیان چلتا ، تقریب کے دولہا کو سلام کہنے اور آداب بجا لانے کے لیے سٹیج کے قریب پہنچا تو میرے لیے راستہ بنتا گیا اور اگلے لمحے میں بہ نفسِ غریب ،  اجمل نیازی کے پہلو میں سٹیج پربیٹھا تھا ۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ سب کیسے ہوگیا مگر ہو ہی گیا ۔ مقررین کی تقریریں جاری تھیں ۔ کنول فیروز صاحب کو خراج پیش کیا جا رہا تھا کہ اچانک میرا نام پکارا گیا کہ میں بھی کنول فیروز صاحب کو دوستی کے پھول پیش کروں ۔

ایسے مراحل میرے لیے بہت سخت ہوتے ہیں جب کسی دوست کے مونہہ پر اُس کے محاسن بیان کرنے پڑیں مگر کنول فیروز میرے لیے اجنبی نہیں ہیں ۔ ہم نے برسوں اس شہر میں ادبی محفلوں ، پروگراموں اور مشاعروں میں اکٹھے شرکت کی ہے ۔ادبی جریدوں میں ایک ساتھ چھپے ہیں اس لیے کنول فیروز صاحب کو حرفِ تہنیت پیش کرتے ہوئے مجھے بڑی فرحت اور طمانیت محسوس ہوئی ۔ کنول فیروز کی ادبی زندگی بھی نصف صدی کا قصّہ ہے اور انہوں نے جس خلوص سے ادب سے اپنا رشتہ نبھایا ہے وہ زبان اور بیان سے اُن کی لگن کا واضح ثبوت ہے ۔

پروگرام ختم ہوا تو اہلِ محفل گھوم پھر کر ایک دوسرے سے رابطہ کرنے لگے ۔ گویا انفرادی کمیونی کیشن شروع ہو گئی تھی ۔ اچانک چاند چمکا اور عاشق جعٖفری صاحب سے عید ملنے کا مرحلہ طے ہوا ۔ اں کے ہمراہ ان کی بیگم بھی تھیں ، جن سے ملاقات ایک عالم او رمحقق سے ملاقات تھی ۔ اور میں تا دیر سلوک کی منازل کو طے ہوتے اور تصوف کے اسرار کھلتے دیکھتا رہا ۔ تسلیم و تپاک کے تبادلے کے بعد تصوف کی کتب اور خواجہ بہاالدین نقشبندی کا ذکر شروع ہوا ۔ چونکہ میرا اور جعفری صاحب کا تصوف کا سکول ایک ہی ہے ، اس لیے اُن سے مل کر پیر بھائی ہونے کا احساس ہوا ۔ ارادہ تو یہ تھا کہ لاہور میں قیام کے دوران اُن سے دوبارہ ملاقات ہو مگر ایسا ممکن نہ ہوا جس کا مجھے افسوس ہے ۔ مجھے چنیوٹ اور اسلام آباد جانا تھا ۔ چنانچہ حواس پر اس خوبصورت محفل کے گہرے تاثرات لیے ہم گوالمنڈی چل دیے جہاں سے مجھے اپنی خواہرِ نسبتی کے یہاں جوہر ٹاؤن جانا تھا ۔

انگریزوں نے تو اپنے عہد میں لاہور میں صرف ٹاؤن ہال ہی تعمیر کیا تھا جس کی دیکھا دیکھی ماڈل ٹاؤن بنا لیکن گورے صاحب کی اس سر زمین سے رُخصتی کے بعد ہم نے اُس کی روایتوں کو گلے لگایا اور  جگہ جگہ ٹاؤن آباد کر دیے ۔ چنانچہ اب قبال ٹاؤن سے لے کر ٹاؤن شپ تک اور فیصل ٹاؤن سے بحریہ ٹاؤن تک پورا لاہور ٹاؤنو ٹاؤن ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور ٹاؤن کے انگریزی آہنگ میں ہماری نئی تعمیری روایت ٹاؤں ٹاؤں کرتی  محسوس ہوتی ہے ۔

جوہر ٹاؤن کی طرف چلے تو سڑک کے بیچوں بیچ اگائے گئے درختوں پر تختیاں لگی نظر آئیں جن پر اسمائے الہی مرقوم تھے ۔ لگتا تھا ہر درخت تسبیح کر رہا ہے ۔ یا رحمٰن ، یا رحیم ، یا کریم ۔ محسوس ہوا کہ ہر درخت کو سرکاری طور پر ایک اسمِ الٰہی کا وظیفہ پڑھنے کا کام سونپا گیا ہے  حالانکہ درخت تو پہلے سے یسجدان کے حُکم میں  رہتے ہیں ۔ خطاطی کی اس نمائش کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی مگر پس منظر میں کسی نے سلطان باہو کی کافی کا الاپ شروع کردیا تھا کہ :

اُچّے کلمے سویو پڑھدے نیّت جہناندی کھوٹی ہو

تاہم حیرت ہوئی کہ جعلی اشیائے خورونوش ، جعلی ادویات ، مہنگائی اور لاقانونیت کو نظر انداز کر کے درخت بھی محوِ تسبیح و ذکر ہیں ۔ ( جاری ہے )