گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر فارغ کردیے گئے
- ہفتہ 04 / مئ / 2019
- 5760
حکومت نے گورنر اسٹیٹ بینک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین کو ان کے عہدوں سے برطرف کردیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں ان کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے کہا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے ایک روز قبل ہی اشارہ دیا تھا کہ آئندہ کچھ روز میں ان کی کابینہ میں مزید تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی جگہ حال ہی میں عہدہ سنبھالنے والے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس تبدیلی سے آئی ایم ایف مذاکرات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ مارکیٹ ہمارے اقدام کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی، انہیں مجموعی طور پر ہمارے اقدامات اور ہماری پالیسیوں کو دیکھنا ہے‘۔
یہ اب تک غیر واضح ہے کہ اتنے اہم افسران کی برطرفی آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر کس طرح اثر انداز ہوگی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے نئے عہدیدار کا اعلان ہفتے کے روز متوقع ہے لیکن چیئرمین ایف بی آر کے متبادل کے حوالے سے اب تک کوئی اطلاع نہیں۔
ان دونوں تبدیلیوں کو انتہائی غیر متوقع قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان جمعے کی رات وہ ملاقاتیں طے کررہے تھے جو انہیں ہفتے کے روز کرنا تھیں اور اسی دوران ان کی برطرفی کی خبر نیوز چیننلز پر آنے لگی۔ اسی طرح طارق باجوہ بھی آئی ایم ایف پروگرام کو حتمی شکل دینے سے قبل مذاکرات کے آخری دور میں شرکت کررہے تھے۔
واضح رہے کہ طارق باجوہ اور جہانزیب خان دونوں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں گریڈ 22 کے افسران ہیں۔ اس قبل اطلاعات تھیں کہ گورنر اسٹیٹ بینک کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ان کے عہدے سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔ ایف بی آر کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر سرِ عام اپنے بیانات میں اس کی کارکردگی پر ناراضگی کا اظہار کرچکے ہیں۔
ایف بی آر کو رواں مالی سال کے اختتام کے قریب اپنی تاریخ کے سب سے سنگین شارٹ فال کا سامنا ہے جو تقریباً 3 کھرب 50 ارب روپے سے زائد ہے۔ وزارت خزانہ میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے نزدیک چیئرمین ایف بی آر ایک اوسط صلاحیتوں کے حامل شخص ہیں اور ریونیو میں اس قدر خراب کارکردگی کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔
حال ہی میں تعینات ہونے والے مشیر خزانہ نے وزیراعظم کے خیالات سے اتفاق کیا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ملک کی معاشی صورتحال سنبھالنے کے لیے اپنی ٹیم لائیں گے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں، اور گورنر معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں سے ایک ہوتا ہے جبکہ چیئرمین ایف بی آر کو ریونیو کے حوالے سے اہداف دیے جاتے ہیں اس قسم کے کسی بھی پروگرام کا بنیادی جز ہے۔