پاکستان میں پولیو پھیلنے کا اندیشہ بڑھ گیا، متعدد علاقوں میں وائرس ملنے کا انکشاف
- ہفتہ 04 / مئ / 2019
- 6170
ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019 کے پہلے چار مہینوں میں ملک کے مختلف علاقوں سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں سے 49 فیصد میں پولیو کا وائرس پایا گیا۔ یہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے ملک بھر سے 210 ماحولیاتی نمونے لیے جن میں سے 102 میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔ ملک بھر سے ماحولیاتی نمونے ان علاقوں کے گندے نالوں سے لیے گئے کیونکہ پولیو وائرس گندے پانی اوراس میں موجود فضلے میں پروان چڑھتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے پہلے ہی قومی ایمرجنسی پلان19 -2018 کا آغاز کیا ہوا ہے جس کے تحت کو شش کی جا رہی ہے کہ ملک کے ہر بچے تک پولیو ویکسین پہنچے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اعداد وشمار کے مطابق اب تک ملک بھر سے پولیو کے 10کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے تین کا تعلق لاہور سے ہے۔
قومی ادارہ صحت نے 2 اور 3 مئی کو داتا گنج بخش ٹاؤن کی حفصہ اور علامہ اقبال ٹاؤن کے دس سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ رواں برس جن بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ان میں سے کراچی، باجوڑ، ہنگو، جنوبی وزیرستان اور کے پی کے سے ایک، ایک کیس جبکہ بنوں سے دو اور لاہور کے تین بچے اس وائرس کا شکار ہوئے۔
2014 میں 307 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے 5 کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔ پنجاب2016 اور 2018 میں پولیو فری رہا۔