سندھ کے شہر پڈعیدن میں پریس کلب پر حملہ، صحافی ہلاک

  • اتوار 05 / مئ / 2019
  • 4760

سندھ کے علاقے نوشہروفیروز میں پڈ عیدن پریس کلب پر ہونے والے حملے میں ایک صحافی ہلاک ہوگیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس نوشہروفیروز نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔  

مقتول صحافی سندھی روزنامے عوامی آواز سے وابستہ  تھے۔ وہ مقامی پریس کلب کے عہدیدار بھی تھے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر صحافی کے قتل کے محرکات کے حوالے سے معلومات نہیں مل سکیں۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ حملہ آور واقعے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا جسے بعد ازاں پولیس نے گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا بیان سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرلیا گیا ہے، جس میں ملزم نے بتایا کہ علی شیر نے انہیں خاندان کے ایک معاملے میں پریشان کیا تھا جس کی وجہ اسے قتل کیا۔ ملزم کو بینظیر آباد پولیس نے گرفتار کیا اور اس سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا۔

واضح’پاکستان پریس فاؤنڈیشن‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں 2002 سے لے کر اپریل 2019 تک صحافیوں کے قتل، تشدد، اغوا اور ہراساں کرنے کے 699 واقعات ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 18 برس میں 72 صحافیوں کو قتل کیا گیا جن میں سے 48 صحافی خالصتاً خبر دینے، معلومات دوسروں تک پہنچانے اور مسائل کی کوریج کے دوران قتل کیے گئے۔ جب کہ دیگر 24 صحافیوں کو بھی مختلف وجوہات کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔

صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے سب سے بدترین سال 2014 رہا۔ جس دوران ملک بھر میں 7 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔  2012 میں  6 صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، اسی طرح 2010 میں صحافیوں کے قتل کے 7 واقعات پیش آئے۔ پی پی ایف نے اسی عرصے کے دوران پاکستانی میڈیا پر سینسرشپ کے 130 واقعات کی بھی نشاندہی کی۔

اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2002 سے لے کر اب تک مختلف واقعات کے دوران ملک بھر میں 171 صحافیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا جب کہ اسی عرصے کے دوران 77 صحافیوں پر معمولی تشدد کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 18 سال میں 32 بار میڈیا ہاؤسز پر حملے کیے گئے جب کہ صحافیوں کے گھروں پر حملوں کے 11 واقعات بھی رونما ہوئے۔

پاکستان میں 2002 سے 2019 تک صحافیوں کو ہراساں کرنے کے 5 واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ صحافیوں پر ہتک عزت کے دعوے دائر کرنے کے 6 کیسز بھی رپورٹ کیے گئے اور اسی دوران 26 صحافیوں کو اغوا بھی کیا گیا۔