میشا شفیع کا کیس سننے والے جج پر جانبداری کا الزام
- اتوار 05 / مئ / 2019
- 7340
گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع نے علی ظفر کی درخواست پر ہتک عزت کی سماعت کرنے والے ایڈیشنل جج پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی۔
علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جھوٹے الزامات لگانے کے خلاف دائر کی گئی 100 کروڑ ہرجانے کے دعوے کی سماعت لاہور سیشن کورٹ کے ایڈیشنل جج شکیل احمد گزشتہ 6 ماہ کر رہے ہیں۔
اداکارہ نے ایڈیشنل جج شکیل احمد پر گواہوں کو جرح کے دوران معاونت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں جانبدار قرار دیا۔ میشا شفیع کے وکیل فرہاد علی شاہ نے سیشن کورٹ میں ایڈیشنل جج شکیل احمد کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے کیس کو دوسرے جج کو بھیجنے کی درخواست دائر کی ہے۔
جج کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں میشا شفیع کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہتک عزت کے دعوے پر سماعت کرنے والے جج جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ جرح کے دوران بھی جج نے گواہان کو جوابات دینے میں معاونت فراہم کی۔
گلوکارہ میشا شفیع نے درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ ایڈیشنل جج ان کے وکلا پر بلا وجہ برہم ہوئے اور ان پر 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ درخواست میں سیشن کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ ہتک عزت کیس کی سماعت دوسرے جج کے پاس منتقل کی جائے۔ درخواست دائر کرنے سے قبل ہتک عزت کیس کی سماعت ہوئی جس دوران میشا شفیع کے وکلا کے علاوہ علی ظفر کے وکلا بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
کیس کی سماعت ایڈیشنل جج شکیل احمد نے ہی کی۔ سماعت کے دوران ہی میشا شفیع کے وکلا نے بتایا کہ وہ کیس کو ٹرانسفر کروانا چاہتے ہیں۔ میشا شفیع کے وکلاء نے سماعت کے دوران بتایا کہ انہوں نے کیس ٹرانسفر کرنے کی درخواست عدالت میں جمع کرادی ہے اور ان کی درخواست پر سیشن جج 8 مئی کو سماعت کریں گے۔
میشا شفیع کے وکلا نے ایڈیشنل سیشن جج کو بتایا کہ وہ سیشن جج کی سماعت کے بعد ہی مزید سماعت چاہتے ہیں، اس لیے سیشن جج کی سماعت تک مہلت دی جائے۔ عدالت نے میشا شفیع کے وکلا کی درخواست قبول کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 مئی تک ملتوی کردی۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر جرح کے لیے مزید گواہان کو بھی طلب کرلیا۔ خیال رہے کہ میشا شفیع کے خلاف علی ظفر کی درخواست پر ہتک عزت کیس کی سماعت 14 ماہ سے چل رہی ہے۔
ابتدائی طور پر میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف اپریل 2018 میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے محتسب اعلیٰ میں کیس دائر کیا تھا۔ میشا شفیع کی درخواست محتسب اعلیٰ نے مسترد کردی، جس کے بعد علی ظفر نے ان کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے پر 100 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔ جس پر گزشتہ 14 ماہ سے سماعت ہورہی ہے۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 11 مئی کو ہوگی۔ لاہور ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کو کیس کا فیصلہ 3 ماہ کے اندر سنانے کا پابند کر رکھا ہے۔
خیال رہے کہ دونوں فنکاروں کے درمیان تنازع اپریل 2018 میں اس وقت سامنے آیا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ایک ٹوئٹ میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے انہیں ایسے وقت میں جنسی طور پر ہراساں کیا جب وہ 2 بچوں کی ماں اور معروف گلوکار بھی بن چکی تھیں۔ علی ظفر نے ان کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف سازش قرار دیا تھا۔
بعد ازاں میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف جنسی ہراساں کرنے کی محتسب اعلیٰ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔ دونوں کا یہی کیس لاہور کی سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے اور لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کو تین ماہ کے اندر گواہوں پر جرح کے بعد فیصلہ سنانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔
چند دن قبل سماعت میں پیش ہونے کے بعد علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ میشا شفیع نے انہیں منظم منصوبہ بندی کے تحت ٹارگٹ کیا۔
علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر منظم منصوبہ بندی کے الزامات لگائے جانے کے بعد گلوکارہ نے علی ظفر کو دو سو کروڑ ہرجانہ کا نوٹس بھجواتے ہوئے 15 دن کے اندر معافی مانگنےکا مطالبہ کیا تھا۔
علاوہ ازیں میشا شفیع نے گواہوں سے جرح کے معاملے پر سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی ہوئی ہے جس کی سماعت عدالت عظمیٰ میں 9 مئی کو ہوگی۔