سفر در سفر ۔ 5 ۔ فیس بُک کی تصویروں کا کھیل

بہت سے پُرانے اور نئے دوستوں سے تعلق اور رسم و راہ کا ذریعہ اب فیس بُک اور وٹس ایپ ہے ۔ اِن ذرائع سے ہونے والی نصف بلکہ پون ملاقاتیں مکالماتی بھی ہوتی ہیں اور تصویری بھی ۔ یورپ کے آخری کنارے پر بیٹھ کر پاکستان کے کسی بھی شہر میں دوستوں سے مصور بات چیت اب روز کا معمول ہے۔

خط و کتابت اور نامہ بری کا میر و غالب کا  افسانوی دور بیت چکا ۔ اب ایک  برقی برکات سے مزین ایک نئی دنیا ہے جن کی سہولتوں سے شاعرِ مشرق اقبال اور بانی  پاکستان حضرتِ قائد اعظم بھی استفادہ نہ فرما سکے ۔ یہ تو اچھا ہی ہوا ورنہ جانے اس عہد کے اوچھے ہتھکنڈوں سے لیس سیاسی مبصروں اور تیرہ باطن  ادبی نقادوں کے دہن سے اُنہیں کیا کیا سُننا اور  اُن کے ہاتھوں سے کیا کیا سہنا پڑتا ۔ اور وہ بھی ایسوں ویسوں کی نامہربانیوں سے جن کا نام تین اور تیرہ کے محاورے میں بھی موجود نہیں ۔ لیکن بے لگام مونہہ کو ڈھینچوں بازی سے کون روک سکتا ہے اور اِس عہد میں جب کہ اظہار کی آزادی ( بعض استثناؤں کے ساتھ ) گٹر کے اُبلتے اور اُچھلتے پانیوں کی طرح یوں بے قابو ہے کہ موقع ہو نہ ہو یہ نجاست بہنے لگتی ہے ۔ لیکن صاحب ! سیانے کہہ گئے ہیں کہ : " از کوزہ ہمی بیروں تراود کہ در اوست " ۔ برتن سے وہی برآمد ہوتا ہے جو اُس میں ہوتا ہے ۔

فیس بُک کے میرے ان دوستوں میں سے ایک ڈاکٹر مسعود انور ہیں جو اردو ادب کے دبستانِ سرگودھا کے نامور محقق ، انشا پرداز اور نقاد ڈاکٹر انور سدید مرحوم کے صاحبزادے ہیں اور فیس بُک پر گریڈ 22 کے افسر ہیں اور اُن کا مشغلہ بیویوں کے محاسن بیان کرنا اور شادی شدہ خواتین کو دنیا کی بہترین سماجی مخلوق ثابت کرنا ہے جس میں وہ بہت کامیاب ہیں ، جس کی وجہ سے میں اُن کا مداح ہوں ۔ خُلد آشیانی ڈاکٹر انور سدید  سےاپنی دوستی اور ادبی رفاقت کو حوالہ بناؤں تو عزیزی ڈاکٹر  مسعود انور میرے بھتیجے ہوتے ہیں اور وہ بھی ازراہِ تفنن مجھے چچا بنا کر دھمال ڈالتے رہتے ہیں ۔

 فیس بُک کے توسط سے میرے دوستوں کو میری آمد کی خبر ہو گئی تھی اور جوہر ٹاؤن میں ڈاکٹر مسعود انور کی قیام گاہ میری مہمان سرا سے زیادہ دور نہیں تھی ، چنانچہ طے پایا کہ دن کے اگلے پہر مجھے سے ملنے تشریف لائیں گے اور جب وہ تشریف لائے تو تنہا نہیں تھے ، ایک گواہ ساتھ لائے تھے اور وہ تھے میرے یارِ سُخن طراز اردو اور پنجابی کے پہلوانِ سُخن  اقتدار جاوید ۔ ڈیل ڈول سے وہ  مجھےجدید دور کے امام بخش ناسخ لگتے ہیں لیکن اُن کے رکھ رکھاؤ اور نفاستِ طبع سے مذاقِ اودھ کی مہک آتی ہے ۔ وہ میرے لیے اپنی تین کتابوں کی سوغات بھی ساتھ لائے تھے جن پر آٹوگراف بھی ثبت تھے ۔ ان کتابوں  کو دیکھ کر  دل باغِ جناح سے گلستانِ فاطمہ  ہوتا چلا گیا ۔ دوستوں کی نوازش مجھے مسحور کر گئی تھی ۔

 اُن کے تشریف لانے سے پہلے میں حضرت ظفر  اقبال کو فون کرچکا تھا کہ آپ کا ایک دیرینہ نیاز مند ناروے سے آیا ہے اور حاضرِ خدمت ہونا چاہتا ہے ۔ تِس پر ظفر اقبال صاحب نے فرمایا کہ وہ بہت دور بیدیاں کے علاقے میں اپنے بیٹے آفتاب کے فارم ہاؤس پر مقیم ہیں ۔ اقتدار جاوید سے کہنا کہ وہ تمہیں لے آئے مگر اقتدار جاوید نے اپنی نجی مصروفیاں کی بنا پر معذرت کر لی اور میں نے توکل الی اللہ اس بات پر اکتفا کر لیا کہ اگر کاتبِ تقدیر نے ملاقات مقدر کی کتاب میں درج کر رکھی ہے تو ہو جائے گی اور اگر نہیں تو راضی برضا رہنا میرا مسلک ہے ۔ چنانچہ ظفر اقبال صاحب سے رابطہ  ایک فون کال تک ہی محدود رہا ۔

ان دنوں شہر  میں ظفر اقبال کو ملنے والے ایک ادبی ایوارڈ کا چرچا بہت تھا ۔ کچھ لوگوں سے سنا کہ ظفر اقبال صاحب کو یہ ایوارڈ نہیں لینا چاہیے تھا ۔مگر کیوں ، میں نے سوال کیا ۔ میرا موقف تھا کہ اگر ایوارڈ کے ساتھ ایک لاکھ روپے کی رقم بھی ہو تو اُس زرِ نقد کو ٹھُکرا کر لکشمی دیوی کی بے حُرمتی کفر ہے ۔ اور پھر شاعروں کو کتابوں ، بوڑھوں کو لاٹھی اور وٹامن اور بیماروں کو ادویات کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر پنجابی کہاوت ہے کہ :

جے سرکاروں تیل ملے تاں جُتی وچ پا لوو" ۔"

ایوارڈ کے ساتھ کسی بھی قسم کی سرکار سے  جو رقم ملتی ہے اُس قبول نہ کرنا کفرانِ نعمت ہے ۔

ڈاکٹر مسعود انور اور اقتدار جاوید کے ساتھ خوش گپیوں میں وقت اتنی تیزی سے بیتا کہ گھڑی کی سوئیوں کے تو  ہوش ہی اُڑ گئے ۔ یہ میرے دوستوں کی ملاقات کا جادو تھا کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا ۔  اقتدار جاوید وہ شخص ہے جو ہر عہد میں برسرِ اقتدار رہتا ہے خواہ نون کی حکومت ہو ، پی پی کا پہرا ہو یا فوجی آمریت کا دور دورہ ہو ۔ اقتدار جاوید کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا اور ڈاکٹر مسعود انور کی تصویری مزاح نگاری کبھی تھم نہیں سکتی ۔ زندہ باد اے یارانِ خوش مزاج ، زندہ باد ۔

اقتدار کو فارسی شاعری سے بھی عشق ہے  اور وہ ایک مشاق غوطہ خور کی طرح فارسی کے شعری سمندر سے قیمتی موتی نکال نکال کر فیس بُک کے ساحل پر بکھیرتے رہتے ہیں ۔ ان دونوں دوستوں کی صحبت میں دن کا ایک پہر بڑی خوش اسلوبی سے گزرا اور میں نے میر کو یاد کیا کہ :

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

افسوس ، تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

چنانچہ دوبارہ ملنے اور محفل سجانے کی امید پر محفل کی بساط لپیٹ دی گئی ۔ ڈاکٹر مسعود انور اور اقتدار جاوید صاحب کا بھلا ہو کہ اُن کے دم سے لاہور میرے لیے چالیس برس پہلے کے پاک ٹی ہاؤس میں تبدیل ہو گیا تھا ۔ تو دوستو! آج کی سبھا سماپت ہوئی ۔ خُدا حافظ !

اتنے میں بچوں نے شور مچایا کہ ماڈل ٹاؤن میں دستکاری کی نمائش ہے جہاں مجھے بھی ساتھ جانا ہوگا ۔ ہاتھ سے بنی ہوئی اشیا پنجاب کی روایت کا لازمہ رہی ہیں ، اور میں ہاتھوں کے جادو کو ہمیشہ احترام سے دیکھتا اور پسند کرتا ہوں ۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ جوہر ٹاؤن سے ماڈل ٹاؤن کتنی دوری پر ہے۔ ہم جس گاڑی میں بیٹھے تھے وہ اچھلتی کوتی ، چوکڑیاں بھرتی گاڑیوں کے گھنے جنگل کے بیچوں بیچ فراٹے بھرتی چلی جا رہی تھی ۔اور پھر ہم نمائش گاہ پنہچ گئے ۔ بڑا جدید قسم کا ماحول تھا ۔ لوگ اپنے اپنے ذوق کے مطابق اشیا کی تلاش میں تھے اور کچھ لوگ میرے سفید بالوں پر ٹی وی کے کسی چہرے سے مماثلت کا گمان کر کے روک روک  کر مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ آپ وہ ہیں نا ؟ اور میں کہتا کہ میں وہ نہیں ہوں مگر وہ مجھے "وہ" سمجھنے پر مصر تھے ۔ وہ کون ۔ مجھے کیا پتہ ۔

میں بھی کسی سوغات کی تلاش میں تھا لیکن نہیں ملی ۔ نہ کوئی منفرد قسم کی ٹوپی ، نہ کرتا نہ مفلر ۔ تو  بچوں نے مجھے چپس کا سٹال دکھایا تو ہم سب نے آلوؤں کے قتلے خریدے اور بیٹھ کر بچوں کی طرح چٹخارے لینے لگے ۔( جاری ہے )