عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کی فون پر بات چیت، امن کے لئے کام کرنے کے عزم کااعادہ
- سوموار 06 / مئ / 2019
- 5250
وزیراعظم پاکستان عمران خان سے افغانستان کے صدر اشرف غنی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے اپنے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھا کر علاقائی روابط کو بڑھانے، سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے حقیقی اقتصادی قوت استعمال کرنے، غربت کے خاتمے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے افغانستان سمیت خطے میں امن، سیکیورٹی اور خوشحالی سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر نے افغانستان اور خطے میں دو طرفہ تعلقات مضبوط کرنے اور امن کی بحالی کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب بسنے والے عوام کی خاطر ملکی قیادت کا مقصد قیامِ امن، معاشی سرگرمیوں کا فروغ اور خطے کی خوشحالی کے لیے روابط میں اضافے کے لیے مدد کی جانی چاہیے۔
وزیراعظم پاکستان نے یہ بھی کہا کہ ’گزشتہ کئی دہائیوں میں طویل عرصے سے جاری افغان تنازع نے کابل کو شدید نقصان پہنچایا اور اسلام آباد بھی اس سے بُری طرح متاثر ہوا‘۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغان تنازع کا پر امن حل افغان شہریوں کی قیادت میں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے افغان صدر کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان، افغانستان میں قیامِ امن اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات قائم کرنے میں ہر ممکن کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔
پاکستان کے وزیراعظم نے مشترکہ مفادات سے متعلق معاملات پر جامع تبادلہ خیال کرنے کے لیے افغان صدر اشرف غنی کو ایک مرتبہ پھر دورہ پاکستان کی دعوت دی۔ افغان صدر کے دورہ پاکستان کی تاریخ مشترکہ مشاورت کے بعد طے کی جائیں گی۔
وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر کے درمیان حالیہ بات چیت افغان سرحد سے دہشت گرد حملے کے 4 روز بعد ہوئی، حملے میں سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف 3 پاکستانی فوجی شہید ہوئے تھے۔