پاکستانی دلہنوں کا استحصال کرنے والے چینی گروہ کے خلاف کریک ڈاؤن
- منگل 07 / مئ / 2019
- 5550
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے پاکستان میں سرگرم چینی باشندوں کے ایک گروہ کو ان کے مقامی ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ہے اور بڑی سطح پر کریک ڈاون شروع کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا ہے اور آئندہ چند روز میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ اس گروہ سے پاسپورٹ، جعلی نکاح نامے اور کئی شناختی کارڈ، غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی ہے۔ اس گروہ کا ٹارگٹ چھوٹے شہروں کے پسماندہ علاقوں کے غریب والدین کی بچیاں تھیں۔
ایف آئی کے افسر جمیل خان میو نے بتایا ہے کہ انہیں فیصل آباد کی ایک خاتون نے درخواست دی کہ ان کی بیٹی کو وانگ ہو نامی چینی لڑکا شادی کر کے لاہور لے گیا اور وہاں سے چین لے جانا چاہتا ہے جبکہ وہ اس سے ملاقات بھی نہیں کرنے دے رہا اور فون پر بھی بات نہیں کرنے دیتا۔ انہوں نے درخواست کی کہ ان کی بیٹی کو آزاد کرایا جائے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی کے مطابق انہوں نے دو دن میں اس لڑکی کا سراغ لگایا۔ معلوم ہوا کہ چینی باشندے نے لڑکی کو علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کے قریبی علاقہ رہائشی میں رکھا تھا۔ جب ایف آئی اے کی ٹیم نے وہاں چھاپہ مارا تو دو چینی لڑکے اور فیصل آباد کی لڑکی سمیت ایک اور لڑکی بھی بازیاب ہوئی۔ مزید چھان بین کی تو معلوم ہوا پوری گلی چینی باشندوں کی رہائش گاہوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے کرائے پر حاصل کی ہیں۔
ان دونوں چینیوں کو گرفتار کرکے تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ ان کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے جو گزشتہ تین سال سے پاکستان کے مختلف شہروں میں لڑکیوں سے شادی کر کے چین سمگل کرنے کا کاروبار کر رہا ہے۔
جمیل خان نے بتایا کہ ان کی نشاندہی پر فیصل آباد، منڈی بہاءالدین، گوجرانوالہ اور لاہور کے مختلف علاقوں سے ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا جس میں آٹھ چینی باشندے شاؤمل ہیں۔
پاکستان سے تین سالوں میں مبینہ طور پر سینکڑوں لڑکیوں کو شادی کر کے جسم فروشی کے لیے چین لے جا کر عیاشی کے اڈوں میں رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔ حکام کے مطابق سینکڑوں پاکستانی لڑکیاں چین میں وحشیانہ جنسی تشدد کا شکار ہیں، جب کہ بعض لڑکیوں کے اعضا نکالنے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔
عالمی سطح پر جسم فروشی کا دھندہ کرنے والے آٹھ چینی باشندوں ایک پادری سمیت 12 افراد مختلف شہروں سے گرفتار کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
جمیل خان میو کے مطابق اب تک کی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ یہ گروہ مسلمان اور مسیحی مذہب کی لڑکیوں سے چینی لڑکوں کی شادیاں کراتا تھا۔ ایک ایک لڑکے کی کئی لڑکیوں سے شادی کرائی گئی۔
مسیحی لڑکیوں سے چینی لڑکوں کو مسیحی ظاہر کرکے نکاح کرانے کے لیے پادری اور مسلمان لڑکیوں سے شادی کے لیے چینی لڑکے کو مسلمان ظاہر کر کے نکاح خواں کے ذریعے نکاح کرایا جاتا تھا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی نے بتایا اب تک کی تفتیش کے مطابق اس گروہ نے ایک سال میں 36 لڑکیوں کو چین بھجوایا جبکہ تین سالوں میں مختلف گروہوں کے ذریعے شادی کا ڈھونگ رچا کر تین سے چار سو تک لڑکیاں چین بھجوانے کے شواہد ملے ہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ کچھ جرائم پیشہ چینی باشندے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کا ڈھونگ رچا کر ان کے والدین کو پیسے دے کر چین لے جاتے ہیں جہاں اُن سے مبینہ طور پر جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی باشندوں کے اس کاروبار کا شکار زیادہ تر اقلیتی اور غریب لڑکیاں ہیں۔