استنبول میں بلدیاتی انتخاب دوبارہ کروانے کا حکم

  • منگل 07 / مئ / 2019
  • 6640

ترکی کے الیکشن انتظامیہ نے اپوزیشن کے امیدوار کے جیتنے کے بعد صدر طیب اردوان کی جماعت کی جانب سے درخواست دائر کرنے پر استنبول کے میئر کے انتخابات دوبارہ کروانے کا حکم دے دیا۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سپریم الیکٹرول بورڈ کی جانب سے استنبول کے نتائج کالعدم قرار دینے کے فیصلے نے صدر طیب اردوان کی طاقت اور ترک جمہوریت پر گرفت کے حوالے سے خدشات پیدا کردیے ہیں۔  صدر طیب اردوان کے اعلیٰ معاون نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کے سب سے بڑے شہر کے میئر کا انتخاب کالعدم قرار دینا ’ترک جمہوریت کی فتح‘ ہے۔

یاد رہے کہ 31 مارچ کو ہونے والے میئر کے انتخاب میں اپوزیشن ریپبلکن پیپلز پارٹی کے اکریم امام اوغلو نے بہت قریبی مارجن سے حکمران جماعت کے امیدوار، سابق وزیراعظم بن علی یلدرم کو شکست دی تھی۔  ترکی کے خبررساں ادارے اناطولو ایجنسی کے مطابق سپریم الیکٹورل بورڈ نے امام اوغلو کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرتے ہوئے نئے انتخابات 23 جون کو کروانے کا حکم دیا ہے۔

31 مارچ کو ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی وجہ کے حوالے سے بورڈ کا کہنا تھا کہ ’کچھ پولنگ اسٹیشنز کے سربراہ سرکاری افسران نہیں تھے جیسا کے قانون میں لازم ہے‘۔ مذکورہ فیصلہ سامنے آنے پر علی بن یلدرم نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس سے استنبول کے لیے بہترین اور فائدہ مند نتائج سامنے آئیں گے۔

دوسری جانب استنبول میں ہزاروں حمایتیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام اوغلو نے الیکٹورل بورڈ پر اردوان کی پارٹی کی دھمکیوں اور دباؤ کے سامنے جھک جانے کا الزام عائد کیا۔

پولیس نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں الیکٹورل بورڈ کے مرکز کے اطرف رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں تاہم فوری طور پر کسی احتجاج، مظاہرے کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ ترکی میں 31 مارچ کو مقامی انتخابات کا انعقاد ہوا تھا جس میں صدر طیب اردوان کی جماعت کو نہ صرف استنبول بلکہ انقرہ  میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور یوں 25 سال بعد جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کو دھچکہ لگا تھا۔

استنبول میں شکست صدر طیب اردوان کے لیے اس لیے بھی سخت ہزیمت کا سبب ہے کیوں کہ ان کے سیاسی عروج کا آغاز اِس شہر کے میئر کی حیثیت سے ہوا تھا جو ملک کا صنعتی اور ثقافتی مرکز ہے۔ انتخابات سے قبل ریلیوں میں صدر طیب اردوان نے متعدد مرتبہ یہ کہا تھا کہ ’جو استنبول جیتے گا وہ ترکی جیتے گا‘ اور جو ’استنبول ہارے گا وہ ترکی ہارے گا‘۔

استنبول کی آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے اور یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع ہے جس سے اس کی جغرافیائی اہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔