صحافی سمیت 5 افراد پر فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا الزام
- منگل 07 / مئ / 2019
- 5560
کراچی پولیس نے مبینہ طور پر فرقہ وارانہ قتل میں ملوث ہونے پر معروف اردو اخبار سے منسلک صحافی سمیت 5 افراد کو گرفتار کرنے کیاہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل شرقی امیر فاروقی نے پریس کانفرنس میں گرفتار ملزمان کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کے نام سید مطلوب حسین (رپورٹر روزنامہ جنگ)، سید عمران حیدر زیدی، وقار رضا، محمد عباس اور سید محتشم ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مطلوب حسین کو بیرونِ ملک سے تربیت لینے اور ایک سرکاری ویب سائٹ سے شخصیات کی فہرست ڈاؤن لوڈ کرکے غیر ملکی افراد کو دینے کا الزام ہے جو ممکنہ طور پر ان کی ٹارگٹ کلنگ کرسکتے تھے۔ مطلوب حسین حال ہی میں اس وقت خبروں کی زینت بنے تھے جب ان کے اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں گھر سے حراست میں لیا گیا ہے۔ جس پر متعدد میڈیا اداروں نے ان کی پراسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ڈی آئی جی نے دعویٰ کیا کہ خفیہ ایجنسیوں کے مطابق کچھ لاپتہ افراد، جن کے اہلِ خانہ گذشتہ چند روز سے صدر مملکت عارف علوی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کررہے ہیں، بھی ریاست مخالف کارروائیوں میں ملوث پائے گئے اور پڑوسی ملک اور فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کے حوالے سے ان کی تفتیش جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ لاپتہ افراد میں شامل کچھ افراد نے ممکنہ طور پر گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوشی اختیار کرلی ہو۔ ڈی آئی جی امیر فاروقی کا کہنا تھا کہ ملزم سید عمران علی عرف علی 2015 اور 2017 میں پڑوسی ملک گیا تھا جہاں اس نے ’نیشنل گارڈز‘ سے 2 مرتبہ 25 دن کی عسکری اور معلومات جمع کرنے، ہتھیاروں کو استعمال کرنے، نگرانی اور نگرانی سے بچنے اور لوگوں کی ریکی کرنے کی تربیت حاصل کی۔
ڈی آئی جی کے مطابق عمران زیدی نے 28 سے زائد افراد کی ریکی کرنے کا اعتراف کیا جس میں 7 کو محمد عرف چھوٹا گروپ نشانہ بنا چکا ہے۔ میڈیا افراد کی مبینہ بھرتی کے حوالے سے پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ عمران زیدی نے گروپ کے دیگر اراکین کو میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرتی اور پڑوسی ملک میں تربیت کی ذمہ داری دی تھی۔
عمران زیدی کے خلاف 2 ایف آئی آر درج کی گئیں جس میں سے ایک میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ محمد عباس کے بارے میں ڈی آئی جی نے بتایا کہ وہ ملیر کے علاقے جعفر طیار کا رہائشی تھا اور عمران گروپ کا سرگرم کارکن تھا اور اس نے بھی تربیت کے ساتھ مختلف افراد کی ریکی کی تھی، محمد عباس کے خلاف 3 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔
وقار رضا فیڈرل بی ایریا کا رہائشی اور پیامِ ولایت اسکاؤٹس کا سرگرم رکن تھا اور نوجوانوں کو پڑوسی ملک لے کر جاتا تھا اور پیامِ ولایت اسکاؤٹس کے لیے فنڈز جمع کرنے میں بھی ملوث تھا۔ وقار رضا کو 2 مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق سید محتشم گلستانِ جوہر کے علاقے حسین ہزارہ گوٹھ کا رہائشی تھا اور اس نے پڑوسی ملک سے 2 مرتبہ معلومات اکٹھی کرنے، ہتھیار اور دھماکا خیز مواد استعمال کرنے، نگرانی اور نگرانی سے بچنے اور لوگوں کی پروفائل تیار کرکے ریکی کرنے کی تربیت حاصل کی۔
ڈی آئی جی کے مطابق محتشم نے مطلوب عرف اویس کو گروپ میں شمولیت اور تربیت حاصل کرنے کے لیے پڑوسی ملک جانے پر آمادہ کیا۔
سلمان فارسی کے رہائشی صحافی مطلوب حسین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سید محتشم حیدر نے مطلوب کو بھرتی کیا اور اس نے پڑوسی ملک سے 18 روز کی تربیت حاصل کی۔ ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ ملیر پولیس کی جانب سے کی گئی ان گرفتاریوں کے علاوہ پولیس کے شعبہ انسدادِ دہشت گردی نے بھی 15 اپریل کو 6 مبینہ ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا جن کا تعلق کالعدم تنظیم سپاہ محمد سے تھا۔
دوسری جانب شیعہ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی نمائندگی کرنے والی کمیٹی نے پولیس کے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ٹارگٹ کلر اور سہولت کار ظاہر کیے گئے، یہ افراد گزشتہ کئی ماہ سے لاپتہ تھے۔