تزکیہ نفس اور رمضان!
- تحریر شیخ خالد زاہد
- منگل 07 / مئ / 2019
- 8340
سب سے پہلے عالم ِاسلام کوخصوصی طور پر پورے پاکستان کو رمضان کریم کی دلی مبارکباد۔ رمضان کا رحمتوں اور برکتوں کا مبارک مہینہ ہے یہ وہ ماہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں ہر نیک عمل کا ثواب دس گنا بڑھا دیا جاتاہے۔
ایک طرف دنیاوی کاروبار کے اعتبار سے رمضان بہت اہم ہوتا ہے اور مخصوص کاروباری اہداف حاصل کئے جاتے ہیں تو دوسری طرف عبادات کے حوالے سے رمضان کی اہمیت کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ یہ وہ ماہ مبارک ہے کہ جس میں ہر شخص کو اس کے کاروبار سے فائدہ ہی ہوتا ہے اب وہ نا شکری کا مرتکب ہو تو یہ اور بات ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اے ایمان والوں!تم پر روزے فرض کردئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی ہوجاؤ (البقرہ ۳۸۱)۔
اللہ رب العزت اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم متقی ہوجائیں تاکہ وہ ہمیں جنت میں اعلی مقام دے سکے۔ ماہ رمضان تربیت کا مہینہ ہے۔ حقیقت میں رمضان کا مہینہ دیگر مہینوں میں جانے انجانے سرزد ہونے والی کوتاہیوں اور گناہوں سے نجات مانگنے کا ہے۔ رمضان وہ ماہ مبارک ہے کہ جس میں باقی پورا سال گزارنے کی تربیت دی جا تی ہے۔ہر ایک نیک عمل اپنے اندر عبادت چھپائے ہوئے ہے اور ہر عبادت کا انعام بھی بڑھا چڑھا کر دیا گیا ہے۔
یوں تو رمضان کے روزے فرض ہیں لیکن کیا روزے کی فرضیت صرف کھانا پینا چھوڑ دینے سے پوری ہوجاتی ہے؟ کیا روزے دار کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سحری سے افطار یعنی فجر سے مغرب تک کچھ نہ کھائے پئے؟دراصل یہاں بھی روح اور جسم کامعاملہ ہے کوئی کسی کے روزے کی گواہی دینے کا مجاز نہیں ہے کیوں کہ یہ تو سراسر اللہ اور اس کے بندے کے درمیان راز کا معاملہ ہے۔ وضو کرتے ہوئے حلق سے پانی کا نیچے نہ اترنے دینا اللہ اور بندے کہ درمیان تعلق کی گواہی ہے۔ اللہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتے ہیں، یہ ایک ایسا تعلق ہے جس کی حقیقت سے ہر شخص بخوبی سمجھتا ہے۔ہمارے رب نے ہماری خطاؤں پر کیا خوب پردہ رکھا ہوا ہے۔
اللہ نے اپنے پیارے محبوب وجہ کائنات حضرت محمد ﷺ کی صورت میں پہلے ہی انسانیت پر احسانِ عظیم کیا اور اس سے بڑھا احسان مسلمانوں پر کیا، آپ کی حیات طیبہ جہاں رہتی دنیا تک کے انسانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ مسلمانوں کیلئے حتمی ضابطہ حیات ہے یعنی جو روزِ محشر شفاعت کا متمنی ہے وہ نبی پاک ﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہوجائے۔فرض کی ادائیگی بھی بغیر آپ ﷺ کی پیروی کے پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ فرض کیا ہے یہ بھی قران نے آپ ﷺ کے ذریعے سے ہی بتایا۔ گوکہ اسلام کو آفاقی ہونے پر کسی سے کوئی سند درکار نہیں لیکن اب دنیا اسلام کی امن پسندی اور افہام و تفہیم کے فلسفے سے بہت اچھی طرح سے روشناس ہوچکی۔
دنیا میں ہونے والے مذہبی تہواروں کے انعقاد سے قبل اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ اس مذہب کے امیر غریب ہر طبقے کے لوگ اس تہوار کو برابری کی بنیاد پر منائیں تاکہ کسی قسم کا احساس محرومی پیدا نا ہو اور خوشی کا موقع خوشی دئے بغیر ہی نہ گزر جائے۔ جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس دیکھنے میں آتا ہے جہاں کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور رمضان کے ماہِ مبارک میں مہنگائی کو جیسے پرلگ جاتے ہیں۔ جوچیز عام دنوں میں دس روپے کی ہوتی ہے رمضان میں وہی چیز پچیس سے تیس روپے کی ہوجاتی ہے
رمضان رحمتوں، برکتوں کا مہینہ ہے لیکن اس کی اہمیت پورے سال کے کاروباری معاملات سے منسلک کردی جاتی ہے۔ اس بات سے کوئی انکارنہیں کہ کاروبار بہت ضروری ہے لیکن لوگوں کی کھال اتار کر بیچنے کا درس کہاں سے ملتا ہے۔ چلیں آپ عبادت کو وقت نہیں دے پارہے چلیں آپ روزے نہیں رکھ پارہے لیکن یہ کیا کہ آپ کاروبار میں بھی عبادت کے کسی پہلو کو پکڑ لیں ہوسکتا ہے کہ اس پہلوکی نسبت آپ کو اللہ تعالی انعام سے نوازدیں۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:’جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے اپنے کردار و گفتا ر میں جھوٹ نہ چھوڑے، تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں‘۔مذکورہ حدیث تو روزہ دار کیلئے ہے۔ بغیر روزہ کے جھوٹ بولنے والے سے اللہ کی ناپسندیدگی کا اندازہ کرلیجئے۔ ذرا دنیاوی فائدے سے باہر نکلیں۔
ہمیں ایک اور موقع ملا ہے کہ ہم اپنے آخری سفر کیلئے کچھ رسد جمع کرلیں، پتہ نہیں یہ آخری موقع ہو۔ہم ہمیشہ رمضان کا حق ادا کرنے کا عہد بھی کرتے ہیں اور بےشک ہمارا رب ہمیں نیکی کا سوچنے پر ہی اس کا اجر دیتا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ ہم لوگ عملی طور پر اپنے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔ آج ہرطرف تبدیلی تبدیلی کی باتیں ہیں۔ کوئی مذاق میں کررہا ہے تو کوئی حقیقی طور پر برسر عمل ہے۔ لیکن یہ سمجھ لینا چاہئے کہ بغیر اسلامی اقدار کے نفاذ کے کسی بھی قسم کی تبدیلی عارضی اور واجبی ہوگی۔ رمضان شروع ہوچکا ہے۔ اللہ نے ہمیں ایک بار پھر یہ موقع دے دیا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو سنوار لیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے سر جھکا دیں
آج معاشرہ انتہائی نفسا نفسی کا شکار ہوچکا ہے، حقیقت میں غربت نہیں بڑھ رہی بلکہ ہماری ضروریات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ہم اپنی عملی زندگیوں میں تبدلی کو یقینی بنانے کا تہیہ کرلیں اور جہاں تک ممکن ہوسکے ایک دوسرے کیلئے آسانی پیدا کریں۔ جھوٹ نہیں بولیں گے، غیر ضروری نفع نہیں کھائیں گے، ایک دوسرے کیلئے ہر ممکن آسانی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے ۔
کسی نے خوب کہا ہے کہ جھوٹ بولنے سے مال تو بک جاتا ہے لیکن برکت چلی جاتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سچ بول کر کم بیچ لو لیکن اپنے رزق میں برکت لے لو۔ اپنی خواہشات اور اپنے نفس کو قابو میں رکھنا ہے۔ ہمیں احساس ہونا چاہئے کہ یہ رمضان ہمارے لئے کتنی بڑی رحمت و نعمت ہے اور نعمتوں کی ناقدری خسارہ ہی خسارہ ہے۔اللہ تعالی ہمیں اس ماہِ رمضان سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہمیں دوسروں کیلئے آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائیں۔